لائحہ عمل و موقف آپ کو دیدیا گیا اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے قائد ملت جعفریہ

علماء و ذاکرین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا !عزیزان گرامی علماء کرام میں سب حضرات کو خوش آمدید کہتا ہوںبزرگان کی دعوت پر اور رہنما ٰ ئی پر آپ یہاں تشریف لائے یہ جو پروگرام منعقد ہوا انتہائی بروقت مناسب اور ضروری تھا کہ ایسا ایک مشاورتی پروگرام منعقد کیا جائے اس سے پہلے بھی ایسے مواقع پر ایسے پروگرام منعقد ہوتے رہے شاید آپکو یاد ہو میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مشاورت کے نتیجے میں جوپروگرام جو تجاویز و اقدامات طے ہوئے سامنے آئے کو شش کریں کہ اس پر عمل کریں تبھی یہ کانفرنس نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے یہ نہ ہو کہ نشستا گفتا و برخواستا اگر ہم اس سے نتیجہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ آپ سب کو بلایا گیا سب کی اپنی اہمیت ہے سب کی رائے کو اہمیت دی گئی اور اس کی روشنی میں قراردادیں بنائی گئیں اس کی روشنی میں بیانیہ بنایا گیا ہمیں اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے بڑے پر اعتماد انداز میں اور اپنے آپ کو سمجھتے ہوئے ان باتوں پر عمل کیجئے ،الحمد للہ تشیع کو اس ملک میں کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے موجودہ فتنہ جو اس وقت اٹھا ہے ایسے گتنے پہلے بھی اٹھتے رہے الحمدللہ ہم ان لمحات سے جیسے سرخ رو و سرفراز ہوکر گزرے اب بھی ایسا ہی ہوگا ناکام ہوگا فتنہ گر نامراد ہونگے ہم نے بہت واضح انداز میں یہ واضح کیا کہ تشیع ایک مکتب فکر ہے ایک نظریہ ہے تشیع قرآن و سنت کی اعلی و ارفع تشریح ہے بہت سی تعبیریں ہیں اس ملک میں ہم سب کو مانتے ہیں تشیع ایک روشن تعبیر ہے اور تسلسل کے ساتھ اس کا واضح و روشن چہرہ واضح ہوتا رہا تشیع کے پاس علمی ذخائر ہیں،علماء ہیں مجتہدین ہیں ۶ جولائی کو جو یوم نفاذ فقہ جعفریہ ہم مناتے ہیں اور جو کنونشن یہاں منعقد ہوا تھا اس کہ میں توجیہ یہ ہی کرتا ہوں کہ تشیع میں اسکالرز ہیں محققین ہیں مجتہدین ہیں ان کی تحقیقات سے ان کے علم سے ان کے استنباطات سے بھی آپکو استفادہ کرنا چاہئے یہاں بہت سے مکاتب فکر ہیں سب سے استفادہ کریں کسی کو نظر انداز نہ کریں ہم فخر کرتے ہیں اس بات پر کہ ہم اس ملک میں اتحاد و وحدت کے بانیوں میں سے ہیں اپنے عقیدے و نظرئے پر بڑی قوت کے ساتھ عزم کے ساتھ قائم رہتے ہوئے اتحاد و حدت کی ہم نے اس ملک میں بناء ڈالی ہم بانیوں میں سے ہیں پڑھ لیجئے متحدہ مجلس عمل جس میں ۵ بڑی دینی جماعتیں ہیں آج بھی موجود ہے غیر فعال ہے اس کا اعلامیہ اسلام آباد پڑھیں کس انداز میں ہم نے وحدت و اتحاد کو اجاگر کیا تشیع اس کا ایک حصہ ہے لمبی بات ہوجائے گی جب میں گرفتار ہوا تو اس وقت جہاں پوری دنیا سے اسلامی تحریکوں نے آواز اٹھائی تو پاکستان میں متحدہ مجلس عمل تھی جس نے میری گرفتاری پراسمبلی میں آواز اٹھائی حالانکہ جن کے الزام میں میری گرفتاری ہوئی وہ ان کے ہم مسلک بھی ہوں کسی حوالے سے مگر انہوں نے آواز اٹھائی ۱۹۹۵ سے ملی یکجہتی کونسل قائم ہے اس کے بھی ہم بانیوں میں سے ہیں گتنے اٹھتے رہے ہم فتنوں کا مقابلہ کرتے رہے اب بھی یہ فتنہ اٹھا ہے یہ بھی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا مگر اس کے لئے ظاہر ہے پریشان تو ہونا تھا اور اسکے لئے مشاور ت ہوئی اس کو آپ منطقی انجام تک پہنچائیں کوئی ذیادہ گھبرانے کی ضرورت نہیں میں نہیں سمجھ سکا یہاں کوئی ریفرنس کی بات کررہا تھا مجھے کسی عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں میں سول کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ کے بیسیوں فیصلے رکھتا ہوں جو تشیع کے حقوق کے حوالے سے آخری کنفرم فیصلے ہیں میں اب روکتا ہوں لوگوں کو عدالت جانے سے اگرچہ گرفتاری کے وقت مشکل ہوتا ہے لوگوں کے لئے میں کہتا ہوں کہ کسی کو ضمانت کرانے کی ضرورت نہیں نہ ضمانت نہ وکالت لیکن مشکل پیش آتی ہے کرنا پڑتا ہے بسا اوقات اس دفعہ میں بتادوں اس دور حکومت میں نوٹ کرانا چاہتا ہوں ایسی ایسی باتیں ہوئیں جو گزشتہ دور حکومت میں نہیں ہوئیں ،گھر میں کوئی شخص درود پڑھ رہا تھا یا اذان دے رہا تھا اس پر ایف آئی آر ہوئی کس کے ذمہ لگا یا یہ کام ؟ یہ بازو ہمارے آزمائے ہوئے ہیں ایسا مت کیجئے ہم اس ملک کے شہری ہیں ہمارے حقوق ہیں اور آئیں میں ہمارے حقوق موجود ہیں جو مسلم و غیر مسلم کی تعریف آئیں کے اندر موجود ہے اس کا سب سے بہتر مصداق میں ہوں غیر قانونی ہے مجلس عزا پر ایف آئی آر کرنا میں محاذ آرائی کا قائل نہیں ہوں میں رابطوں کا قائل ہوں پرامن احتجاج کا قائل ہوں یہ ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا ورنہ جتنا بڑا اجتماع ہم بلاسکتے ہیں کوئی نہیں بلاسکتا اسلام آباد متحمل نہیں ہوسکتا اس لئے میں ان باتوں کو نہیں چھیٹرتا آئین ہمارے حقوق تسلیم کرتا ہے اس لئے ہمیں فکر مند نہیں ہونا چاہئے لیکن یہ فتنے جو اٹھتے ہیں ان کو تدبر و حکمت سے حل کیا جاتا ہے توہین اہلبیت و صحابہ بعد میں یہاں توہیں الوہیت ہورہی ہے سب سے پہلے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اقدامات ہورہے ہیں ان کو اور منظم و بہتر کرنے کی ضرورت ہے ہمارا موقف بہت واضح ہے ہم کافر نہیں قرار دیتے کسی کو ہم توہین نہیں کرتے کسی کی ہمامرے مراجع واضح کرچکے تاریخ کو مناسب انداز میں بیان کرنا یہ ہمارا حق ہے خلیفۃ بلا فصل کہنا ہمارا حق ہے ہم متوجہ کررہے ہیں کہ ہمارے حقوق کا تحفظ کیا جائے اس سے مسائل پیدا ہونگے ملک کے لئے جو فتنہ انگیزی کررہے ہیں وہ گروہ ہیں تمام مکاتب فکر کے مستند لوگ ہمارے ساتھ ہیں میں اس کو بیرونی سازش نہیں سمجھتا میرے پاس ثبوت نہیں یہ مقامی مسئلہ ہے البتہ کچھ عناصر ہیں جو اس کو ہوا دے رہے ہیں اور کوئی پریشانی کی بات نہیں آپ کو موقف مل گیا لائحہ عمل گیا اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے یہ مشاورتی اجلاس ہے برابری ہے سب کی رائے میں البتہ حفظ مراتب کا خیال رکھا جائے رائے سب کی برابر ہے مگر حفظ مراتب کا خیال رکھا جائے میں متوجہ کرونگا اس طرف
اللہ ہم پر اپنی رحمتیں و برکتیں نازل فرما

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here