سامراج کے دباﺅ میں ہونے والا معاہدہ امت پر وار اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے
سامراج کے دباﺅ میں ہونے والا معاہدہ امت پر وار اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے

سامراج کے دباﺅ میں ہونے والا معاہدہ امت پر وار اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے، علامہ سید ساجد علی نقوی
فلسطین فلسطینوں اور کشمیر کشمیریوں کا ہے کی پالیسی کو اپنا کر اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے۔ علامہ ساجد نقوی
قائداعظم کی غاصب اور غیر قانونی ریاست کو تسلیم نہ کرنے سوچ کو ہی پالیسی کی بنیاد قرار دیا جائے۔ قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی/ اسلام آباد 16 اگست 2020 ( جعفریہ پریس پاکستان )قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ فلسطین اہل اسلام کا دیرینہ اور فسطینی عوام کا بنیادی شہری حقوق کا مسلہ ہے سامراج کے دباﺅ میں معاہدہ امت مسلمہ پر قاری ضرب لگانے اور فلسطینی عوام کے بنیادی شہری حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہون نے سامراج کی سرپرستی میں ہونے والے ایک معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔
قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے نہ صرف مسئلہ فلسطین کی اصل روح، برس ہا برس سے جاری مظلوم فلسطینی عوام کی نسل کشی، فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضے، اور مقامی عوام کے محکوم بنا کر جبر و استبداد سے ان کے حقوق کی پامالی کو یکسر نظرانداز کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ معاہدہ سامراج کی جانب سے قابض ظالم گروہ کی حاکمیت کو مظلوم فسطینی عوام پر ٹھونسنے کی مذموم کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں طفیلی ریاست بننے کی بجائے ایک مضبوط نظریاتی ریاست ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒکے دو ٹوک اعلان کے مطابق غاصب اور غیر قانونی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کی سوچ کو اپنی پالیسی کی بنیاد بنانا چاہیے۔ اور اسی پالیسی کے تحت کشمیر کشمیریوں کا اور فلسطین فلسطینوں کے موقف کو اپنا کر ہر دو اقوام کی سیاسی، اخلاقی، اور سفارتی حمایت جاری رکھن چاہیے۔
قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے دیرینہ مسائل کو ہر دو کے عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے جبکہ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ مظلوم فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول اور بیت المقدس کی آزادی تک فلسطینی عوام کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here