پنجاب بھر میں عزاداران پر سے FIR ختم کی جائیں ورنہ احتجاج کرینگے

پنجاب بھر میں عزاداران پر سے FIR ختم کی جائیں ورنہ احتجاج کرینگے
پنجاب حکومت اور ذمہ دار انتظامی ادارے، شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق مت چھینیں،علامہ موسیٰ رضا جسکانی
حالیہ منظم تمام ایف آئی آرز جو شرکائے چہلم امام حسین علیہ السلام پر چاک کی گئی ہیں،فی الفور ختم کی جائیں۔
عوام کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے کسی لائحہ عمل پر مجبور نہ کیا جائے۔
بین الاقوامی اور ملکی قوانین لوگوں کے روڈ پر چلنے پر کوئی پابندی نہیں لگا تے۔
لہٰذا یہ ہر آدمی کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی مذہبی،ثقافتی، تفریحی یا سماجی پروگرام میں پیدل چل کر جائے یا سوار ہو کر۔
پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں چہلم امام حسین علیہ السلام میں شرکت کے لئے آنے والے عزاداروں پر منظم طریقے سے ایف آئی آرز چاک کرنا مسلکی نفرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جبکہ نہ تو کوئی راستہ یا سڑک بلاک ہوئی،نہ کوئی مذہبی نعرے بازی کی گئی اور نہ ہی کسی دوسرے مسلک کے پیروکاروں سے تصادم ہوا۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انتظامیہ خود ان ایف آئی آرز کی مدعی ہے۔اور دفاتر میں بیٹھے بیٹھے نام اکٹھے کر کے مقدمات بنائے گئے ہیں۔
اور ایف آئی آرز میں چھوٹے معصوم بچوں،کئی سال پہلے وفات پا جانے والے اور چہلم کے دن متعلقہ شہر سے سینکڑوں میل دور افراد کو اسی شہر میں دکھاکر ایف آئی آرز چاک کی گئی ہیں۔
ہم وزیر اعلیٰ پنجاب ، گورنر پنجاب،ہوم سیکریٹری صاحب پنجاب،انسپکٹر جنرل صاحب آف پنجاب، سپیکر صاحب اور ڈپٹی اسپیکر صاحب آف پنجاب اسمبلی،وزیراعظم پاکستان اور معزز عدلیہ کے تمام ذمہ داران کو متوجہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے تمام مقدمات فی الفور واپس لئے جائیں۔
اگر 48 گھنٹے تک کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here