سفیرامن سفیرنور کے سنگ تحریر: امداد علی گھلو علامہ عارف الحسینی

سفیرامن سفیرنور کے سنگ تحریر: امداد علی گھلو علامہ عارف الحسینی

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی وفات کے بعد تحریک کے آئین ودستورالعمل کے تحت کثرت رائے سے مجلس عاملہ (ایک روایت کے مطابق سپریم کونسل) اور مرکزی کونسل کے مشترکہ اجلاس بتاریخ ۱۰/فروری ۱۹۸۴ء قصر زینبؑ بھکر میں عالم باعمل اوراجتماعی سوچ کے مالک سفیر نورحضرت علامہ عارف حسین الحسینیؒ مذکورہ کونسلز کی مکمل حمایت اور اعتماد کے بعد قائد مرحوم کے جانشین منتخب ہوئے ۔ (تحریک کے دستور کی ارتقائی تاریخ، سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ، نقل از ماہنامہ تحریک،صفحہ۳۱،جنوری ۱۹۹۶؛ سفیرنور،ص۹۱، اشاعت دوم۱۹۹۸)

تاریخ جن چیدہ چیدہ کوہ پیکر انسانوں کو فراموش نہیں کر سکتی( اس لئے کہ وہ تاریخ کے دھارے پر نہیں بلکہ تاریخ ان کے دھارے پر سفر کرتی ہے)سفیرنور علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ انہی گنتی کے افراد میں سے ایک تھے۔ آپ درحقیقت مکتب اہل بیتؑ و کربلا کے تربیت شدہ، امت اسلامی کے دردمند رہبر،محروم و مستضعف عوام کی نجات کے داعی، اسلام کی حکیمانہ تعلیمات کے عارف، سب مسلمانوں اور سب طبقوں کے حقوق کے ترجمان، استعماری و استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے سپہ سالار اور معاشرتی گتھیوں کو سلجھانے کی بصیرت رکھنے والے اسلامی مفکر تھے۔

قائد شہیدؒ نے اپنے پہلے تنظیمی کنونشن ہی میں ملک بھر کے نمائندوں کے سامنے اعلان کر دیا:

“ہماری تین حیثیتیں ہیں، ہم مسلمان بھی ہیں، شیعہ بھی ہیں اور پاکستانی بھی ہیں؛ مسلمان کی حیثیت سے ہم اسلام اور عالم اسلام کے امور سے دور نہیں رہ سکتے، شیعہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں اپنے مکتب کا تحفظ کرنا ہے اور پاکستانی ہونےکی حیثیت سے ہمیں اپنے وطن پاکستان کے مسائل میں بھی دلچسپی لینا ہے۔” (علامہ عارف الحسینیؒ اسلامی شخصیات کی نظرمیں،صفحہ۹)

حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی، قائدشہیدؒکے دور قیادت میں اس عظیم تحریک میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور آپ کی انہی اجتماعی اورسیاسی خدمات کے پیش نظر قائدشہیدؒنے بھی آپ کواپنا قریبی مشاوراورسینئرنائب صدرکے طور پر انتخاب کیااس طرح سے علامہ سیدساجدعلی نقوی قائدشہیدکے قریبی اوربااعتمادساتھیوں میں سے تھے آپ پاکستان کے اندرہونے والے تمام تر دورہ جات میں عموماً قائد شہیدؒکے شانہ بشانہ ساتھی رہے ۔

مورخہ ۲۵ جولائی ۱۹۸۴ء کو قائد شہیدؒ نے مندجہ ذیل اراکین پر مشتمل ایک “دستور کمیٹی” بنائی کہ تحریک کے آئین کو جدید تقاضوں کے تحت ترمیم کرنے کے لئے اپنی سفارشات مرتب کرے۔

۱۔ علامہ سید ساجد علی نقوی (کنوینئر) ۲۔علامہ حافظ ریاض حسین نجفی(رکن) ۳۔علامہ شیخ محسن علی نجفی(رکن) ۴۔علامہ رضی جعفر نقوی (رکن) ۵۔ علامہ محمد جواد صاحب (رکن) ۶۔ سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ (رکن) ۷۔ڈاکٹر محمد علی نقوی (رکن) ۸۔سید امام علی شاہ کاظمی (رکن) ۹۔سید امداد حسین ہمدانی (رکن) ۱۰۔سید مصطفیٰ حیدر نقوی (رکن) ۱۱۔ اعجاز رسول نگری ایڈووکیٹ (رکن) ؛ (تحریک کے دستور کی ارتقائی تاریخ، سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ، نقل از ماہنامہ تحریک،صفحہ۳۱،جنوری ۱۹۹۶ء)

۶جولائی۱۹۸۵ء کو تحریک کے صوبائی صدرعلامہ یعقوب علی توسلی کے اعلان پر کوئٹہ میں”معاہدہ اسلام آباد” کی یادآوری کے لئے اجتماع کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں موجود نہتے عوام پر پہلے سے تعینات پولیس نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں کچھ مومنین شہید ،کئی زخمی اور کئی گرفتار ہوئے۔ (سفیر نور ،ص۱۰۹، اشاعت اول ۱۹۹۴ء) اسی اثنا میں حکومت نے فوراً ہی اسیران کوئٹہ پر مقدمات مکمل کر لئے۲۲۸/افراد کا مارشل لاء عدالت میں چالان بھیج دیا گیا۔(ایضاً،ص۱۲۲) حکومت اسیران کوئٹہ کی رہائی اور دیگر مطالبات تسلیم کرنے میں مسلسل ٹال مٹول کرتی رہی جب پرامن مطالبات مظاہرے اور دیگر اقدامات سے مسائل حل نہ ہو سکے تو علامہ سید عارف حسین الحسینی نے آخری قدم اٹھایا اور لانگ مارچ کا اعلان کردیا؛ اس لانگ مارچ کی مسئولیت علامہ سید ساجد علی نقوی کو سونپی گئی؛ سفیرامن کی قیادت میں ایک وفد کوئٹہ پہنچا تو بلوچستان کے گورنر ریٹائرڈ جنرل محمدموسیٰ نے سفیر امن کو مذاکرات کی دعوت دی؛ ان مذاکرات کا سلسلہ دو روز تک جاری رہا؛ اسی دوران ملک میں ایک حساس کیفیت برقرار رہی۔ آخر۲۲/اپریل کی شام کو حکومت نے تحریک جعفریہ کے تمام مطالبات تسلیم کئے؛ اسیران کی فوری رہائی اور ان کے خلاف مقدمات واپس لے لینے کا وعدہ کیا جس کا ریڈیو، ٹیلی ویژن پر باقاعدہ اعلان کیا گیا۔(سفیرنور،ص۱۲۳۔ ۱۲۴)

بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شمولیت کے حوالے سے ایم آر ڈی کے اکابرین نوابزادہ نصراللہ خان ، راؤ عبدالرشید ملک، محمد قاسم اور سید افضل حیدر سے تحریک جعفریہ کا وفد جوعلامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، علامہ آغا علی موسوی، سید وزارت حسین نقوی اور ڈاکٹر محمد علی نقوی پر مشتمل تھا، نے گفت و شنید کی۔(سفیرنور،صفحہ۲۴۷، اشاعت دوم۱۹۹۸)

اہل حدیث کے قائد علامہ احسان الہی ظہیر نے شریعت بل کے مسئلہ پر ضیاحکومت کے خلاف قیام کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں ، شعلہ بیاں تقاریر اور دلائل کی بدولت نہ صرف حکومت کو ناکوں چنے چبوائے بلکہ اسی تحریک میں انہوں نے اپنی بکھری ہوئی اہلحدیث کی طاقت کو یکجا کرنے اور متحرک کرنے کا معرکہ بھی سر کر لیا۔علامہ احسان الہی ظہیر کا آمریت کے خلاف بے باک رہنما کی حیثیت سے آگے آنا بھی آمر حکمرانوں کیلئے ناقابل برداشت امر تھا۔اس لئے انہیں ۲۳ مارچ ۱۹۸۶ ء کو قلعہ لچھمن سنگھ لاہور کے ایک جلسہ میں بم کا نشانہ بنایا گیا۔یہ قتل اس وقت ہوا جب شریعت بل کی جنگ عروج پر تھی اور فرقہ واریت کا اژدھا پھن پھیلائے ملکی استحکام کو نگلنے کی کوشش میں تھا۔ اس قتل سے حکمرانوں نے جہاں ایک مضبوط مخالف سے اپنی جان چھڑائی وہاں یہ قتل ملت جعفریہ کے کھاتے میں ڈالنے کی بھر پور کوشش بھی کی تا کہ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا ملے ۔ پھروہی ہوا جس کا منصوبہ اسلام دشمن طاقتوں نے بنایا ہوا تھا کہ اس کا اثر چند اہل حدیث برادران پر ہوا کہ جمعیت اہل حدیث کے نئے قائد پروفیسر ساجد میر جیسے دانشور نے بھی ملت جعفریہ پر اس قتل کا الزام عائد کر دیا۔﴿ تسلیم رضا خان ،سفیر نور صفحہ ۱۶۴۔۱۶۳ ﴾

شہید حسینی(رح) نے لاہور میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے برملا فرمایا :

“علامہ احسان الہی ظہیر اور ان کے رفقا کے بہیمانہ قتل میں ملت جعفریہ کے کسی رکن کا تعلق نہیں ۔یہ مہذب افراد کی کاروائی نہیں بلکہ آمر کا انداز ہے”۔

آپ نے مزید فرمایا :

“شریعت بل کے مسئلہ پر علامہ سید ساجد علی نقوی سے علامہ صاحب﴿ احسان الہی﴾ کی ملاقات ہمارے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوئی تھی ہماری اس ہم آہنگی سے جہاں ہمیں شریعت بل کے خلاف متحد ہونے کا اطمینان تھا وہاں مستقبل میں فرقہ واریت کے ختم ہونے کی امید بھی تھی”۔ ﴿سفیر نور صفحہ ۱۶۴ ﴾

پیروان مکتب اہل بیت علیہم السلام کے حقوق کے تحفظ کی بات ہو، اتحادبین المسلمین کا میدان ہویا سیاسی پیچیدگیوں سے گزرنے کا مرحلہ ہو ایک امین مشاورکے طورپرقائدشہیدؒکے ساتھ مکمل تعاون کیا۔یہی وجہ تھی کہ قائد شہیدؒ نے ہمیشہ تحریک کے اہم اورسخت امورعلامہ سید ساجد علی نقوی کوہی سپردکرتے رہے۔چاہے وہ تحریک نفاذفقہ جعفریہ کی آئین سازی کا اہم کام ہو ، کوئٹہ کے اندرتحریک کے کارکنان پرحکومت کی طرف سے عائد کردہ ظلم ،قتل وغارت اورجوانوں کوپس زندان ڈالنے کے کیس کی نظرداری کرناہویا١٩٨٨ء میں عیدالفطرکے موقع پرگلگت میں شیعیان حیدرکرارؑ کے خلاف ہونے والی شیعوں کے قتل عام کے خون کی ہولی ” جس میں کچھ قصبہ ودیہات ویران ہوگئے تھے ”کی دیکھ بھا ل یاپاکستان کی شیعہ قوم کی تقدیرکے فیصلے کے اعلان کے لئے قرآن وسنت کانفرنس کے دوران پیش ہونے والے سیاسی منشورکے تدوین کامرحلہ ہواس قسم کے اہم امورقائدملت جعفریہ حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی ہی کی سرپرستی میں انجام پائے۔

تحریک کی مرکزی کابینہ کا ۲۸/اپریل ۱۹۸۷ء کو راولپنڈی میں اجلاس ہوا جس میں متفقہ طور پر حجۃ الاسلام علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب کوقرآن و سنت کانفرنس کا کنوینئر مقرر کیا گیا۔(سفیرنور،صفحہ۲۲۸، اشاعت اول۱۹۹۴ء)

اپریل۱۹۸۷ءچنیوٹ کے اجلاس میں منشور کمیٹی کا تعین کیا گیا اور اس کمیٹی کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ اس وقت کی گئی پیشرفت کی جمع آوری کرے اور منشور کو حتمی شکل دے تاکہ اسے قرآن و سنت کانفرنس میں قوم کے سامنے پیش کیا جائے اس منشور کمیٹی میں درج ذیل افراد شامل کئے گئے۔

۱۔علامہ سید صفدر حسین نقوی ۲۔ علامہ سید ساجد علی نقوی (کنوینئر) ۳۔علامہ شیخ محسن علی نجفی ۴۔علامہ سید شرف الدین موسوی ۵۔ سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ ۶۔ سید تصور حسین جعفری ۷۔ایم ایچ حسنی ۸۔مسعود مہدی ۹۔ ثاقب نقوی (تحریک کا سیاسی سفر،ثاقب نقوی،صفحہ۵۰، تاریخ اشاعت ۱۷ /اکتوبر ۱۹۸۷) ۱۰۔سید شمیم عباس بخاری ۱۱۔سید علی نقی۔ (سفیر نور،صفحہ۲۵۲، اشاعت دوم)

۶جولائی ۱۹۸۷ء کا سورج طلوع ہوا تو مینار پاکستان کا منظر دیدنی تھا؛ قائد شہیدؒ اپنے قریبی رفقا علامہ سید ساجد علی نقوی اور علامہ سید فاضل حسین موسوی کے درمیان کرسی پر براجمان ہوگئے۔ لاکھوں لوگوں نے جب اسٹیج پر ان تینوں سید زادوں کا حسین منظر دیکھا تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے “خدا انہیں نظر بد سے محفوظ رکھے” (سفیر نور،ص۲۳۱، اشاعت اول)

قائدملت جعفریہ حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے مکتب تشیع کے ملک گیر ”قرآن وسنت کانفرنس لاہور ” کے عظیم اجتماع کو کامیابی سے ہمکنارکرانے کے لئے قائدشہیدکے ساتھ شب وروزمحنت کی جس کے نتیجہ میں ملک کی عظیم اورطاقتورشیعہ قوم ،ملک کے سیاسی میدان کا حصہ بن کر ابھری،قرآن وسنت کانفرنس میں پیش ہونے والاسیاسی منشوراورسیاسی اعلان جوقائدشہیدکی حسرتوں اور امیدوں کاشمع تھاجسے مینار پاکستان کے سائے میں جلایاگیااوراس سیاسی شعورکےدیا کے جلاتے وقت علامہ سیدساجدعلی نقوی نے قائدشہیدسے عہد وفا کیا تھا کہ مرتے دم تک آپ کی اس سیاسی اوراجتماعی تحریک کی حفاظت کروں گا اگر آپ کی اس امانت کی حفاظت میں مجھے سختیاں،تلخیاں ںسہنی پڑیں، اسیری وقیدخانوں کی صعوبت آزارواذیت دیکھنی پڑیں یااس عظیم ذمہ داری کوپوراکرنے میں زبانوں کے تیرونشتربرداشت کرنے پڑے یا کسی قریبی ساتھی اورعزیزکی قربانی دینی پڑی تواس کے لئے بھی ہمہ وقت آمادہ وتیاررہوں گالیکن آپ کا یہ اٹھایاہوا سیاسی علم جھکا ہے نہ جھکنے دوں گا۔اس عزم و وفاکے ساتھ ہمیشہ اپنے قائدکے ہمرزم اور ہمفکر رہے یہاں تک کہ مکتب تشیع کے اس عظیم قائدکوظلم وبربریت کا نشانہ بناکرشہیدکردیاگیا ۔آپؒ کی شہادت سے فقط شیعہ مسلمانوں میں صف ماتم نہیں بچھی بلکہ ہر وہ شخص عزادار ہوا جس کی زندگی سیاسی حیات اور قومی سالمیت سے وابستہ تھی۔

ڈاکٹر محمد علی نقویؒ جب جیل سے رہا ہوئے تو قائد شہیدؒ کے چہلم کا اعلان ہو چکا تھا اور اس وقت کے قائم مقام صدر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی لائحہ عمل تیار کر رہے تھے۔ آپ جیل سے سیدھا مدرسہ “آیت اللہ الحکیم” راولپنڈی چلے گئے اور علامہ سید ساجد علی نقوی کو شہید قائد کاپرسہ دیا۔(سفیر انقلاب،ص۱۳۷)

قائدشہیدؒکی شہادت کے بعد آئین کی شق نمبر۱۴کے تحت (تحریک کے دستور کی ارتقائی تاریخ، سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ، نقل از ماہنامہ تحریک،صفحہ۳۱) ۴ستمبر1988ء کوہونے والے تحریک کے اعلیٰ اختیاراتی ادارے مرکزی اور سپریم کونسل کے اراکین نے قریب بالاتفاق آراء سے حضرت علامہ سیدساجدعلی نقوی کوقوم کے لئے قائدمنتخب کیا۔﴿یاد وارہ علامہ شہید سید عارف حسین الحسینی صفحہ ۹۴۔۹۵ ﴾اس دن سے لے کر آج تک قائدشہیدکی راہ کے راہی ہیں اوراسی ہدف ومقصدکے تحت ملک کی سالمیت ،قومی وقارکی سربلندی اوراپنے مکتب کے دفاع میں عظیم کامیابیاں حاصل کیں ۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کہتے ہیں:

“ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستانی عوام حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت میں اس عظیم شہیدؒ کی راہ کو جاری رکھیں گے ؛الحمدللہ وہ اس خلا کو پُر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔” (علامہ عارف الحسینیؒ اسلامی شخصیات کی نظر میں، صفحہ۴۹،سال اشاعت۱۹۹۰)

آقای ہاشمی لولنجی (افغانستان) اپنے مقالہ “شہید حسینیؒ، امام خمینیؒ کی نظر میں” لکھتے ہیں:

“خدا سے بے خبر باطل خیال لوگوں کو یہ گمان نہیں تھا کہ شہیدحسینیؒ کا خون مسجد میں بہانے سے معارف اسلامی، کوفہ کی مسجد کی طرح مسلمانوں کی زیارت گاہ بن جائے گا اور ان کی شہادت کے بعد خالص محمدیؐ اسلام کا پرچم حسینیؒ ثانی حضرت سید ساجد علی نقوی اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے اس شہید کے راستے کو اسی انداز سے جاری رکھیں گے۔ یہ ایک واقعیت ہے کہ شہیدحسینیؒ کی شہادت کے بعد پاکستان کے بہادر شیعوں کے علامہ سید ساجد علی نقوی جیسے رہبر کے انتخاب سے استعمار پھر مایوس ہو گیا۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستانی شیعوں نے اس عظیم کام کے انجام دینے سے شہید حسینیؒ کے تفکر کو زندہ رکھنے کے لئے بہت بڑا قدم اٹھایاہے۔” (علامہ عارف الحسینیؒ اسلامی شخصیات کی نظر میں،صفحہ۱۰۰۔۱۰۱)

حجۃ الاسلام آقای شیخ علی ایمانی (حوزہ علمیہ قم) کے خطاب سے اقتباس ملاحظہ ہو:

“آپ (پاکستانیوں) سے میری اپیل ہے کہ کسی طرح بھی اتحاد و وحدت کو اپنے ہاتھ سےنہ جانے دیں۔ اب خدا نے آپ کو شہیدحسینیؒ کے بعد ایک انتہائی با صلاحیت اور مخلص قائد عطا فرمایا ہے آپ لوگ ہمیشہ قائد موجود کی حمایت میں کوشاں رہیں تا کہ دشمن اسلام اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہ ہونے پائے۔” (ایضاً،صفحہ۸۲)

سفیرامن علامہ سید ساجد علی نقوی نے اپنے شہید قائدؒ کے مقدمہ کی پیروی میں کوئی کسر نہ چھوڑی انہوں نے حکومت کی عدم دلچسپی اور زیادتیوں کے خلاف بڑے بڑے احتجاج کئے۔ (سفیر نور، ص۴۱۷، اشاعت اول۱۹۹۴ء)

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے فرمایا:

“ہم شہید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے دائر کردہ مقدمہ کی پُرزور حمایت کرتے ہیں۔” (علامہ عارف الحسینیؒ اسلامی شخصیات کی نظر میں،صفحہ۲۴)

۳۰ستمبر۱۹۹۱ء کو علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ شہید کی تیسری سالانہ برسی مینار پاکستان پر لاہور کے سائے تلے منائی گئی جس میں ملک بھر سے لاکھوں افراد نے شرکت کی اور حکومت سے زبر دست احتجاج کیا۔ (سفیر نور، ص۴۱۹، اشاعت اول۱۹۹۴ء)

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان نے کئی بار وزیراعلیٰ صوبہ سرحد(خیبرپختونخوا) آفتاب شیر پاؤ اور صدر مملکت غلام اسحاق خان کو علامہ عارف حسین الحسینیؒ شہید کے مقدمہ کی یادداشت پیش کیں مگر ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔آخر ملک بھر کے علمائے کرام نے پشاور میں بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت تحریک کے صدر نے کی۔علما کے اس پرامن مظاہرہ پر حکومت سرحد نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور متعدد علما کے خلاف سنگین مقدمات بنائے۔ (سفیر نور،ص۴۳۱،اشاعت دوم)

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان جو۱۹۹۰کے انتخابات کے سلسلہ میں پیپلزپارٹی سے الحاق کر کے (پی ڈے اے) پیپلز ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم پر موجود تھی اسے اسلامی جمہوری اتحاد کی مخالفت سے دیگر مسائل کے علاوہ شہید عارف حسین الحسینیؒ کے مقدمہ کے سبوتاژ ہونے کا خدشہ زیادہ لاحق تھا لہذا انھوں نے ہر حوالہ سے حکومت پر اپنا دباؤ جاری رکھا۔ (ایضاً،ص۴۳۲)

فضل حق نامعلوم افراد کے ہاتھوں اپنے گھر کے قریب قتل ہو گیا توعلامہ سید ساجد علی نقوی اور انور علی آخونزادہ سیکرٹری جنرل تحریک جعفریہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ فضل حق کے قتل میں سفیر امن کو الجھانے کا مقصد قائد شہیدؒ کے مقدمہ سے ان کی توجہ کو منتشر کرنا تھا۔(سفیر نور،ص۴۱۹، اشاعت اول)

پاکستان کی سیاست میں ایک بار بھونچال آیا کہ سپریم کورٹ نے معزول وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی کابینہ کو بحال کردیا۔ حکومت کی بحالی نے علامہ سید عارف حسین الحسینیؒ کے مقدمہ کے لئے خدشات پیدا کر دیئے جس کے ضمن میں ۲۸جون کو علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایک اعلیٰ وفد کے ساتھ وزیراعظم محمد نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں ملت جعفریہ کی پریشانی اور جذبات سے آگاہ کیا۔(سفیر نور،ص۴۲۷، اشاعت اول)

ملت جعفریہ پر کاری ضرب لگانے والوں کا خیال تھا کہ علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید ؒکے پرستار کوئی جذباتی قدم اٹھا کر ملک کا نظام درہم برہم کریں گے مگر علامہ سید ساجد علی نقوی کی مدبرانہ قیادت نے بروقت طوفانی حالت کو سنبھالا اور انہوں نے حسب معمول قانون کے تقاضوں اور ملک کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کی زنجیر عدل کو جھٹکا دیا۔ (سفیر نور، ص۴۲۸، اشاعت اول)

جناب رانا زبیر صاحب سفیرامن کی اتحاد و وحدت کے لئے کوششوں کا اعتراف اس طرح کرتے ہیں:

“علامہ حسینیؒ کے قتل کے بارے میں اگرچہ بعض لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ شیعہ برادری میں ایسا ردعمل نہ پیداہوجائے جس سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہو جائے لیکن شیعہ برادری اور تحریک جعفریہ کی قیادت نے ایک بارپھر کمال ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ قیادت فرقہ وارانہ فسادات کروانے والوں کو بار بار ناکام بناتی رہی ہے اور اس نے کبھی طیش اور جنون کو پھیلنے کا موقع نہیں دیا۔” (شہید حسینی اسلامی شخصیات کی نظر میں،ص۱۴۴۔۱۴۵)

اتحادبین المسلمین اسلام کی حکمت اورآج کے دورکی اہم ضرورت ہے یہی سبب ہے کہ قرآن وسنت نے ہمیشہ اسے اہمیت کی نگاہ سے دیکھاہے اورہمارے ائمہ معصومینؑ ، علما ومجتہدین کی سیرت بھی یہی رہی ہے اسی اہمیت کے پیش نظر اتحادبین المسلمین ہمارے مرکزی پلیٹ فارم کا منشورا ور ہمارے قائدین بالخصوص قائدشہیدکی میراث رہی ہے لہذا قائد ملت جعفریہ اتحادبین المسلمین کے بانی اور اسلام کی سربلندی کے لئے ہرقسم کے سیاسی و مذہبی اتحاد میں پیش قدم رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ تحریک نفاذفقہ جعفریہ کانام بدل کرتحریک جعفریہ رکھاتاکہ ملک کی مختلف سیاسی مذہبی تنظیموں سے بہتراندازمیں افہام وتفہیم ہوسکے مگرجہاں اتحادکےبانی و داعی رہے ہیں وہاں اپنے مکتب کے اصولوں کے بھی پابندرہے ہیں اورکبھی بھی اپنے مذہب اورمکتب پرکوئی آنچ آنے نہ دی۔ ایک مرتبہ جب مختلف مکاتب فکرکی موجودگی میں کسی اہم اسلامی نکتہ پرگفتگومقصودتھی اورقائدملت جعفریہ بھی اپنے مکتب کی نمائندگی میں وہاں موجودتھے اپنے مکتب کے تحفظات کے پیش نظر قائدملت جعفریہ نے شیعہ مذہب کی تبیین اورکھل کرواضح وعیاں ذکرکرنے کامطالبہ کیاتوایک شیعہ مخالف اورمتعصب گروہ کے سرکردہ نمائندہ نے کہاکہ ہم شیعوں کومسلمان ہی نہیں سمجھتے کہ ان کایہاں ذکر کیاجائے ۔ان کے انہی الفاظ کے ساتھ قائدملت کے الفاظ تھے :

” لعنت ہو تم پراورتمہاری اس کمیٹی پر”

ان الفاظ کے ساتھ قائدملت جعفریہ واک آؤٹ کرتے ہوئے باہرنکل آئے ۔اسی طرح ایک مرتبہ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے عروج کے دنوں جب پورے پاکستان میں شیعو ں کاقتل عام ہورہا تھا توہمارے ہی ایک بزرگ نے قائدملت کومشورہ دیتے ہوئے عرض کیاکہ اہل سنت کے علما سے تحریرلی جائے کہ شیعہ بھی مسلمان ہیں اوران کاجان ومال اسلامی نکتۂ نگاہ سے محترم ہے۔! قائدملت نے ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے فرمایا:

“خبردار یہ بات آج کی ہے پھرکبھی نہ کرنا؛ قرآن میرے جد امجد پرنازل ہواہے اسلام کے بانی ومحافظ میرے اجدادہی تھے، اسلام نے ہمارے آباء واجدادکے گھر میں پرورش پائی ہے اورآج میں جاکراپنے مسلمان ہونے کی سنداہلسنت کے علماسے حاصل کروں۔(ہیہات منّاالذلّہ)” (مخزن العلوم ملتان سالانہ جلسہ کے خطاب سے اقتباس)

اورجہاں ضرورت پڑی سینہ تان کربرملاآوازمیں کہاکہ میں نہیں مانتا۔۔۔ فلاں کو۔۔۔ احترام متقابل اپنی جگہ محفوظ مگرمذہبی تشخص اوراصولوں پر کبھی سودا بازی نہیں کی جاسکتی۔

اگر ہم انبیا اور ائمہ علیہم السلام کی حیات طیبہ کا بغور مطالعہ کریں تو یہ بات واضح اور آشکار نظر آتی ہے کہ کسی نے نمرود کی آگ میں کود کر تو کسی نے سولی پر چڑھ کر، کسی نے ہجرت کر کے تو کسی نے مسند خلافت پر بیٹھ کر، کسی نے صلح کا راستہ اختیار کر کے تو کسی نے تپتے صحرا میں پورے خاندان کی قربانی دے کر کسی نے دعا کے ذریعے تو کسی نے علم و حکمت کے خزانے لٹا کر، کسی نے اجتہاد کے راستے دکھا کر تو کسی نے ولی عہدی قبول کر کے الغرض ایک سے ایک طریقے سے اپنے اعلیٰ و ارفع ہدف کے حصول کے لئے انتھک کوشش و سعی فرمائی آدم سے خاتم اور امام اول سے امام زمانؑ تک سب کا مقصد اور منزل ایک ہی تھی مگر روش اور طریقے زمانے اور حالات کے مطابق مختلف تھے۔

دنیابھرمیں انہی کے سچے پیرکاروں نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے اپنی ساری زندگیاں اسی اعلیٰ ہدف کی خاطر وقف کر دیں؛ پاکستان میں قائد مرحوم مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ نے بنیادی حقوق کے لئے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر، قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی نوراللہ مرقدہ نے تشیع میں بیداری کی لہر پیدا کر کے، شہید ضیاءالدین رضویؒ نے نصاب کی تحریک کے ذریعے، شہید حسن ترابیؒ نے اتحادووحدت کے میدان میں قائدملت کا دست و بازو بن کر اور قائد موجود نے سیاست اور وحدت کے میدان میں “تختی” سے شروع ہونے والے سفر میں گلگت و بلتستان میں شیعہ حکومت کے قیام اور پھر متحدہ مجلس عمل اور ملی یکجہتی کونسل کے اِحیا تک۔

ڈاکٹر علی اکبر ولایتی اپنے مقالہ شیعیان منطقہ میں لکھتے ہیں:

“پاکستان میں جس حد تک شیعہ آج جس طرح ہے برصغیر میں نو مسلم حکمرانوں کے سقوط کے بعد اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ ایک بنیادی تبدیلی ہے جو چند چیزوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

۱۔ تشیع کی طاقت

۲۔شیعہ ہی متحدہ مجلس عمل کو متحرک کرنے میں کامیاب ہوئے اور قاضی حسین احمد اور ساجد نقوی نے پاکستان کی پارلیمنٹ میں مجموعاً ۶۲نمائندے بھیجنے میں کامیاب ہوئے، جن میں شیعہ بھی تھے اور سنی بھی، جن کا تعلق مذہبی جماعتوں کے اتحاد سے تھا، اور اس سے قبل مسلمانوں (یعنی مذہبی جماعتوں) کے اتنے نمائندے پاکستان کی پارلیمنٹ میں نہیں گئے تھے اور مسلمانوں میں جو یہ اتحاد قائم ہوا ہے، یہ پاکستان میں تشیع کی سرگرمی کا بہترین نتیجہ ہے۔” (مجلہ’ العارف’لاہور، صفحہ۱۲،جولائی۲۰۱۱ء)

سفیرامن نے تکفیریت، فرقہ واریت، دہشتگردی، تحریک جعفریہ پر پابندی، فورتھ شیڈول اور قید وبند جیسے گوناگون مظالم برداشت کئے لیکن ملکی قوانین کی سختی سے پابندی کرتے ہوئے امن پسندانہ سیاسی روشیں اور طریقے اختیار کر کے اسی مقصد کو پانے کی کوشش کی جو انبیااور ائمہ علیہم السلام کا ہدف تھا یعنی “دنیا میں عادلانہ نظام کا قیام “چنانچہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

(( لَقَدْ أَرْسَلْنا رُسُلَنا بِالْبَيِّناتِ وَ أَنْزَلْنا مَعَهُمُ الْكِتابَ وَ الْميزانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْط))

بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہےاور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تا کہ لوگ عدل قائم کریں۔ (سورۂ الحدید، آیت۲۵)

پروردگارعالم نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیااور چار آسمانی کتابیں زمین پر عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے نازل فرمائیں پس قیام عدل ہی انبیاکی بعثت کا اولین مقصد ہے اور امام زمانہؑ بھی اسی مقصد کی تکمیل کے لئے ظہور فرمائیں گے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ عدل و انصاف صرف ایک علاقے یا خطے کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت ہے۔

مفتی جعفرؒ سید عارفؒ

ساجد ہیں دونوں کے وارث

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here