اتحاد امہ کےلئے حضور اکرم اور نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہوگا،

 اتحاد امہ کےلئے حضور اکرم اور نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہوگا،قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی
 ہم وطنوں اور مسلمانوں کا ایک دوسرے کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ جیسا فریضہ نبھانا لازم، انتشار و افتراق، بدامنی تعصب اور تکفیر سازی کے ذریعے داخلی وحدت و سلامتی کے درپے عناصر سے اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا، قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام
 اسلام آباد15 اکتوبر 2020ء (جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی کہتے ہیںکہ پیغمبر گرامی کی ذات بابرکت امت مسلمہ کے درمیان وحدت و اخوت اور بھائی چارے کا مرکز و محور ہے جبکہ نواسہ پیغمبر اکرم حضرت امام حسن ؑ کا مصالحانہ اقدام نہ صرف ا سلامی اقدار کے فروغ اور تحفظ کا با عث ہ بلکہ مسلم امہ کےلئے امن و آشتی اور صلح کا تاریخی اقدام ہے اتحاد و وحدت کا نقطہ ا ٓغاز ہے لہٰذ ا امت واحدہ کےلئے قرآنی تصور کو عملی طور پر اجاگر کرنے کےلئے عالم اسلام اور خاص طور پر اسلامیان پاکستان کو ان دو محترم و برگذیدہ شخصیات کے سیرت و کردار کو مشعل راہ بناتے ہوئے معمولی نوعیت کے جزوی اور فروغی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے سیکڑوں مشترکات پر عمل پیرا ہوکر مثالی اسلامی معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بنانا ہوگا اور ایسے عناصر سے اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا جو وطن عزیز میں انتشار و اتفراق ، بدامنی، تعصب اور تکفیرسازی کے ذریعہ داخلی وحدت و سلامتی کے درپے ہیں، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کے جان ومال، عزت و آبرو کا تحفظ جیسا اہم فریضہ نبھانالازم و ناگزیر ہے ۔
خاتم النبین ، رحمت اللعالمین کی رحلت اورنواسہ رسول اکرم حضرات امام حسن ؑ کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں قائد ملت جعفریہ پاکستا ن علامہ سیدساجد علی نقوی کہتے ہیں پیغمبر خاتم کی جانب سے دعوت حق کےلئے سختیاں، مصیبتیں اور مصائب تو برداشت کئے گئے لیکن اخلاق حسنہ ، اعلی انسانی اوصاف و کمالات ، مہرومحبت ، علم و حکمت ، تدبر و تحمل ، صبر و شکر، عدل و انصاف ، اخوت و بھائی چارگی، مخلوق خدا کی خدمت اور حقوق انسانی جیسے فرائض کی انجام دہی سے رہتی دنیا تک کےلئے ضابطہ حیات متعین کیاگیا، اس اسوئہ حسنہ کی تقلید سے ہی امت مسلمہ سربلندی و سرفرازی اور درجہ کمال حاصل کرسکتی ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ اور تحفظ کےلئے نواسہ پیغمبر حضرت امام حسن ؑ کے علم، حلم،جلالت ، کرامت میں عکس رسول نظر آتاہے ان کا دور امامت انتہائی کٹھن اور مشکل حالات سے دوچار رہاتاہم دین اسلام کے تحفظ اور شناخت کو مضبوط بنانے کےلئے امام حسن ؑکے باعظمت و بھرپور مصالحانہ اقدامات مشعل راہ ہیں، اعتراضات اور تنقید کے جواب میں فرمایا”تمہیں کیا معلوم شاید یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہو اور مقابل کےلئے ایک عارضی سرمایہ و فرصت ہو“۔علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمات پیغمبر اکرم اور سیرت امام حسن ؑ کی روشنی میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کے جان ومال، عزت و آبرو کا تحفظ جیسا اہم فریضہ نبھانالازم و ناگزیر ہے اور حالیہ دور میں امت مسلمہ کو وحدت کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here