شیعہ علماء کی مولانا شیرانی سے ملاقات مولانا عادل خان کی وفات پر تعزیت

ایک اہم اجلاس مولانا محمد خان شیرانی صاحب کے رہائش گاہ پر منعقد ہوا اجلاس کی صدارت مولانا محمد خان شیرانی صاحب نے کی اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا تلاوت کے بعد گزشتہ رات کراچی میں ممتاز عالم دین ڈاکٹر عادل خان شہید کے بلندی درجات کیلئے دعا کی گی اجلاس میں مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے نائب امیر مولانا عصمت اللہ سالم پرنسپل جامعہ امام صادق علامہ محمد جمعہ اسدی اسلامی تحریک کے صوبائی صدر علامہ اکبر حسین زاہدی مرکزی جمعیت اہلحدیث بلوچستان کے نجیب اللہ عابد و دیگر نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ پاکستان کے میں ہونے والے قتل و غارت گری کے پیچھے مذہبی قومی اور فرقہ وارانہ محرکات کار فرما نہیں ہوسکتے اس قتل و غارت گری کے پیچھے دنیا پر حکمرانی کرنے والا اقوام متحدہ کا ہاتھ ہے اور اقوام متحدہ دنیا کی چند طاقت ور حکومتوں کی رکھیل ہے اور یہ حکومتیں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئیے تیسری دنیا کی محکوم اور سیاست سے نا بلد اقوام کو جنگ کا اندہن بناتی ہیں دنیا کی ان مستبد طاقتوں کی لگائی ہوئی آگ سے اپنے دامن کو بچانا ہی اس وقت میری نظر میں افضل الجہاد ہے ہمیں معلوم ہے کہ فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں صرف ان فیصلوں پر عمل درآمد کے لئیے ہماری نام نہاد حکومتوں کو استعمال کیا جاتا ہے ایسی صورت حال میں ہماری شرعی ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام الناس کو باہمی اتحاد و اتفاق کی طرف بلاتے ہوئے دشمن کے مذموم مقاصد سے آگاہ کریں مولانا ڈاکٹر عادل شہید کی شہادت بھی عالمی مستبد طاقتوں کے مذموم مقاصد کی تکمیل کا شاخسانہ ہوسکتی ہے لہذا عوام الناس اتحاد و اتفاق کے دامن کو تھامتے ہوئے ملک کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے شہید مولانا ڈاکٹر عادل خان عالم اسلام کے ممتاز عالم دین تھے انکا قتل ایک بہت بڑا سانحہ ہے ہم حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو آئین و قانون کے تحت سخت ترین سزائیں دیکر ملک کو انتشار اور عدم استحکام سے بچائے بصورت دیگر ریاست پاکستان اور اس کے ذمہ دار اداروں پر انگشت نمائی کرنا ہمارا حق ہے عجیب بات ہے کہ امریکہ اپنے مجرموں کو دنیا کے کونے کونے سے ڈھونڈ نکال کر منطقی انجام تک پہنچا دیتا ہے اور ہماری حکومتیں اپنی ناک کے نیچے چھپے ہوئے مجرموں کو ڈھونڈ نکالنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی کیا ایسی حکومتوں کو ہم ویلفیئر حکومت کہ سکتے ہیں؟ اور کیا ایسی حکومتوں کو اپنے پبلک کی محافظ اور خادم حکومتیں قرار دی جاسکتی ہے؟ یا غیروں کے مفادات کی محافظ حکومتیں کہلانے کی مستحق ہونگی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here