تحفظ بنیاد اسلام نامی ایکٹ کے قانونی وعلمی نقائص پر اعتراض اٹھائے ، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

تحفظ بنیاد اسلام نامی ایکٹ کے قانونی وعلمی نقائص پر اعتراض اٹھائے ، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی
متنازعہ ایکٹ کو لیکرملک میں کوئی اشتعال پیدا نہیں کیا اگر چاہتے تو تمام گروپوں کو جمع کرتے یا تحریک چلاتے ،قائد ملت جعفریہ
چور دروازے سے لائے گئے متنازعہ ایکٹ کا علمی اور قانونی جائزہ دستاویز کی صور ت میں سپیکر کے سامنے پیش کیا ۔
راولپنڈی /اسلام آباد 19 اگست 2020ء(   جعفریہ پریس پاکستان )قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک میں نافذ متعدد اسلامی قوانین کی موجودگی میں تحفظ بنیاد اسلام نامی متنازعہ قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے ایک بیان میں قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ تحفظ بنیاد اسلام بل پر اہل اسلام کے خود بنیادی تحفظات ہیں۔ اورہم نے بھی اس بل پر عوام کو اشتعال سے بچانے اور اس کو فرقہ واریت کا سبب بننے سے روکنے کیلئے قانونی، علمی و تیکنکی سقم اور نقائص کو مہذب انداز میں بیان کر کے اس متنازعہ ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تحمل و برداشت کے فروغ کیلئے مخالف نقطہ نظر کو سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ناگزیر ہے اور یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بل کی مخالفت کسی مسلک کے خلاف نہیں لہذا اس کو مسلہ بنا کر لوگوں کو ورغلا کر معاشرے میں جذباتی صورتحال پیدا کرنا اسلام کی کوئی خدمت نہیں۔ ا ±ن کا کہنا تھا کہ فروعی مسائل کو پہلے سے رائج قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ نت نئے قوانین کے ذریعے کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا۔ ملک میں پہلے مروجہ جامع قوانین پر عمدرآمد کے ذریعے اور ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہونے کی مسلسل اور مربوط کوششوں کے تحت صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ا ±نہوں نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث عجلت میں پاس کرنے کے خلاف عوام میں پائے جانے والے اشتعال کے باعث بھرپور تحریک چلائی جا سکتی تھی تاہم ملک کی پرامن فضاءکو برقرار رکھنا ہماری اولین ذمہ داری تھی اس لے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ا ±نہوں خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اور اس متنازعہ ایکٹ کو واپس نہ لیا تو یہ وطن عزیز پاکستان کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کے مترادف ہو گا۔ قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا کہ ہم نے اتحاد و وحدت کی خاطر تمام مسالک کے ساتھ فرقہ واریت کے خاتمے کی طویل جدوجہد کی ہے اور انتشار پیدا کرنے والے گروہوں کے مکرو عزائم خاک میں ملائے ہیں اور انشاءاللہ آئندہ بھی ایسے مٹھی بھر شر پسند عناصر کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ ا ±نہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وطن عزیز کی سلامتی اور بقاءپر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے تمام مسالک کے جید اور سنجیدہ علماءسے ملک کو انتہاءپسندی، فرقہ وارانہ سوچ، اور تشدد کو فروغ دینے والے ملک و اسلام دشمن عناصر کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئُے مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کی بھی اپیل کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here