دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم کے زیر اہتمام علمی نشست

*دفتر قائد ملت جعفریہ قم کی جانب سے حرم کریمہ اہلبیت ع میں “پاکستان میں نظام ولایت فقیہ کی ترویج میں فرزندان زہرا س کا کردار” کے عنوان سے اھم علمی نشست کا انعقاد*

_*خطباء نے محسن ملت علامہ صفدر نجفی ،قائد شہیدعلامہ عارف حسینی،شہید ڈاکٹر نقوی اور قائد ملت علامہ ساجد نقوی کی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی*_

قم المقدسہ:(2 فروری 2021)
دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان قم المقدسہ کی جانب سے ولادت باسعادت حضرت فاطمہ الزھرا س ،ولادت امام خمینی اور انقلاب اسلامی کی43 ویں سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان میں فرزندان زہرا کا نظام ولایت فقیہ کی ترویج میں کردار کے عنوان سے حرم حضرت فاطمہ معصومہ میں علمی نشست کا انعقاد کیا گیا.
“پاکستان میں ولایت فقیہ کی ترویج میں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا کردار” کے عنوان سے ڈاکٹر شہید کے فرزند جناب سید دانش نقوی نے پاکستان سے ویڈیو کلپ کے ذریعہ تفصیلی روشنی ڈالی.
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شہید کا دل نظام ولایت فقیہ کے ساتھ دھڑکتا تھا. جوانوں میں ولایت فقیہ کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایران میں 8 سالہ جنگ کے دوران ڈاکٹروں کی اشد ضرورت کا موقع ہو،یا ایام حج پر برأت از مشرکین کا مسئلہ ہو جہاں پر بھی ولایت فقیہ کے حکم پر لبیک کہنے کا وقت آیا وہ خون کے آخری قطرے تک لبیک کہتے رہے. ہمیں شہداء کے نقش پر چل کر اتحاد و یکسوئی کے ساتھ ان کے افکار کو زندہ رکھنا چاہیے.
محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی نظام ولایت فقیہ کی ترویج کے حوالہ سے خدمات پر موسسہ امام المنتظر قم کے پرنسپل اور محسن ملت کے قریبی عزیز حجت الاسلام والمسلمین سید محمد حسن نقوی نے روشنی ڈالی.
انہوں نے کہا کہ محسن ملت علامہ صدر حسین نجفی نے آیت اللہ العظمی سید محسن الحکیم کی وفات کے بعد پاکستان میں امام خمینی کی مرجعیت کو متعارف کروانے میں بنیافی کردار ادا کیااور سب سے پہلے ان کی توضیح المسائل کا اردو زبان میں ترجمہ کیا.
تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ استاد العلماء علامہ سید محمد یار شاہ نجفی ،علامہ سید گلاب علی شاہ نقوی اور دیگر بزرگ علماء کو جب امام خمینی کی تحریک انقلاب اسلامی کی خبر ہوئی تو ان کا واضح موقف تها کہ ہمیں ہر حوالہ سے اس انقلابی تحریک کا ساتھ دینا چاہیے.
محسن ملت کا امام خمینی سے لگاؤ اور عقیدت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ امام کی اس تحریک میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے مالی معاونت کے طور پر اپنا ذاتی مکان بیچ کر اس کی رقم امام خمینی تک پہنچائی اور امام خمینی کو پاکستان آنے کی دعوت دی. محسن ملت نےحکومت وقت پر بھی زور دیا کہ اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستانی حکومت امام خمینی کو سرکاری سطح پر دعوت دے.
انہوں نے مزید کہا کہ محسن ملت نے موجودہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی اور سابقہ قائدین کا بھرپور ساتھ دیا. ہمیشہ نظام ولایت فقیہ کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا.
“پاکستان میں قائد ملت جعفریہ آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی مدظلہ العالی کا نظام ولایت فقیہ کی ترویج میں کردار” کے عنوان پر حجت الاسلام والمسلمین ملک کاظم رضا نے مفصل خطاب کیا.
انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے. جہاں دنیا میں اجتماعی نظام چلانے کے لئے مختلف نظام حکومت متعارف کروائے گئے وہاں اسلام نے اپنا نظام حکومت متعارف کروایا جسکو آج ریاست مدینہ، نظام عدل علی یا نظام ولایت فقیہ سے تعبیر کیا جاتا ہے.
بیسویں صدی میں امام خمینی نے ایران میں اسلامی حکومت قائم کی.
اس کے ساتھ ہی اسلام کی ترویج اور مظلومین کی حمایت کیلئے تحریک شروع کی، جس کی بدولت دنیا بھر بالخصوص پاکستانی شیعہ و اہلسنت عوام نے پرجوش طریقہ سے اس کا خیر مقدم کیا، استعماری اور شیطانی طاقتوں کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں تهی. پاکستان میں اس اسلامی تحریک کا راستہ روکنے کے لئے تمام مکاتب اسلامی کو اعتماد میں لئے بغیر خاص اهداف کے پیش نظر ایک مخصوص مکتبہ فکر کے عقائد و نظریات کو تحمیل کیا گیا جس کے نتیجہ میں دیگر مکاتب اسلامیہ کے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا.
علماء شیعہ نے اپنی مذہبی حقوق کے دفاع اورحصول کی خاطر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی بنیاد ڈالی.
ولی فقیہ کی حیثیت سے قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کو اپنی نمائندگی کا پروانہ دے کراس قومی پلیٹ فارم کی شرعی حیثیت پر مہر تائید ثبت کردی.
انہوں نے کہا قائد ملت جعفریہ کو جب امام خمینی نے نمائندہ منصوب کیا اور امام سے قائد ملت کی ملاقات ہوئی تو امام نے قائد ملت کو اتحاد بین المسلمین کی وصیت فرمائی جو در حقیقت پاکستانی میں اسلامی نظام حکومت کے نفاذ کے راستے کی جانب راہنمائی تهی.
دشمن نے فرقہ واریت کی آگ اور تکفیریت کے شور و غل سے پاکستان کی فضا کو مسموم بنایا ہوا تها،ان سخت حالات میں اتحاد امت ،ملی یکجہتی کونسل اور ایم ایم اے کے ذریعہ اپنے دینی اهداف کے حصول کے لئے کوششیں جاری رکهیں اور اسی سمت میں یہ کارواں رواں دواں ہے.
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی مرکزیت اور قیادت کو مضبوط کریں تاکہ جلد از جلد اپنے اهداف کے حصول میں کامیابی ہو.
نشست کے اختتام پر نمائندہ قائد ملت و مدیر دفتر قائد قم المقدسہ، حجت الاسلام والمسلمین سید ظفر علی نقوی نے سیدہ دوعالم حضرت زہرا س کی حیات مبارکہ اور ان کی سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی.
نمائندہ قائد نے قائد شہید کے حوالہ سے مفصل خطاب کیا.انہوں نے کہا کہ شہید قائد نجف میں امام خمینی کے ساتھ آشنا ہوئے اور پھر ہمیشہ کیلئے ان کے گرویدہ ہوگئے.
انہوں نے دوران قیادت نظام ولایت فقیہ کے سایہ میں بھرپور جدوجہد کی اور کم وقت میں ابھر کر سامنے آئے.ہر میدان میں کام کیا.
انہوں نے کہا قائد شہید کے جانشین اور نمائندہ رہبر معظم قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی ہمارے درمیان موجود ہیں اگر ہم چاہتے ہیں نظام ولایت فقیہ مزید ترقی کرے تو ہمیں اس نظام کا بھرپور ساتھ دینا چاہیے. جب ہم اعتراض کرتے ہیں کہ فلاں نے کیا کیا کام کیا ہے اس وقت اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ ہم نے نظام کی مضبوطی کیلئے کیا کردار ادا کیا ہے.
انہوں نے شیعہ علماء کونسل سندھ کی جانب سے 14 فروری کو ہونے والے لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کیا.
انہوں نے کہا کہ ان شاء الله دفتر کی جانب ایسی علمی نشستوں کا سلسلہ جاری رہے گا.
اھم علمی نشست میں مختلف تنظیموں کے مسٶلین اور فاضل شخصیات نے شرکت کی .
واضح رہے کہ کرونا کی مشکلات کی وجہ سے محدود افراد مدعو تهے.
شاعر اہلبیت جناب عباس ثاقب صاحب نے حضرت فاطمہ الزھرا کے حضور نذرانہ عقیدت پیش کیا
نظامت کے فرائض امور دفتر قائد شعبہ قم کے دفتری مسول مولانا لیاقت علی سیال نے انجام دہے.