امام موسیٰ کاظم ؑ سخاوت ، صبر اورشجاعت کے مظہر تھے، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

امام موسیٰ کاظم ؑ سخاوت ، صبر اورشجاعت کے مظہر تھے، قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی امام موسیٰ کاظم ؑ نے دین کیخلاف پھیلائے گئے شہبات اور انحرافات کا مظبوط اوربہترین استدلال سے قلع و قمع کیا ، قائد ملت جعفریہ

امام موسیٰ کاظم ؑ نے معاشرے کے اصلاح کیلئے منصوبہ بندی کیساتھ اسی روش و طریقے پر اپنی جدوجہد کوجاری رکھا جو انکے والدگرامی کی تھی۔ راولپنڈی /اسلام آباد25ستمبر 2020ء( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 7صفر حضرت امام موسیٰ کاظم کے یوم ولادت کے موقع پر کہتے ہیں کہ امام موسیٰ کاظم ؑ سخاوت ، صبر اورشجاعت کے مظہر تھے اور امام ؑنے اپنے بچپن اور نوجوانی پر مشتمل تربیت کا زمانہ اپنے والدبزرگوار ؑ کے زیر سایہ گذارااور 20سال اپنے والد کے ہمراہ رہے ۔امام کے آغاز نوجوانی سے ہی نابغہ روزگار ہونے کے آثار ان کے کر دارو گفتار سے نمایاں اور سخاوت ، بردباری ، درگزراور علم انکی شخصیت کی نمایاں صفات حمیدہ شمار ہوتی ہیں ۔علامہ ساجد نقوی کا کہنا ہے کہ امام موسیٰ کاظم ؑ نے اپنے آباو اجداد کی سیرت و کر دار پر عمل پیرا ہو کر قرآن کریم کی حقیقی تفسیر ، اسلام کی تعبیر و تشریح اور اسلامی معارف کی روشن تصویر کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں امامت اور حاکمیت کے مسئلے کو واضح کیا اور اسی طرح عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کیلئے سعی و کوشش کی جس کی خاطر پیغمبر گرامی اور دیگر انبیائے کرام مبعوث ہوئے ۔ علامہ ساجد نقوی کا کہناتھاکہ امام کی زندگی سے ایک بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ کہ امام موسیٰ کاظم ؑ نے دین کیخلاف پھیلائے گئے شہبات اور انحرافات کا مظبوط اوربہترین استدلال سے قلع و قمع کیا اور انسانیت کیلئے ہدایت کے راستوں کو روشن اور واضح کر دیا ۔امام نے فضل بن یونس سے فرمایاکہ ”ابلغ خیراً و قل خیراً ،لوگوں تک خیر پہنچاﺅ اور خیر ہی کہو“ انہوں نے مزید کہاکہ حضر ت امام موسیٰ کاظم ؑ کی امامت کا آغاز ایک مشکل ترین زمانے میں ہوا ۔جلاوطنی اور مشکلات سے پُر مراحل میں بھی امام نے عزم و استقلال اور جرات و بہادری سے مصائب کا مقابلہ کیا ایسی شخصیات جو حالات کے مطابق معاشرے کی رہنمائی کیلئے دین کی تشریح اورحالات کے مطابق اسلامی معارف بیان کررہی ہوں اور معاشرے کی بہترین خدمت و سرپرستی کررہی ہوں انہیں کبھی جلاوطنی ، کبھی اسیری اور کبھی روپوشی جیسے حالات کا سامنا کر نا پڑتا ہے چناچہ ایک روایت کے مطابق ”ایک مدت تک امام موسیٰ کاظم ؑ مدینہ میں موجود ہی نہ تھے بلکہ شام کے گاﺅں و دیہاتوں میں گزر بسر کرتے رہے “۔علامہ ساجد نقوی نے آئمہ اطہار کی سیرت و کردار اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ا مام جعفر صادق نے معاشرے کی اصلاح کیلئے منصوبہ بندی کے ساتھ جس روش و طریقے پر اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہوا تھا اسی راستے پر امام موسی کاظم نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا۔ آخر میں علامہ ساجد نقوی کہتے ہیں کہ سخت و دشوار ترین دور میں بھی ضرورت مندوں اور محتاجوں کو امام ؑ نے فراموش نہیں کیا، زندگی میں مشکلات تو سبھی کے ہاں آتی ہیں لیکن امام ؑ کا عمل یہ بتاتا ہے کہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم مشکلات کے باجودمشکلات میں گھر جانے والے ضرورت مندوںا و ر محتاجوں کی مشکلوں کو آسان کرتے ہیں، لہذٰا ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے امام ؑکی سیرت پر عمل کرتے ہوئے غریبوں، محتاجوں اور ناداروں کا خیال رکھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here