شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پہ شیعہ علماء کونسل پاکستان کی گول میز کانفرنس

شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پہ شیعہ علماء کونسل کی گول میز کانفرنس

قاسم سلیمانی فقط ایران کے نہیں عالم اسلام کے نمائندہ تھے، علامہ رمضان توقیر

دہشتگردی، فرقہ واریت امریکہ و اسرائیل کے ہتھیار ہیں، وحدت سے مقابلہ کرنا ہوگا، مقررین

 

دنیا بھر کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شہید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پہ خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں شہید قاسم سلیمانی کی برسی کا مرکزی پروگرام شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام گول میز کانفرنس کی صورت میں نیشنل کلب میں ہوا ۔ جس کے روح رواں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی نائب علامہ محمد رمضان تھے۔ کانفرنس میں تنظیم اہلسنت کے رہنما قاری محمد خلیل سراج، جماعت اسلامی کے ضلعی صدر زاہدمحب اللہ ایڈووکیٹ، پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی ضلعی صدر سید سجاد حسین شیرازی، راجہ شوکت ایڈووکیٹ، معروف رائٹر و تجزیہ نگار ابوالمعظم ترابی، ڈیرہ پریس کلب کے صدر محمد فضل الرحمان، ڈی آئی خان ڈسٹرکٹ بارکے صدر سردار قیضار خان ایڈووکیٹ، علامہ امداد حسین صادقی، حاجی زبیر بلوچ، سید ارشاد حسین شاہ، چیف ایڈیٹر چوہدری اصغر علی، مجلس وحدت مسلمین کے ضلعی جنرل سیکرٹری سید غضنفر عباس اور سید تحسین علمدار سمیت میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مقررین نے خطاب میں شہید قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور انہیں عالم اسلام کا نجات دھندہ اور سپاہی قرار دیا جبکہ امریکہ کو دنیائے امن بالخصوص عالم اسلام کا دشمن قراردیتے ہوئے اس مذموم عزائم و مقاصد کے سامنے بند باندھنے کی ضرورت پہ زور دیا۔ تنظیم اہلسنت کے سربراہ قاری خلیل احمد سراج نے تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 

 

یاسر الحبیب کی فلم سازش ہے، مقصد فرقہ واریت کو فروغ دینا ہے،

علامہ رمضان توقیر

گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے مرکزین نائب علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید سرباز حاج قاسم سلیمانی کسی خاص مکتب مسلک کے نہیں بلکہ عالم اسلام کے مفادات کے نگہبان تھے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت اغیار کی سازشیں ہیں، شیعہ سنی کی تقسیم امریکہ و اسرائیل کا مشترکہ ایجنڈا ہے اور عالم اسلام کو اس تقسیم کے ذریعے وہ اپنے عزائم حاصل کرتے ہیں۔اس کا ثبوت حال ہی میں بننے والی ایک فلم بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی لباس میں بیٹھ کر سیدہ فاطمہ زہرا سسلام اللہ علیہا کی حیات کے نام پہ ایک متنازعہ فلم بنائی گئی ہے کہ جس میں ایسے امور شامل کئے گئے ہیں جو توہین اور دل آزاری کے ذمرے میں آتے ہیں۔ یہ فلم ایک سازش ہے، جس کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا اور مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم نہ ہی اہل تشیع کی ترجمانی کرتی ہے اور نہ اہل سنت کی بلکہ اس کے بنانے والے دونوں کے دشمن ہیں۔ ہم ایسے پروگراموں اور اجتماعات کے ذریعے یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اہل تشیع کااس فلم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فلم پہ پاکستان میں پابندی عائد کی جائے، کیونکہ یہ انتشار کا باعث بنے گی اور ہم سب کو ملکر اس سازش کو ناکام بنانا ہے۔ 

 

علامہ رمضان توقیرنے مزید کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اور ان کے رفقاء شیعہ و سنی کی تقسیم سے ماورا تھے۔ میری ان سے وابستگی کی وجہ محض یہ نہیں کہ وہ میرے ہم مسلک تھے، بلکہ ان کی خدمات ان سے وابستگی کی وجہ ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کا دفاع اور تحفظ کیا۔ ان کی خدمات اسرائیل کے خلاف اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے تھیں۔ دہشتگردانہ اور انتہا پسندانہ ذہنیت شہید قاسم سلیمانی پہ مسلکی چھاپ کے ذریعے انہیں دیکھتی رہی۔ ایک ایسا گروہ جو کہ جس نے اپنی دہشتگردی اور بربریت کے ذریعے پورے عالم اسلام کو عدم استحکام سے دوچار کیا اور شیعہ و سنی کا بلاشرکت غیرے دشمن تھا۔ وہ دہشتگرد گروہ شام و عراق سمیت سعودی عرب پہ حملے و قبضے کا خواب دیکھتا تھا۔ اس داعش کے خلاف شہید قاسم سلیمانی وارد ہوئے اور اسے ختم کرکے رکھ دیا۔ داعش کے انسانیت سوز مظالم کا یہ عالم تھا کہ وہ بچوں کو ایک پنجرے میں قید کرے انہیں آگ لگا دیتے تھے۔ پھر ایک چٹائی پہ بیٹھنے والے مرد قلندر آیت اللہ سستانی نے اس کے خلاف فتوی دیا جس کی تعمیل میں اہل تشیع و اہلسنت نوجوان اس داعش کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اگر آج داعش کو وہیں پہ نہ روکا جاتا تو پاکستان سمیت کوئی بھی اسلامی ملک اس سے محفوظ نہ رہتا۔

 

علامہ رمضان توقیر کا مزید کہنا تھا کہ مکتب تشیع محمد و آل محمد (ع) کے مزارات سے عقیدت رکھتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں اور ان پہ کوئی بھی آنچ برداشت نہیں کرتے۔ ہم حاج قاسم سلیمانی کو اس لیے بھی اپنا ہیرو اور سالار سمجھتے ہیں کیونکہ فتنہ داعش نے نواسی رسول سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے مزار کو نعوذ بااللہ شہید کرنے کا اعلان کیا تھا، ان ناپاک عزائم کو قاسم سلیمانی نے خاک میں ملادیا۔ یہاں تک آل رسول (ع) کے مزارات کو محفوظ بنایا۔ آج عراق و شام میں مزارات مقدسہ محفوظ ہیں۔ اربعین حسینی کے موقع پہ کروڑوں افراد نجف تا کربلا بلاخوف و خطر مشی انجام دیتے ہیں۔ یہ قاسم سلیمانی کی محنت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہید عالم اسلام کے سچے سپاہی تھے۔ ایک جنرل ہونے کے باووجود سپاہی کی یونیفارم میں عام سپاہیوں کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ میرا سامرا میں انہیں دیکھنے کا اتفاق ہوا ان کے ساتھ کوئی پروٹوکول نہیں تھا۔ ہم جہاں ان محافل کے ذریعے قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہیں پہ امریکہ کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کرتے ہیں کہ امریکہ کون ہوتا ہے کہ ایک محترم اسلامی ملک میں دوسرے محترم ملک کے سرکاری مہمان کو یوں نشانہ بنائے۔ حاج قاسم سلیمانی عراق کے سرکاری مہمان تھے۔ امریکہ اور اسرائیل سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے حق کو کمزور کرلیں گے یا آزادی فلسطین بیت المقدس کی آزادی کا نعرہ بلند کرنے والے اپنے مشن سے ہٹ جائیں گے تو یہ ان کی نادانی ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایران میں ہی ایرانی سائنسدان فخری ذادہ کو قاتلانہ حملے میں شہید کیا گیا۔ ہم ان امریکی جارحانہ حملوں کی شدید مذإت کرتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل اس طرح عالم اسلام کے زرخیز ذہنوں کو قتل کرکے عالم اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے وہ ہمیں فرقوں اور قوموں کی تقسیم میں بانٹنا چاہتے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور ذمہ دار ملک ہے۔ اس کے خلاف بھی امریکہ اور اسرائیل سرگرم ہیں۔ ہمیں امریکی ایجنڈے کو ناکام بنانے کیلئے وحدت کو فروغ دینا ہوگا۔ ہم نے ایک پلیٹ فارم سے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ فیس بک پہ شہید قاسم سلیمانی کے نام کی پوسٹ بھی اپ لوڈ کی جائے تو یوزر کو کچھ دنوں کیلئے بند کر دیا جاتا ہے۔ ان حربوں سے نہ ہی شہید حاج سرباز قاسم سلیمانی کی نہ ہی خدمات کو بھلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے دلوں سے ان کی محبت کو نکالا جاسکتا ہے۔ ہم سب نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے اور ان عالمی سازشوں و ناانصافیوں بالخصوص امریکی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنی ہے۔ انشااللہ ہم تمام اپنا یہ فرض ادا کرتے رہیں گے۔ 

 

دہشتگرد کا کوئی مسلک نہیں ہوتا، وہ صرف دہشتگرد ہوتا ہے 

راجا شوکت علی، رہنما پاکستان پیپلز پارٹی

ہم شہید حاج قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کی خدمات عالم اسلام کیلئے تھیں۔ وہ امریکی و اسرائیلی عزائم کی راہ میں اس حد تک حائل تھے کہ ان کا وجود امریکہ مزید برداشت نہیں کرپایا۔ ہم علماء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ اکھٹے ہوکر ایسی شخصیت کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ امریکہ کس کس روپ میں دہشتگردی کرتا ہے اور کس حد تک ہمیں تقسیم در تقسیم کا شکار کرنے کیلئے کام کرتا ہے، اس کا اندازہ یہیں سے لگا لیں کہ ہمیں قاری خلیل سراج سمیت دیگر معززین علاقہ کو ڈیرہ جیل کے دورے کی دعوت دی گئی، وہاں باریش اور علما کی وضع قطع رکھنے والے ایسے افراد سے ملاقات کرائی گئی کہ جو مساجد میں خطیب رہ چکے تھے مگر حقیقتا ہندو تھے۔ اور نفاق کو بڑھاوا دینے کیلئے انتشار کیلئے یہ کام انجام دے رہے تھے۔ اس سے اندازہ کرلیں کہ دہشتگرد کیسے کیسے روپ دھار کر ہماری صفوں میں گھستے ہیں۔ یہ لوگ کسی مکتب مسلک کے نہیں ہوتے بس دہشتگرد ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حاج قاسم سلیمانی ہمارے لیے اس لیے محترم ہیں کہ وہ ہمارا مقدمہ لڑرہے تھے۔ 

 

قاسم سلیمانی کو امریکہ برداشت نہیں کر پایا

تحسین علمدار ایڈووکیٹ

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم و معروف وکیل تحسین علمدار نے کہا کہ سردار قاسم سلیمانی عالم اسلام کے سچے سپاہی تھے اور اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ نام نہاد سپرپاور کےخلاف کھڑے تھے۔ انہوں نے جس طرح امریکہ و اسرائیل ساختہ داعش کو تہس نہس کیا۔ اس کے بعد امریکہ برداشت ہی نہیں کرسکا۔ تاہم تاریخ میں یہی ہوتا آیا ہے۔ اہل حق محدود قوت کے باوجود طاقتور باطل پہ غلبہ پاتے رہے ہیں۔ جنگ بدر کی مثال سامنے ہے۔ جہاں 313 نے نے کئی گنا بڑے لشکر کو شکست دی تھی۔ امریکہ و اسرائیل ظاہری طاقت میں زیادہ ہوسکتے ہیں مگر روحانی قوت سے انہیں زیر کیا جاسکتا ہے۔ حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد بھی ان کا مشن جاری ہے اور اسرائیل کی نابودی طے ہے۔ ہمیں کمزور کرنے کیلئے ہمارے اوپر دہشتگردی مسلط کی گئی، ہمیں بانٹا گیا۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ دہشتگردی کا نشانہ بننے کے باوجود جنازوں میں بھی اسلام زندہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند ہوئے۔ 

 

قاسم سلیمانی پورے خطے میں امریکی عزائم کے سامنے دیوار تھے

زاہد محب اللہ ایڈووکیٹ (جماعت اسلامی)

حاج قاسم سلیمانی خطے میں اثرورسوخ رکھنے والی ایک بڑی شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں اپنی صلاحیتوں کی بناء پر یہ رتبہ اور مقام پایا تھا۔ انقلاب ایران کے بعد سے ان کی خدمات کا سفر شروع ہوتا ہےاور اپنے کمالات ، صلاحیتوں کی بدولت وہ پورے ریجن میں بارسوخ ہوئے۔ انقلاب ایران کے بعد ایرانی قوم نے قابل رشک زندگی کی ابتدا کی۔ اس قابل رشک انقلاب کو قبول نہ کرتے ہوئے ایران پہ جنگ مسلط کی گئی جبکہ شہید قاسم سلیمانی نے اس جنگ میں بھی اپنے ہنر دیکھائے۔ وہ ایک ایسی فورس کی کمانڈ کرتے تھے جو کہ قدس فورس کے نام سے پراکسی وارز میں ماہر تھی اور اس نےہر جگہ امریکہ و اسرائیل کا راستہ روکا۔ وہ خطے میں ، ایران ، عراق، یمن تک انہوں نے مریکی مفادات کے سامنے دیوار قائم کی۔ ان کی یہ خدمات عالم اسلام کیلئے یوں بھی ہیں کیونکہ امریکہ عالم اسلام کا دشمن ہے۔ انہیں شہید کرکے عالم اسلام کو کمزور کیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس وہ طاقت ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی کسی کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ امریکی جارحیت کہ جس کا اقرار اس کا صدر کررہاہے ۔ زاہد محب کا مزید کہنا تھاکہ امریکہ و اسرائیل اتنے طاقتور نہیں مگر ہم کمزور ہیں اور ہماری کمزوری کی وجہ ہمارا نفاق ہے، ہم ٹکڑوں میں تقسیم ہیں۔ جب تک ہم یونہی تقسیم رہیں گے ، ہم یوں ہی نشانہ بنتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ رمضان توقیر تحسین ستائش کے لائق ہیں کہ وہ اتحاد کیلئے ہم اہنگی کیلئے یوں اکھٹا کرتے ہیں۔

 

آل سعود کا دوست امریکہ اسرائیل کا دوست، ایران کا دوست عالم اسلام کا دوست ہے، ابومعظم ترابی (تجزیہ کار، رائٹر)

معروف تجزیہ کار ابوالمعظم ترابی نے کہا کہ ایک ایسے شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے جمع ہوئے ہیں کہ جو مسلک سے ماورا تھے۔ وہ شیعہ سنی کی تقسیم کے قائل ہی نہیں تھے۔ شہید حاج قاسم سلیمانی فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے، وہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے میدان میں تھے۔ حالانکہ فلسطین میں کوئی شیعہ نہیں ہے مگر پھر بھی فلسطین کی آزادی کیلئے وہ میدان میں موجود رہے۔ ہمارے لیے ایران یا سعودی عرب معیار نہیں ہے بلکہ ہمارے لیے نظریہ معیار ہے۔ اج آل سعود اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں جبکہ ایران اس کے خلاف کھڑا ہے۔ ہمیں ایران سے پیار اس لیے ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پہ اعلانیہ ہمارا ساتھ کھڑے ہیں، وہ بیت المقدس کی آزادی کی بات کرتے ہیں جبکہ ال سعود لانس آف عریبیہ کے ایجنٹ ہیں، انہوں نے مسلمانوں کو مسائل سے دوچار کیا ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ خلافت عثمانیہ چاہے جیسی بھی تھی مگر کم سے کم مسلمانوں کی نمائندہ تھی، آل سعود نے انہیں کمزور کیا۔ اور ختم کیا۔ یہی آل سعود اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں، یہی مسئلہ کشمیر پہ پاکستان کا ساتھ نہیں دیتے جبکہ ایران حاج قاسم سلیمانی کے روپ میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کر رہاہے۔ اسرائیل کی نابودی کا سامان کر رہا ہے۔ کوئی بھی گروہ، شخص یا حکمران مسلمانوں کے مفاد کی بات کرے گا تو ہم اس کا ساتھ دیں گے اور کوئی بھی اس کے خلاف کرے گا تو چاہے وہ پاکستان کا حکمران ہی کیوں نہ ہو ، ہم اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ آج حالات یہ ہیں کہ او آئی سی کے اجلاس کے ایجنڈے میں کشمیر کا ذکر نہیں ہوتا جبکہ ایران اعلانیہ ہمارے موقف کے ساتھ ہے۔ آج آل سعود کا دوست امریکہ و اسرائیل کا دوست ہے ۔ ایران کا دوست عالم اسلام کا دوست ہے۔ ایم آئی سکس آج اپنے ایجنڈے پہ کام کر رہی ہے، نفاق و انتشار کو فروغ دینے کیلے شیعہ سنی کے روپ میں سازشیں کر رہی ہے۔ ابھی اس فلم کا ذکر ہوا جس کی علامہ صاحب نے مذمت کی۔ کچھ مدت پہلے خلیفہ اول کی شان میں گستاخی کرنے والا ایک شخص بیرون ملک فرار ہوا مگر حیرت ہے کہ وہ شخص فرار ہوکر ایران نہیں گیا بلکہ وہیں گیا جہاں کا ایجنٹ تھا۔ وہ برطانیہ گیا۔امریکہ و اسرائیل اسی طرح ہماری شخصیات کو نشانہ بنا رہے ہیں کہ جیسے حسن بن صباح کے دور میں بنایا جاتا تھا۔ اللہ تعالی جنرل قاسم سلیمانی کے درجات بلند فرمائے اور آج ایران اس قابل ہے کہ شخصیات کے جانے سے نہ ہی انقلاب کمزور ہوگا اور نہ ہی تحریکیں وہ دس قاسم سلیمانی کھڑے کر لیے گا۔

 

شہید قاسم سلیمانی کیلئے موت کوئی معنی نہیں رکھتی تھی

سید ارشاد حسین شاہ (معروف شاعر ادیب)

شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کوئی پہلی شہادت نہیں ہے، حق والے ایسی قربانیاں پیش کرتے آئے ہیں اور یہی قربانیاں اس کا بول بالا کرتی ہیں۔ آج حق والے بظاہر کمزور ہیں مگر قیام کئے ہوئے ہیں۔ حضرت علی اکبر سے جب امام حیسن نے پوچھا کہ ہمیں اس کربلا کی جنگ میں شہادت نصیب ہو گی تو حضرت علی اکبر نے محض اتنا پوچھا کہ بابا کیا ہم حق پہ ہیں، امام نے جواب دیا کہ ہاں ہم حق پہ ہیں تو حضرت علی اکبر نے فرمایا کہ پھر فرق نہیں پڑتا کہ ہم موت پہ جاپڑیں یا موت ہم پر آن پڑے۔ شہید قاسم سلیمانی کیلئے بھی یہ موت معنی نہیں رکھتی تھی۔

 

علماء ہی معاشرے سے نفاق و انتشار کا خاتمہ کر سکتے ہیں

سردار قیضار خان ایڈووکیٹ (صدر ڈسٹرکٹ بار، ڈیرہ اسماعیل خان)

علماء کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ ایسی شخصیت کیلئے جمع ہوئے ہیں کہ جو محترم ہے۔ علماء ہی ہمارے معاشرے میں نفاق و انتشار کے خاتمے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اتحادبین المسلمین کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اب مسلکی منافرت سے باہر نکلنا ہوگا۔ اتحاد ویکجہتی سے اسلام و پاکستان دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

 

ایران امریکہ کے خلاف 10 قاسم سلیمانی مزید کھڑے کر دے گا،

ابن آدم (معروف رائٹر، تجزیہ کار)

قاسم سلیمانی کی شہادت، شہادت اس لیے بھی ہے کہ انہیں شہید کرنے والا عالم اسلام کا سب سے بڑادشمن ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں مسلمان ظلم و زیادتی کاشکار ہوئے ایران سے اس کیلئے آواز ضرور اٹھتی ہے۔ ایران اور بھارت کے مابین تعلقات کے باوجود جب بھی کشمیر سے متعلق بات ہوتی ہے تو ایران تمام تر تعلقات کو سائیڈ پہ رکھ کے کشمیر موقف پہ پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔ دہشتگردی نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے، دو پڑوسی اسلامی ممالک ہونے کے باوجود جب بھی یہ ممالک ایک دوسرے کے قریب انے کی کوشش کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی معاملہ آڑے آجاتا ہے۔ ایرانی صدر تین روزہ دورے پہ پاکستان تشریف لائے ۔ تو میڈیا میں کلبھوشن کا واویلا کرکے اس دورے کو سبوتاژ کیا گیا۔ ہماری حکومتوں کو بھی سوچنا ہوگا کہ وہ عوامی رائے کے احترام میں اقدامات کریں۔ علماء نے ذمہ داری ادا نہیں کی تھی جس کی وجہ سے فرقہ ورانہ فسادات کے باعث یہاں پاکستانی نشانہ بنے۔ اب علماء ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ہمیں جہاد کا سبق پڑھا کر جوان مروائے گئے، افغان جہاد کے بعد عقد کھلا یہ جہاد نہیں فساد تھا اور ڈالروں کی جنگ تھی۔ ایرانی قوم منظم ہے ، قاسم سلیمانی کے جانے سے وہ کمزور نہیں ہوئے البتہ خطرات اسرائیل کیلئے بڑھ گئے، ایرانی دس سلیمانی کھڑے کریں گے۔ 

 

فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے

چوہدری محمد اصغر (چیف ایڈیٹر صدائے حق)

علامہ محمد رمضان توقیر صاحب نے شہید قاسم سلیمانی کی یاد میں خوبصورت تقریب سجائی ہے، جس میں سنی شیعہ نمائندگی موجود ہے، وحدت کی ضروت ہے اور ایسی ہی تقریبات سے مکالمے سے ہی وحدت کو فروغ ملے گا۔ ایسے عملی اقدامات سے عالم اسلام کو ترقی نصیب ہوگی اور سازشوں کا قلع قمع ہوگا۔ فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی عصر حاضر کی اہم ضرورت ہے۔ 

 

شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، تیرگی میں دیا ضرور جلاتی ہیں،

سید سجاد شیرازی (ضلعی صدر پاکستان پیپلز پارٹی) 

سید سجاد حسین شیرازی نے حاج قاسم سلیمانی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا سلام ہوان شہدا پہ کہ جو حق کے راستے میں اپنی جانیں قربان کر گئے۔ ہم یہاں شہید حاج قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اکھٹے ہوئے ہیں۔ کچھ زیادہ نہیں بدلا، کل چنگیز خان اور ہلاکو جو کاروائیاں انجام دیتے تھے، وہی آج امریکہ، برطانیہ انجام دے رہے ہیں۔ ہم جن حالات سے دوچار ہیں، وہ ہماری اپنی کمزوری اور انتشار کی وجہ سے ہے۔ ہم آٓج ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہم گروہوں میں بانٹا جا رہا ہے اور کمزور کیا جارہا ہے۔ ان معاملات میں علماء پہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور علما ہی معاشرے میں اصلاح کرسکتے ہیں۔ شہریوں کیلئے وہی پیغام قابل قبول ہوگا جو علماء ایک پلیٹ فارم پہ بیٹھ کر دیں گے۔ جس طرح ابھی علامہ صاحب نے بتایا کہ آیت اللہ سستانی کے ایک فتوے نے سبھی کو ایک کردیا اور شیعہ و سنی نوجوانوں نے ملکر داعش کے دہشتگردی کے طوفان کو پلٹا دیا۔ اگر علماء کے درمیان اختلافات ختم ہوجائیں تو شہریوں کے خودبخود ہوجائیں گے۔ اسرائیل کوئی بڑی طاقت نہیں مگر ہم کمزور ضرور ہیں۔ وہ یکے بعد دیگرے ہمارے جرنیلوں، ہمارے سائنسدانوں کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ ان اذہان کو ختم کیا جاسکے کہ جو ہماری ترقی کی راہ میں معاون و مددگار ہیں۔ وہ ہم میں ایسی کوئی شخصٰت باقی نہیں رہنے دیتے جو کہ ہماری ملت کی تعمیر کرسکے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جاتی وہ تیرگی میں دیا ضرور جلاتی ہیں۔ 

 

یاسر الحبیب کی متنازعہ فلم پہ پاکستان میں پابندی عائد کی جائے،

سید غضنفر عباس نقوی (ضلعی صدر ایم ڈبلیو ایم)

شہید سرباز حاج قاسم سلیمانی ایران کا نہیں بلکہ عالم اسلام کا نمائندہ تھا۔ فلسطین کی آزادی ہی ان کا محور و مقصد تھی۔ انہیں عالم اسلام کی فکر تھی اورانہوں نے آزادی فلسطین کی فکر کو عالم اسلام میں فروغ دیا۔وہ دنیائے اسلام کے تحفظ کیلئے ہر محاذپہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے خلاف برسر پیکار تھے اور ہر محاذ پہ انہوں نے فتح پائی پورے عالم اسلام کی آواز بننا شہید قاسم سلیمانی کا ہی خاصہ تھا۔ دشمن نے انہیں نشانہ بنایا مگر قبلہ اول کی آزادی کیلئے قاسم سلیمانی آتے رہیں گے ۔ ہمیں ایسے کرداروں سے دور رکھنے کیلئے ہماری وحدت کو توڑا جاتا ہے۔ اس کیلئے اعلیٰ پیمانے پہ کوششیں ہوتی ہیں۔ حال ہی یاسرالحبیب نامی شخص نے ایک فلم بنائی ہے۔ جس کے ٹائٹل میں ہی فساد ہے ۔ بظاہر یہ فلم سیدہ زہرا کی حیات پہ بنائی گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں توڑنے لڑانے کیلئے یہ ریلیز کی جارہی ہے۔ اسے کم از کم پاکستان میں ریلیز نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان میں قاتل و مقتول ، ظالم و مظلوم کے مابین فرق رکھ کر بات کر نی چاہیئے۔ مظلوم جہاں بھی ہوگا ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور ظالم چاہے کوئی بھی ہوگا ہم اس کی مذمت کریں گے۔ شہید حاج قاسم سلیمانی مظلوموں کے حامی تھے۔ اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے ۔ آمین

 

ہم ایران کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ وہ حق کیساتھ کھڑا ہے

علامہ امداد حسین صادق (مدرس، عالم دین) 

امریکہ اسلامی دنیا کے خلاف ایک جارح کی طرح موجود ہے۔ کتنی بڑی بدمعاشی ہے کہ وہ کسی بھی اسلامی ملک کے خلاف کوئی بھی کارروائی ہو انجام دیتا ہے۔ پاکستان میں ایبٹ آباد میں ایسی ہی ایک کارروائی انجام دی گئی کہ امریکہ نے اسامہ بن الاادن کو پکڑ کر قتل کیا۔ ہماری خودمختاری کو روندا گیا۔ پوری اسلامی دنیا کے ساتھ امریکہ کا یہی رویہ ہے۔ ہمارے ہی وسائل پہ یہ قابض ہیں ۔ تیل عربوں کا ہے مگر ہمیں لینے کیلئے اوپیک سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ایران نے ان امریکی چیرہ دستیوں کے خلاف قیام کیا۔ خود کو مضبوط کیا۔ آج ہر میدان میں ایران امریکہ کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے۔ شہید حاج قاسم سلیمانی پہ حملے کے بعد ابھی ان کی نماز جنازہ نہیں ہوئی تھی جبکہ ایران اپنا بدلہ لے چکا تھا۔ کچھ مدت پہلے ایران میں ہی سائنسدان فخری ذاہ کو شہید کیا گیا۔ اس حملے کے منصوبہ ساز کو تل ابیب میں ہی نشانہ بناکر ہلاک کر دیا گیا۔ ٹیکنالوجی کے میدان میں ایران نے اتنی ترقی کی کہ امریکہ کا جدید ترین ڈرون اتار لیا اور یہی ٹیکنالوجی دوسری ممالک کو بھی دینے کا اعلان کیا۔ ہمارے لیے کوئی ملک یا گروہ اہم نہیں ہے نظریہ اہم ہے۔ ہم ایران کے ساتھ اس لیے کھڑے ہیں کیونکہ وہ حق کے ساتھ کھڑا ہے اور عالم اسلام کے دشمنوں کے خلاف کھڑا اگر کوئی بھی ملک اس طرح قیام کرتا ہے تو ہم اس کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ رب العزت ان تمام کی توقیقات میں اضافہ کرے جو عالم اسلام کی محافظت کیلئے میدان میں موجود ہیں۔ کانفرنس کے اختتام پہ اجتماعی طور پہ شہید قاسم سلیمانی اور ان کے رفقا کیلئے بلندی درجات اور عالم اسلام کی ترقی و خوشحالی خصوصی دعا کی گئی اور شہدائے بغداد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔  پروگرام کے آخر میں شیعہ علماء کونسل کی جانب سے شرکاء کو پرتکلف ظہرانہ دیا گیا۔