عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل

 امام حسین ؑنے عظیم قربانی دیکر انسانیت کو بچایا، علامہ عارف واحدی
عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ،شہریوںکے جان و مال و عبادات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ،مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل
 عزاداری سید الشہداءہماری عبادات کا اہم جزو ہے جسے کسی صورت ترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے محدو کیاجاسکتاہے، میڈیا سے گفتگو
راولپنڈی /اسلام آباد 7اکتوبر2020ء (جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماءکونسل پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں چہلم سید الشہداءکے مرکزی جلوس میںبھر پور شرکت کی ۔ اس موقع پر شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ امام حسین ؑ نے عظیم قربانی دیکر انسانیت کو بچایا، عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ،عوام کے جان و مال و عبادات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، شہری آزادیوں پر پابندی کے مخالف ہیں، انہوں نے کہاکہ تاقیامت یہ اصول طے ہوگیا کہ حق کےلئے اٹھنے والی ہر آواز حسینیت کا پرچار کرے گی۔ شیعہ علماءکونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد میں علامہ غلام قاسم جعفری، علامہ سجاد حسین ہمدانی ،علامہ امیر حسین جعفری،علامہ سید ضیغم عباس نقوی ، علامہ ملازم حسین علوی ، علامہ ندیم عباس علوی ، علامہ کوثر عباس حیدری ، علامہ رضا محمد خان ، علامہ رضوان گردیزی، سید جاوید حسین نقوی ، سید نزاکت حسین نقوی ، ملک سلیم حیدر ، سید نیئر عباس نقوی ،سید ارسلان کاظمی ،آصف جاوید مغل ، سید فرید حسین شاہ ، سید محمود علی نقوی سید اسد عباس کاظمی ،سید منعیم حسین بقوی ، چوہدری عباس علی ، سید ذیشان حیدر شمسی ،سید ذیشان علی ، سید شجاع الحسن کاظمی اور محمد اکبر میر سمیت دیگر علمائے کرام وکارکنان موجود تھے۔۔ اس موقع علامہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ حضرت امام حسین ؑاور ان کے جانثار اصحاب ؓباوفا نے دین حق کی سربلندی کےلئے عظیم قربانی دی اور یزیدیت کو قیامت تک کےلئے رسوا اور شکست فاش دیدی ۔ انہوںنے کہاکہ عزاداری سید الشہداءہماری عبادات کا اہم جزو ہے جسے کسی صورت ترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے محدو کیاجاسکتاہے۔ انہوںنے کہاکہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان ومال اور عبادات کے تحفظ کو یقینی بنائے اور فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے لیکن سیکورٹی کے نام پر شہروں کو سیل کرنا اور شہری آزادیوں پر قدغن لگانا کسی صورت درست نہیں ہے۔عوام کی جلوس میں شرکت کےلئے مشکلات میں کمی اورآسانیاں فراہم کی جائیں تاکہ تمام مکاتب فکرو مسلک کے افراد نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد منا تے ہوئے جلوس عزا میں شریک ہوسکیں۔انہوںنے بتا یا کہ و فاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق کی زیر صدارت ہونے والے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے نما ئندہ علما ئے کرام نے ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق پر دستخط کئے ہیں ۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کریگا ، صرف مذہبی اسکالر ہی شرعی اصو لوں کی وضاحت مذہبی نظر یے کی اساس پر کریگا،کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرناعدالت کا د ائرہ اختیار ہے، اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا ا ستعمال، ریاست کیخلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائینگی، مقدس ہستیوں کی تو ہین نہیں ہوگی، فرقہ وا ریت کو فروغ دینے والوں کیخلاف سخت اقدمات کئے جا ئینگے امید ہے کہ اس سے فرقہ واریت کے خاتمے میں مدد ملے گی ۔آخر میں انہوںنے کہا امسال حکومت و انتظامیہ کی جانب سے عزاداری سید الشہدا پر قائم ناجائیزایف آئی آر ز فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں بلکہ ان مسائل کا حل مروجہ قوانین پر عملدرآمد میں مضمر ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here