کوہ پیما محمد علی سدپارہ دنیا میں پاکستان کی پہچان تھے، زاہد علی آخونزادہ

کوہ پیما محمد علی سدپارہ دنیا میں پاکستان کی پہچان تھے، زاہد علی آخونزادہ

قومی ہیرو سدپارہ کی کے ٹو کے پہاڑی سلسلے میں گمشدگی اور وفات کی خبر پرستاروں کے لیے باعثِ صدمہ ہے، ترجمان قائدِ ملت جعفریہ

قائدِ ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی نے سدپارہ خاندان سے تعزیت کی اور مغفرت کی دعا فرمائی ہے،زاہد علی آخونزادہ

روالپنڈی / اسلام آباد 20 فروری 2021 ( جعفریہ پریس پاکستان)قائدِ ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس خبر کو قومی ہیرو کے پرستاروں کے لیے صدمہ قرار دیا ہے۔ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی دنیا کے دوسرے بڑے فلک بوس پہاڑ کے ٹو کو سر کر لینے کے بعد پہاڑی سلسلے میں گمشدگی اور بعد ازاں عدم بازیابی کے باعث صدپارہ خاندان کی جانب سے وفات کے اعلان پر اپنے تعزیتی بیان میں قائدِ ملت جعفریہ کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ کا کہنا تھا کہ محمد علی سدپارہ عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما تھے اور دنیا بھر میں وطن عزیز پاکستان کی پہچان تھے۔ جبکہ ملک میں وہ پہاڑوں کے بیٹے اور قومی ہیرو کے نام سے شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر عوامی خدمات بھی انجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد علی سدپارہ کی کے ٹو کے پہاڑی سلسلے میں گمشدگی اور وفات کی خبر سے ملک بھر سمیت دنیا میں ان کے پرستاروں کو صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ قائدِ ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے محمد علی سدپارہ کی وفات کی خبر کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے سدپارہ خاندان سے تعزیت کی ہے اور قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کی مغفرت کے لیے دعا بھی فرمائی ہے۔