سید الساجدین زین العابدین امام علی ابن الحسین علیہ السلام کے یوم شہادت پر عالم اسلام سوگوار

حضرت امام سجاد علیہ السلام نےعاشورا کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم تحریک کی سنگین ذمہ داری سنبھالی اور اپنے پدر بزرگوار کے پیغام اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام انتہائی باکمال طریقے سے انجام دیا اور تحریک عاشورا کے مقصد اور اس کے بنیادی فلسفے کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں اجاگر کیا-

دعاؤں کی شکل میں آپ کی انسان ساز تعلیمات کو کتاب صحیفہ سجادیہ میں یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس وقت مسلمانوں کی انتہائی معتبر اور مقدس کتابوں میں سے ایک ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام، سن اڑتیس ہجری قمری میں مدینہ منورہ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کے القابات میں سید الساجدین اور زین العابدین زیادہ مشہور ہیں۔

کربلا کے واقعے کے بعد امام زین العابدین علیہ السلام نے فاسد و بدعنوان اموی خاندان کی حقیقت کو بےنقاب اور ثاراللہ علیہ السلام کے مقدس مشن کو صحیح اور سیدھے راستے کے طور پر متعارف کرا کے حسینی مشن کی تکمیل کا اہتمام کیا۔

آپ نے اپنی نرم و لطیف حکمت آمیز روشنی کے ذریعہ عاشورا کے پیغامات تاریخ بشریت میں جاوداں بنا دئے۔ امام زین العابدین علیہ السلام کو خدا نے محفوظ رکھا تھا کہ وہ واقعہ کربلا کے بعد کی اپنی 35 سالہ زندگی میں عاشورا کے سوگوار کے طور پر اپنے اشکوں اور دعاؤں کے ذریعہ اموی نفاق و جہالت کو ایمان و آگہی کی قوت عطا کرکے عدل و انصاف کی دار پر ہمیشہ کے لئے آویزاں کردیں۔

امام علیہ السلام نے ثابت کر دیا کہ اشک و دعا کی شمشیر سے بھی استبدادی قوتوں کے ساتھ کامیابی سے جہاد اور مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ظلم و عناد سے مرعوب بے حسی اور بے حیائی کے حصار میں بھی اشک و دعا کے ہتھیار سے تاریکیوں کے سینے چاک کئے جا سکتے ہیں اور پرچم حق کو سربلندی و سرافرازی عطا کی جا سکتی ہے ۔

چنانچہ آج تاریخ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کبھی کبھی اشک و دعا کی زبان آہنی شمشیر سے زیادہ تیز چلتی ہے اور خود سروں کے سروں کا صفایا کردیتی ہے۔

امام زین العابدین، سید سجاد، عبادتوں کی زینت، بندگی اور بندہ نوازی کی آبرو، دعا و مناجات کی جان، خضوع و خشوع اور خاکساری و فروتنی کی روح سید سجاد علیہ السلام جن کی خلقت ہی توکل اور معرفت کے ضمیر سے ہوئی، جنہوں نے دعا کو معراج اور مناجات کو رسائی عطا کردی، جن کی ایک ایک سانس تسبیح اور ایک ایک نفس شکر خدا سے معمور ہے، جن کی دعاؤں کا ایک ایک فقرہ آدمیت کے لئے سرمایۂ نجات اور نصیحت و حکمت سے سرشار ہے۔

آپ کو 25 محرم 95 ہجری کو ولید بن عبد المالک کے حکم سے زہر دے کر شہید کیا گیا تھا۔

آپ کو جنت البقیع میں حضرت امام حسن علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here