آئین کی پاسداری میں ہے پیغامِ یکجہتی

آئین کی پاسداری میں ہے پیغامِ یکجہتی

📝 امداد علی گھلو

ہر انسان کی ذاتی عزت و حرمت اور تمام انسانوں کے مساوی اور ناقابلِ انتقال حقوق کو تسلیم کرنا دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔ انسانی حقوق سے لاپروائی اور ان کی بے حرمتی اکثر ایسے وحشیانہ افعال کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن سے انسانیت کے ضمیر کو سخت صدمہ پہنچتا ہے، عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں انسانی حقوق کو قانون کی عملداری کے ذریعے محفوظ رکھا جائے۔ جب قانون کی حکمرانی کی نفی ہوتی ہے تو ناجائز طور پر قید و بند، تشدد اور ظلم و ستم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ عالمی سطح پر طاقتور ممالک جب اقوام متحدہ کے اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہیں تو چھوٹے ممالک جارحیت کا نشانہ بنتے ہیں۔ طاقتور ملک چھوٹے اور کمزور ممالک کو اپنے زیر اثر رکھنا چاہتے ہیں اور ان کا معاشی استحصال کرتے ہیں، اپنے قومی، معاشی اور نظریاتی مفادات کے لئے دوسرے ممالک پر نا جائز اقتصادی پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔
اسلامی سماج کے نظم و ضبط کا معاملہ ہو یا بنی نوع انسان کا ڈسپلن یا کسی ملک کا انتظام و انصرام یا کسی مذہبی وسیاسی جماعت کا انضباط ، ان میں سے کسی ایک میں جب آئین و قانون سے انحراف کیا جائے گا تو مشکلات ومسائل جنم لیں گے، حقوق غصب ہو جائیں گے۔ آئین، قانون اور اصول و ضوابط جیسے امور ہی کسی نظام میں توازن برقرار رکھ سکتے ہیں ، آئین کے ذریعے ہی مختلف طبقات کے بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کا تحفظ کیا جا سکتا ہے، ملک ترقی اور جماعتیں آگے بڑھ سکتی ہیں۔
جب ہم عالم اسلام کی مشکلات اور مسائل کا جائزہ لینا شروع کرتے ہیں تو اس کی جڑ بھی ایک آئین سے انحراف کو پاتے ہیں اور اس آئین کا نام غدیری آئین ہے، غدیر ایک واقعہ نہیں بلکہ آئین زندگی ہے۔ روزِ غدیر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آیہ ابلاغ کے ذریعہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کی خلافت اور جانشینی کے اعلان کا حکم دیا جو درحقیقت امام علی علیہ السلام کی عمومی بیعت کرنے اور آنحضرت سے لے کر امام مہدیؑ تک بارہ ائمہؑ کی اثباتِ ولایت و حاکمیّت، تحقّقِ امامت اور دین کے نظام حکومت کا اعلان تھا۔ اس اعلان کے بعد آیہ اکمال دین کے نزول کے ساتھ اسلامی آئین اور نعمتوں کے پورا ہونے کی نوید سنائی جاتی ہے لیکن افسوس کہ غدیری آئین کو چھپانے کی سر توڑ کوشش کی گئی، ہزاروں حیلے بہانے گھڑے گئے۔ اس آئین سے جب انحراف ہوتا ہے تو سقیفہ تشکیل پاتا ہے، خاتون جنت کے گھر کا دروازہ جلتا ہے، فدک چِھنتا ہے، شیرخدا کے گلے میں رسیاں ڈالی جاتی ہیں، کوفہ کی گلیاں قد قتل امیرالمومنین سے گونج اٹھتی ہیں، امام حسنؑ کی حکومت پر شب خون مارا جاتا ہے اور امام حسینؑ کو بہتر ساتھیوں سمیت کربلا میں شہید کر دیا جاتا ہے، زمانہ غیبت کا سبب بھی غدیری آئین سے انحراف قرار پاتا ہے، نائبینِ امام زمانہ کے خلاف نئے نئے محاذ کُھلتے ہیں اور ولایت کے نام پر نصیریت کا انجیکشن لگایا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر جب اقوام متحدہ کے اصولوں کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے تو فلسطین سالہا سال سے ظلم کی چکی میں پِستا رہتا ہے؛ افغانستان مَذبح خانہ بن جاتا ہے؛ عراق غارت ہو جاتا ہے؛ شام میں داعش داخل کر کے اسے تاراج کر لیا جاتا ہے؛ انقلاب اسلامی ایران پر اقتصادی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں؛ ماہہائے حرام میں یمن پر بمباری کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا؛ کشمیر جلتا ہے اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کی رفتار تیز کر دی جاتی ہے۔
پاکستان میں جب آئین کی بعض شقوں کو معطل کیا جاتا ہے تو نظریہ ضرورت وجود میں آتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی جاتی ہے، تکفیریت کو پروموٹ کیا جاتا ہے، لوگوں کا نا حق خون بہایا جاتا ہے، ڈیڑھ سو کے لگ بھگ لوٹے سیاستدان ہر حکومت سے تجوریاں بھرتے ہیں اور ماورائے احتساب شمار ہوتے ہیں، گلگت بلتستان سر زمین بے آئین پکارا جانے لگتا ہے و۔۔۔ الی ماشاءاللہ
شیعہ قومی تحریک کے آئین سے جب انحراف کیا جاتا ہے تو قائد شہید جیسی شخصیت کو ڈیڑھ سال اپنے آپ کو شیعہ اور عزاداری کا قائل ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں، ان کے مقابل پہ قیادت متعارف کرا دی جاتی ہے، جماعت کے آئین و دستور کو بالائے طاق رکھنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قائد موجود کی ناموس پر حملہ کر دیا جاتا ہے جس کی بابت مدافعینِ قیادت کو کہنا پڑ جاتا ہے کہ یار کسی کو مانتے ہو یا نہیں ایک آزاد مرد بن کر تو جیو۔ آزادی وہ اہم چیز ہے جسے ہر انسان پسند کرتا ہے، روزِ عاشور امام حسینؑ جب زخموں سے چور ہو کر گر پڑے تو یزیدی لشکر نے خیام کا رخ کر لیا، امام نے تاریخی جملہ فرمایا: “إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ دِينٌ وَ كُنْتُمْ لَا تَخَافُونَ الْمَعَادَ فَكُونُوا أَحْرَاراً فِي دُنْيَاكُم‏” اگر تمہارا کوئی دین نہیں ہے اور تم قیامت کے حساب و کتاب سے نہیں ڈرتے تو کم از کم اپنی دنیا میں آزاد اور جوانمرد رہو۔( بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص ۲۰۲؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۵، ص۴۵۰)
غدیری آئین سے انحراف کے نتیجے میں باب العلم کے مقابل میں نظریہ ضرورت کے تحت حیطان العلم، سقف العلم، اساس العلم کی شقیں سنائی دیتی ہیں اور امت امام کو حقِ خلافت سے محروم کرنے کے در پے ہوجاتی ہے اسی طرح پاکستان میں قومی تحریک کے آئین سے انحراف کی صورت میں اصولی، آئینی و قانونی قائد ملت جعفریہ کے مقابل نظریہ ضرورت کے تحت رسولِ پاکستان، رہبرمعظم پاکستان و۔۔۔ جیسی شقیں وجود میں آتی ہیں۔
عالمی سطح کی بات ہو، ملک یا کسی جماعت کی؛ ہمیشہ آئین کی بالادستی کو چیلنج کرنے والے، زیر دست بنانے والے اور روندنے والے ہی زیر سوال رہے ہیں۔ اتحاد بین الناس و المسلمین و المومنین کے خواہاں اگر عالم انسانیت کو ایک ڈسپلن اور حقوق کا تحفظ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں تو یوم غدیر سے لے کر اب تک ہر سطح کے آئین کی پاسداری کرنا ہو گی کیونکہ اس میں ہی یکجہتی کا پیغام ہے۔ “مَن ُکنت مَولاہُ فھذا علیٌ مَولاہ”

مفتی جعفر، سید عارف
ساجد ہیں دونوں کے وارث

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here