شہید علامہ الطاف حسین الحسین یوم شہادت ۴ فروری ۲۰۱۱

کسے معلوم تھا کہ 8 ڈسمبر 1961 عیسوی کو سندہ کی سرزمین پر دادو ضلع کے ايک چھوٹے گاؤں رادھن اسٹيشن کے ایک محب اہلبیت سنی گھرانے ميں جنم لينے والا بچہ بڑا ہو کر تحقیقی بنیادوں پر اپنے آباءو اجداد کا مذہب چھوڑ کر مذہب اہلبیت علیہم السلام کا ایک شجاع، نڈر اور بے باک عالم دین بنے گا. پھر يہ بچہ جيسے ہی جوانی کی دہليز پر قدم رکھتا ہے تو اس کی پاک سرشت کو ديکھ کر خداوند منان اسے اپنی راه کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے طالب علم ہونے کا شرف بخشتا ہے. وه ايک جوان سال طالب علم کی صورت ميں سندہ کی قدیمی رياست خيرپور ميرس سندہ کی عظيم دينی درسگاه سلطان المدارس ميں داخلہ ليتا ہے. فقيری کا يہ عالم ہے کہ مختلف درزيون کي دکان سے بچے ہوئے کپڑے جمع کر کے ان بچے ہوئے کپڑوں سے راتوں کو جاگ کر رسیاں بنا کر صبح کو بيچنے کے بعد اپنا گزر سفر کرتا ہے. آپ نے اسی مدرسہ سے عالم، فاضل اور سلطان الافاضل کا کورس کيا اور فارغ التحصيل ہونے کے بعد وقت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی شرعی ذمہ داري سمجھی کہ: منبر جو کہ تبليغ دين کا سب سے مؤثر ذريعہ ہے اور اس پر اہل افراد کو آنا چاہیے تا کہ مکتب اہل بيت عليہم السلام کي حقيقيی طور پر خدمت کی جا سکے۔ آپ نے اپنی پوری توجہ منبر کي طرف مبذول کی اور تحريک جعفريہ پاکستان کے ايک فعال کارکن کے عنوان سے اپني دينی اور تبليغی سرگرميون کا آغاز کيا. يہ وه دور تھا جب شہيد علامہ عارف حسين الحسيني خود ملت کی قيادت کی ذمہ داريان نبھا رہے تھے. علامہ عارف حسين الحسينی کی شہادت کے بعد ملت کي قيادت علامہ سيد ساجد علي نقوی کے سپرد ہوئی تو علامہ الطاف حسين الحسيني نے قائد محترم کی غير مشروط حمايت جاری رکھی اور جو لوگ بھی شہيد الطاف حسينی کے قريب رہے ہين ان کو اس بات کا بخوبی اندازه ہے کہ آپ (قائد کے فرمان پر جان بھی قربان هے) کی زنده اور مثالی تصوير تھے اور اسی نعرے کو عملي جامہ پہنانے کے لئے ہر وقت آماده اور تيار رہتے تھے. تنظیمی فعالیت کی وجہ سے عام کارکن سے آگے بڑھ کر ضلعی صدر ضلع حیدرآباد بنے، پھر ڈویژنل صدر ڈویژن حیدرآباد اور آخر میں علامہ حسن ترابی کی شہادت کے بعد قائم مقام صوبائی صدر صوبہ سندھ بنے۔
آپ نے اپنی پوری زندگی مولا حسين عليه السلام کے نام کر دی۔ جب بھی، جہان کہين بھی آپ کو مولا حسين عليه السلام کی مجلس کی دعوت ملتی تو دوڑے چلے جاتے۔ يه پروا کئے بغير کہ گرمی ہے يا سردی، دن ہے يا رات، شہر ہے يا پسمانده گاؤں، شيعہ اکثریتی علاقہ ہے يا غيروں کا مرکز، بس دعوت ملتے ہی چلے جاتے اور فرماتے تھے کہ ميری جان کي کيا ارزش ہے؟ اس کیلئے اس سے بڑھ کر اور کيا سعادت ہو سکتی ہے کہ امام حسين علیہ السلام کی راه ميں نثار ہو جائے. آپ اکثر اپنی مجالس ميں يہ بھی کہا کرتے تھے کہ جس طرح سرکاری ملازموں کے ٹرانسفر ہوتے ہين کبھی حیدرآباد، کبھی کراچی، اسی طرح ہم بھی امام حسين علیہ السلام کے نوکر ہيں، امام عليه السلام ہماری بھی ڈيوٹی لگاتے ہيں۔
کبھی حیدرآباد، کبھی کراچی، کبھی پشاور، کبھی جھنگ. يہی جذبہ لئے وه دين اسلام کی تبليغ کيلئے ہنگو، پشاور، جھنگ، ملتان، سیالکوٹ، ساہيوال بلکہ يوں کہوں تو کوئی مبالغہ نہيں ہوگا کہ ملک کے کونے کونے ميں گئے.
وه ايسے نڈر مجاہد تھے کہ کوئی کتنا بڑا وڈيرا، جاگيردار منسٹر يا اعلی پوليس اہلکار ہو، اس کے سامنے حق بات کہنے سے نہيں گھبراتے تھے. ايک بار ايک احتجاجی مظاہرے ميں ايک ڈي پی او نے کہا که یہ شيعہ لوگ بھی عجيب ہيں ان کو محرم کے دس دن کيا ملتے ہيں ليکن پتہ نہيں ان دس دنون ميں یہ کيا سے کيا کر ديتے ہيں. اسي لمحہ شہيد اسٹيج پر آئے اور کہا اے ڈی پی او! تجھے شرم نہيں آتی کہ حسين مولا کا ذکر منانے والوں کے بارے ميں نازيبا زبان استعمال کرتے ہو. شہيد کی بات کا اس ڈی پی او پر اتنا اثر پڑا کہ معذرت چاہتے ہوئے کہا ميں اپنے الفاظ واپس ليتا ہوں.
اخلاص کے اس مقام پر فائز تھے کہ اتنی بڑی مذہبی، سماجی اور سياسی حيثيت کے باوجود اپنی بيٹيوں کيلئے شوہر کے عنوان سے طالب علمون کا انتخاب کيا. امین اتنے تھے کہ سرکاری ملازم ہوتے ہوئے بھی (آپ پرائمری اسکول ٹیچر تھے) کبھی اسکول سے ناغہ نہیں کیا، اکثر و بیشتر مجالس اور ذکر اہل بیت علیہم السلام کیلئے باہر جاتے تھے لیکن پوری کوشش یہ ہوتی تھی کہ رات کو 2 بجہ یا 3 بجہ بھی گھر لوٹ کر آئیں اور صبح کو ایمانداری کے ساتھ اپنی ڈیوٹی ادا کریں۔
انفاق فی سبيل الله اور عزاداری کے فروغ کا وه درجہ تھا کہ ہر سال عشره محرم کی آمدنی سے 25 محرم کو مولا سجاد عليه السلام کی شہادت کی مجلس منعقد کرواتے اور کوٹری ميں تاريخی جلوس نکلواتے تھے.
اپنے باپ سے علمی مناظرے کئے اور کئی سالوں کی ان تھک محنت سے انہیں مستبصر اور شیعہ بنایا، عزاداری کی ترويج کيلئے آپ نے انجمن السجاد کوٹری قائم کی.
سائیٹ ایریا کوٹری میں بھٹائی کالونی کے مقام پر کئی سال محنت کر کے پہاڑ کو توڑا اور ایک عظیم الشان مسجد بنائی جو مسجد ابا الفضل العباس اور امام بارگاہ کربلا کے نام سے شہرت رکھتی ہے جہان نماز جمعہ میں سینکڑوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔
علاقہ کے مومنین ہر مشکل ميں شہيد کی طرف رجوع کرتے تھے اور آپ ان کی مشکلات کے حل کيلئے کسی وڈيرے يا منسٹر سے بات کرنے سے بھی نہيں گھبراتے تھے.
ايسے مہربان اور ملنسار کہ جس سے ايک بار ملتے تھے اس کو اپنا مريد اور گرويده بنا ليتے تھے. آپ کی تشييع جنازه کا جلوس لوگوں کی آپ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا. پورے ملک کے کونے کونے سے آئے ہوئے عاشقون کی سسکيان بتا رہي تھيں که وه آج کس مہربان ہستی سے محروم ہو گئے ہیں.
ہاں دوستو! اس شہيد کی خدمات کا ذکر وه بھی مختصر صفحات ميں ناممکن ہے. يہ اس شہيد کي زندگی کی مختصر جھلک تھی جس نے سینکڑوں لوگوں کو مکتب اہل بيت عليہم السلام کا گرويده بنايا.
۳ فروری بمطابق 29 صفر المظفر شب جمعہ بعد از نماز مغربين سفاک اور وحشی درندوں کے ہاتھوں زخمي ہوئے اور زخمی ہونے سے 10 منٹ پہلے مجھے فون کيا اور کہا بيٹا سيده (فاطمہ معصومہ قم) کی نگری سے لايا ہوا نياز (سوہان حلوہ) کب کھلوائو گے، يہ تو خدا ہی جانتا تھا که اس کے لئے اب جنت الفردوس ميں ذاکران امام حسين ع ؑکے ساتھ نياز کھانے کا انتظام ہو چکا تھا اور 4 فروری 2011 بمطابق 30 صفر المظفر بروز جمعہ 2 بجہ دوپہر زخمون کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کا رتبہ پايا۔ خدا کی لاکھوں رحمتيں اس شہيد کی قبر پر برسيں جس نے دين اسلام اور مکتب اہل بيت عليہم السلام کي ترويج ميں اپنی جان کا نذرانہ پيش کیا۔خدا نے اس شہید کی محنتوں کا صلہ اس طرح دیا کہ آج اس کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں حوزہ علمیہ قم المقدسہ ایران میں دینی تعلیم کے حصول میں کوشاں ہیں، اور اس صدقہ جاریہ تحصیل اور تبلیغ دین کے ذریعہ خدا اس شہید کا مقام اور زیادہ بلند فرمائے گا۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ۔
نظیر احمد بہشتی
قم المقدسہ ایران