مسئلہ کشمیر پر صرف بیانات کافی نہیں، عملی اقدامات اٹھانا ہونگے، علامہ ساجد نقوی

 مسئلہ کشمیر پر صرف بیانات کافی نہیں، عملی اقدامات اٹھانا ہونگے، علامہ ساجد نقوی

کشمیری مظلوم عوام ہماری جانب دیکھ رہے ہیں، قراردادوں، ڈوزئیرز اور خطابات سے آگے کوئی قابل عمل راہ حل متعارف کرایا جائے

کشمیری قیادت، قومی طبقات اور سٹیک ہولڈرز متفقہ طور پر قابل عمل تجاویز کے ساتھ متفقہ ڈرافٹ تیار کریں، قائد ملت جعفریہ پاکستان

راولپنڈی /اسلام آباد4 فروری 2021 ئ(جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے، مسئلہ کشمیر صرف بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حل ہوگا، جنگ کے سوا دیگر قابل عمل و قابل حل آپشنز پر غور کیا جائے، کشمیری قیادت، قومی طبقات اور سٹیک ہولڈرز میں سے قابل افراد مل بیٹھ کر متفقہ ڈرافٹ مرتب کریں تاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب بڑھنے کے ساتھ مظلوم عوام کی ڈھارس بندھائی جاسکے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا خطے میںمستقل امن کا خواب شرمندئہ تعبیر نہیں ہوگا، متفقہ قراردادوں کے باوجود اقوام متحدہ مسلسل معنی خیز خاموشی اور بے حسی کا مرتکب ہورہاہے، افسوس اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور او آئی سی کا کردار ان کی بے حسی کے باعث قابل ذکر تک نہ رہا ، اظہار یکجہتی ریلیوں میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کشمیری عوام ایک عرصہ سے اپنی آزادی کی تمنا لئے ہوئے کہیں جام شہادت نوش کررہے ہیں تو کہیں عصمت دری، پیلٹ گنز کے ذریعے نشانہ بنایا جارہاہے، ریاستی جبر و ظلم کا کونسا حربہ ہے جو ان مظلوم عوام پر نہ آزمایاگیا ہو مگر آج بھی کشمیر سے آزادی کی صدائیں بلند ہورہی ہیں افسوس پاکستان جو کشمیر کا بلا مشروط وکیل ہے اس کی طر ف سے مختلف اقدامات اٹھائے گئے ،بھارتی ریاستی ظلم و جبر کےخلاف جنرل اسمبلی میں خطابات، سلامتی کونسل میں قراردادیں او ر ڈوزیئرزپیش کئے گئے ہیں مگر کشمیریوں کی آزادی کےلئے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جو تحریک آزادی کوآگے بڑھائے ۔انہوںنے کہاکہ ماسوائے جنگ کے ایسا قابل قبول اور قابل عمل طریقہ کار وضع کیاجائے تاکہ مسئلہ کشمیر ”جو جنوبی ایشیا میں پائیدارامن کے قیام کےلئے انتہائی ضروری مسئلہ ہے “حل ہو اور کشمیری عوام کو بھی اپنی سرزمین پر آزادی کا سورج دیکھنا نصیب ہو۔انہوںنے کہاکہ جنگ کے سوابہت سے ایسے آپشنز ہیں جنہیں قابل عمل بنایا جاسکتاہے ، انہوںنے تجویز دیا کہ کشمیری قیادت، تمام قومی طبقات اور سٹیک ہولڈز میں سے صاحب الرائے افراد سے تجاویز مرتب کریں اور انہیں مفصل غور کے بعد ڈرافٹ کی شکل میں پیش کیا جائے اور اقدامات اٹھائے جائیں تو پھر نہ صرف کشمیری عوام کی ڈھارس بندھے گی بلکہ جنوبی ایشیاکا سب سے بڑا مسئلہ سنجیدہ حل کی جانب بھی بڑھے گا ۔ افسوس اقوام متحدہ ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور او آئی سی کا کردار قابل ذکر تک نہ رہا، انہوں نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر عوام سے اپیل کی کہ وہ بھرپور طریقے سے ان ریلیوں میں شریک ہوکر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔