People stand at the site of an airstrike which witnesses said was by Saudi-led coalition aircraft on mourners at a hall where a wake for the father of Jalal al-Roweishan, the interior minister in the Houthi-dominated Yemeni government, was being held, in Sanaa, Yemen October 8, 2016. REUTERS/Khaled Abdullah

عالمی ادارہ برائے صحت نے یمن میں جاری جنگ کے دوران ایک تازہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں انکشاف ہوا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی کے سبب نصف سے زائد طبی مراکز یا تو مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں یا پھر جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ عالمی اداری برائے صحت ڈبلیو ایچ او کے سروے پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یمن کے 16 صوبوں میں تین ہزار 507 طبی مراکز مکمل طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو کہ مجموعی طبی مراکز کے محض 45 فیصد ہیں۔

یمن کے 276 اضلاع میں کیے گئے سروے کے مطابق 42 فیصد طبی مراکز میں صرف دو دو ڈاکٹر ہیں، عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ صحت عامہ کی خدمات نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو زندگی بچانے کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے تک یمن میں 7070 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور 36 ہزار 818 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یمن میں 20 لاکھ افراد غذائیت میں کمی کا شکار ہیں اور ان میں سے تین لاکھ 70 ہزار وہ بچے بھی شامل ہیں جنھیں غذائیت کی شدید کمی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here