هوم انٹرویوز پاکستان علامہ ساجد نقوی اگر لبنان میں پیدا ہوتے تو حسن نصراللہ ہوتے
علامہ ساجد نقوی اگر لبنان میں پیدا ہوتے تو حسن نصراللہ ہوتے
Hits smaller text tool iconmedium text tool iconlarger text tool icon
راجہ ناصر عباس ان لوگوں میں سے ہیں جو علامہ ساجد نقوی کے ساتھ بیٹھیں گے، شہنشاہ نقوی

پاکستان کے معروف خطیب ونامور عالم دین مولانا شہنشاہ حسین نقوی 1973ء کو خیرپور میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد 15 سال کی عمر میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم تشریف لے گئے۔ وہاں پر 15 سال تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔ دو سال تک آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی اور آیت اللہ جعفر سبحانی کے درس خارج میں شرکت کی۔ پچھلے آٹھ سال سے مسجد باب العلم کراچی میں فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،اس وقت کئی ایک رفاحی ادارے چلا رہے ہیں۔آپ قائدملت جعفریه حضرت علامه سیدساجدعلی نقوی سے بے انتہاعقیدت رکهتے ہیں

س: اپنے ابتدائی حالات زندگی کے بارے میں بتائیں، ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی اور عملی زندگی میں کیسے آنا ہوا۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی: میں نے ابتدائی تعلیم خیرپور کے ناصر پبلک سکول اور کمپری ہینسو پبلک سکول سے حاصل کی اور اس کے بعد دینی تعلیم کے لئے ایران قم چلا گیا۔ جب ایران میں اسلامی انقلاب آیا، تو میں چھ سال کا تھا، میری پیدائش 73 کی ہے چونکہ انقلاب کا سب پے اثر تھا، اس وقت بڑے پردوں پر امام خمینی رہ کی فلمیں چلتی تھیں۔ میں نے اس وقت ایک خواب دیکھا کہ امام خمینی رہ پاکستان تشریف لائے ہیں، بڑا استقبال ہے، وہ امام بارگاہ میں خطاب کر رہے تھے میں کودتا پھلانگتا آگے چلا گیا۔ 
تقریر کے دوران میں نے ان سے کہا کہ کچھ دیجیے تو انہوں نے منہ سے دو پتھر نکالے، یہ چھ سال کا خواب بتا رہا ہوں۔ دو پتھر انہوں نے مجھے دئیے، یوں لگا جیسے مرجان کے پتھر ہیں۔ دوسرے دن اس خواب کا ذکر میں نے اپنے علاقے کے عالم دین سے کیا، جو آج کل ملیر میں ہیں، انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور کہا کہ تم عالم دین بنو گے۔ اب میں بے چین تھا کہ میں نے دینی تعلیم کے لئے جانا ہے، میٹرک میں نے اچھے نمبروں سے پاس کیا، اور 1987ء میں میں قم چلا گیا۔ اس وقت میری عمر 15سال تھی، بلوغت کی عبادات پاکستان سے نکلتے نکلتے مجھ پر واجب ہوئیں۔ 
15 سال میں نے قم میں تعلیم حاصل کی۔ خطابت کا بچپن سے شوق تھا، مولانا عون نقوی میرے بڑے بھائی ہیں، جیو ٹی وی پے اکثر آتے ہیں، وہ اکثر دوران مجلس مجھ سے روباعی پڑھواتے تھے، جس وجہ سے مجمعے سے میرا حجاب ٹوٹ چکا تھا۔ پہلے پانچ سال میں نے قم میں مجلسیں نہیں پڑھیں، چونکہ تعلیم کا حرج ہو سکتا تھا، لمعہ کے بعد میں نے مجالس شروع کیں۔ دینی تعلیم میں درس خارج میں نے مکمل نہیں کیا۔ 
دو سال درس خارج آیت اللہ مکارم شیرازی کا دیکھا، آیت اللہ جعفر سبحانی کا اصول تھا اور آیت اللہ مکارم شیرازی کی فقہ تھی۔ شروع سے ہی ذہن بن گیا تھا کہ مجتہد نہیں بننا جو کہ غلط تھا اور پاکستان کے ماحول میں واپس آنا تھا، تو کم دینی تعلیم حاصل کی۔ پاکستان آیا تو سلطان المدارس کے پرنسپل کے طور پر کام شروع کیا، جہاں ماحول سازگار نہیں پایا، کراچی میں مسجد باب العلم کی دعوت شروع ہی سے تھی، فاضل موسوی صاحب کی مسجد ہے، اسکی تعمیر میں اور وہاں کے لوگوں کی تربیت میں ان کا بہت بڑا کردار ہے۔ گذشتہ آٹھ سال سے اس مسجد میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ مجالس کے سلسلے میں 9 سال سے جامعہ منتظر لاہور میں عشرہ پڑھ رہا ہوں۔ 

س: رفاہ عامہ کے لئے جاری منصوبوں کے کے حوالے سے قارئین کو آگاہ کریں۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی: کچھ ادارے بنانے کی توفیق ہوئی ہے، ایمبولینس سروس کا ادارہ ہے، جے ڈی سی کے نام سے جسمیں دس گاڑیاں ہیں، جو مختلف ہسپتالوں کے باہر عمومی سروس کے کے تیار کھڑی ہیں۔ اپنے پروگرامات میں ہماری سروس فری ہوتی ہے اور تمام خدمات رضاکارانہ ہوتیں ہیں اور شہیدوں کے جنازوں اور زخمیوں کو ہماری ایمبولینس خدمات فراہم کر چکی ہیں۔ اس ایمبولینس سروس کو ہم باقی شہروں تک بھی لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 
اس کے علاوہ القائم کے نام سے ٹرسٹ ہم نے رجسٹر کروایا ہے۔ ایک ہسپتال کام کر رہا ہے، خیرپور میں القائم کے نام سے ایک سکول بھی قائم کیا گیا ہے۔ لاڑکانہ اور حیدرآباد میں بھی سکول کے لئے زمین لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تحقیقی کاموں کے لئے دارالتحقیق کا شعبہ قائم کیا گیا ہے، جسمیں پندرہ عالم کام کر رہے ہیں اور ماہانہ دو لاکھ کی تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہ ادارہ بیس کتب لکھ چکا ہے اور ایک ہزار سے زیادہ سوالات کے جواب دے چکا ہے، اس کے علاوہ نہج البلاغہ پر کام جاری ہے۔ ان سارے کاموں کے ساتھ میرا ایک مدرسہ ہے، سلطان المدارس خیرپور، جہاں پہلے میں نہیں رکا تھا لیکن اب وہ مکمل میرے کنٹرول میں ہے اور مختصر یہ کہ میرا شعبہ خطابت کا ہے۔ 

س:نمائش چورنگی سانحے کے حوالے سے ہم دیکھتے ہیں کہ انتظامیہ نے کالعدم تنظیم کے افراد کو رہا کر دیا، اس طرح اگر حکومت کالعدم جماعتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکتی رہی تو امن کیسے قائم ہو گا اور کیا ہماری منقسم قیادت ان حالات کا مقابلہ کر سکے گی۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی: پاکستان میں ایک کلچر ایک ثقافت رائج ہے جس کا زور زیادہ ہوگا وہ اپنی بات منواتا ہے، یہ صرف مذہبی دنیا میں نہیں ہے سیاسی دنیا میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں، قائد مسلم لیگ نواز شریف نے ریلی نکالی تو انہوں نے چیف جسٹس صاحب کو بحال کروا لیا اور عمران خان نے جلسہ کیا تو ان کا چرچا شروع ہو گیا، ہمارے ہاں سیاسی دنیا میں بھی اور مذہبی دنیا میں بھی جس کا زور زیادہ ہے، جس کا ڈنڈا موٹا ہے، اس کی بات کو مانا جاتا ہے، اگرچہ یہ ثقافت اچھی نہیں ہے۔ یہ کالعدم جماعت جس کی پشت پناہی بیرونی ممالک کر رہے ہیں اور بعض ادارے بھی ان کے پیچھے ہیں۔ اس کالعدم جماعت سے بلینک چیک برآمد ہوئے ہیں اور ان کے دینے والے واضح ہیں۔ 

پاکستان میں ان کا سب سے بڑا مرکز بنوریہ ٹاؤن ہے، اگر وہاں کا پرنسپل گورنر کے پاس جاتا ہے تو بہر حال اس کا ایک نتیجہ برآمد ہوتا ہے، چونکہ یہ سیاسی اور بیورو کریسی کے لوگ سب کو راضی رکھتے ہیں۔ مجھے منظور وسان نے کہا کہ جن لوگوں کی تصویر اور ثبوت موجود ہیں، انہیں ہم نہیں چھوڑیں گے۔ چونکہ ایام عزاء ہیں قوم یکجا ہے، میں نے مجلس میں حکومت پر واضح کیا کہ ہمارا ڈنڈا بھی آٹھ ربیع اول تک بہت موٹا ہے۔ اگر ڈنڈے کی سیاست ہی رائج ہے تو ہم بھی اس کے لئے تیار ہیں۔
دوسری بات ہمارا جو آپس میں عدم اتفاق ہے، گروپنگ ہے، بدعنوانیاں ہیں، عدم برداشت ہے اور اخلاقی کمزوریاں ہیں، جس کا تنیجہ بہرحال یہ ہے۔ ورنہ تشیع کا جو دور مفتی جعفر اور شہید حسینی کی قیادت میں تھا۔ اسی طرح علامہ ساجد نقوی کا پہلا دور جو پہلے دس سال تھے، وہ ایک مثالی دور تھا۔ 

س:قائد شہید کے دور کی طرف اشارہ کرنا چاہوں گا، جب شہید قائد نے ایک خالی کاغذ موسوی صاحب کو بھیجا اور کہا کہ شرائط آپ تحریر کریں، میں آپ کے ساتھ اتحاد کرنے کو تیار ہوں، کیا وجہ ہے کہ اس دور میں کوئی اسطرح کی پیش رفت نظر نہیں آتی۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی:میں پاکستان میں جب شخصیات کی فہرست بناتا ہوں تو ان میں علامہ ساجد نقوی کو سب سے بڑا آدمی جانتا ہوں۔ اس میں دو رائے نہیں ہیں کہ آپ کے پاس ایسا آدمی نہیں ہے کہ جو سوچ رکھتا ہو، سمجھ رکھتا ہو، اور آقای خامنہ ای، آغا سیستانی اور حسن نصر اللہ سے ڈائریکٹ ڈائلنگ رکھتا ہو۔ لوگوں کے پاس تو خمس کے اجازے نہیں ہیں، ان کے پاس نمائندگی کا اجازہ ہے، جو پاکستان میں دعویدار ہیں رہبریت کے، ان کے پاس خمس کے اجازے نہیں ہیں۔

میں پاکستان میں شیعہ شخصیات میں سب سے بڑی شخصیت علامہ ساجد نقوی کو مانتا ہوں، قومی مسائل کے سلسلے میں عباس کمیلی، راجہ ناصر اور مولانا مظہر کاظمی سے مشورہ کرتا ہوں اور ان تمام کے ساتھ ساتھ علامہ ساجد نقوی سے بھی مشورہ کرتا ہوں اور میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ ان تمام مشوروں میں جو سب سے پکا اور تجربے کار مشورہ ہوتا ہے وہ علامہ ساجد نقوی کا ہوتا ہے۔
یہ جتنے نام میں نے لئے ہیں جب یہ علامہ ساجد نقوی کے سامنے جاتے ہیں تو بچوں کی طرح بیٹھتے ہیں، شاگردوں کی طرح ہوتے ہیں اور شاگرد ہیں ان کے۔ اب آ جاتی ہے بات جو آپ نے کی۔ علامہ عارف حسین الحسینی شہید کی کہ انہوں نے موسوی صاحب سے اتحاد کی بات کی تھی تو ایسا ہونا چاہیے اور میں نے اس سلسلے میں علامہ ساجد نقوی سے بات کی ہے، جس پر ان کا کہنا تھا کہ ان میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ کچھ وہ ہیں جن کے فیصلے ان کے اپنے ہاتھ میں نہیں ہیں، جو یہاں فیصلہ کر جائیں گے، باہر جا کے بدل جائیں گے، نام نہیں لئے انہوں نے۔ 
دوسرے وہ لوگ ہیں جو اپنی سوچ رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے گمان ہے کہ راجہ ناصر صاحب ان لوگوں میں سے ہیں جو علامہ ساجد نقوی کے ساتھ بیٹھیں گے۔ راجہ صاحب بہت مثبت سوچ رکھتے ہیں، امید ہے کہ ان شخصیات میں نشست ہونے جا رہی ہے۔ 

س:ہم اتحاد بین المسلمین کی بات تو کرتے ہیں، متحدہ مجلس عمل کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، سنی تحریک کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن اتحاد بین تشیع نظر نہیں آتا، اسکی کیا وجوہات ہیں۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی: جو چاہتے ہیں کہ اتحاد ہو انہیں اخلاقیات کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ اتحاد نہ ہونے کی بڑی وجہ عدم تربیت ہے، تربیت کے فقدان میں مولوی کا قصور ہے۔ ہم ایک جانب انقلاب اور مرجعیت کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری جانب ہم اپنے نفس کی غلامی کر رہے ہوتے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی کے ہاں بھی مسائل ہیں۔ ابلاغ کا سسٹم ناقص ہے، ان کی کارکردگی عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ 
ڈیرہ اسماعیل خان میں درجنوں جنازے روزانہ اٹھ رہے تھے، کیا کوئی فرشتہ آیا ہے بند کروانے۔ فضل الرحمان کے ساتھ ساجد نقوی کی کوششوں سے امن معاہدہ ہوا ہے۔ لیکن قوم کو اس کا علم نہیں ہے، اس لئے کہا جاتا ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ آیت اللہ اختری پچھلے دنوں تشریف لائے۔ رہبر معظم کا پورا دفتر آیا ہوا تھا۔ گفتگو کے دوران آیت اللہ اختری نے کہا کہ رہبر معظم ساجد نقوی پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ جہاں ہم ساجد نقوی سے توقعات رکھتے ہیں، وہاں ان سے پوچھا جانا چاہیے کہ ان کی مشکلات کیا ہیں۔ ان پر حکومت کی طرف سے پابندی لگائی گئی۔ ان کے لوگوں کی پکڑ دھکڑ کی گئی، دفاتر کو سیل کیا گیا۔ تحریک جعفریہ ٹرسٹ کی زمین تھی، وہ سیل کر دی گئی۔ 

کچھ عرصہ قبل ملتان ائیرپورٹ پر میری ملاقات صاحبزادہ ایوالخیر زبیر سے ہوئی، مجھ سے کہنے لگے جب تک یہ اتحاد نہیں بنا تھا اور علامہ ساجد نقوی سے ہماری ملاقات نہیں ہوئی تھی، ان کے ساتھ نہیں بیٹھے تھے ہمارے کچھ اور تصور تھے شیعہ کے بارے، ان بیٹھکوں نے ہمارے بڑے مسئلے حل کئے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی شہید الصدر کے خاص شاگرد ہیں، شہید کے دفتر میں دو لوگ کام کرتے تھے، ایک علامہ ذیشان حیدر جوادی اور دوسرے ساجد نقوی تھے۔ آپ شہید الصدر کے خطوط کو تیار کرتے، ان کی سیٹنگ کرتے تھے تو اس سے ظاہر ہے علمی حوالے سے کمزور نہیں تھے۔ پاکستان میں جتنی بھی شخصیات ہیں دو چار کے علاوہ ان کے شاگرد ہیں، علامہ ساجد نقوی اگر لبنان میں پیدا ہوتے تو حسن نصراللہ ہوتے، پاکستان میں کلاس ان کو نرسری اور کے جی کی ملی ہے، اور وہ استاد ہیں پی ایچ ڈی کے۔

س:ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں اسلامی تحریکیں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں، حزب اللہ، حماس، اخوان المسلمون کی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں لیکن پاکستان میں اسلامی تحریکیں آپس کے مسائل میں الجھ کر رہ گئیں ہیں۔؟ 
مولانا سید شہنشاہ نقوی:دیکھیں پاکستان میں اسی مسئلے نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ہیں، میں تو اختلاف کرتا ہوں کہ پاکستان میں جو توڑ پھوڑ ہوئی ہے سیاست کی وجہ سے ہوئی ہے، آپ نے گلگت میں سیٹیں لیں، سینیٹ میں دو ممبر بھیجے، محتلف شہروں میں آپ کے لوگ بنے۔ اسی حوالے سے فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ گلگت سے پیپلز پارٹی تب جیتی ہے کہ تحریک جعفریہ نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ تحریک کی اس فعالیت کے بعد آپ پر دور بینیں اور خوردبین لگنا شروع ہوئیں۔
آپ کی وجہ سے ایرانی سفیر کا پاکستان میں استقبال اسطرح ہوتا تھا کہ امام کا کعبہ کا بھی ایسا نہیں ہوتا۔ آپ کی توڑ پھوڑ اس وجہ سے ہوئی کیونکہ کہ آپ سیاسی حوالے سے مضبوط تھے۔ پہلے انہوں نے ان کی ذاتی زندگی کا مسئلہ جو آج ثابت ہو رہا ہے کہ جھوٹ تھا۔ میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا، وہ دکھایا کچھ گیا دراصل کچھ اور تھا۔ 

میں نام نہیں لینا چاہتا، جن لوگوں نے زیادہ اس مسئلے کو اٹھایا تھا، آج وہ پشیمان ہیں۔ پھر اعظم طارق کیس میں آغا صاحب کو جیل میں رکھا گیا، ٹیسٹر لگایا گیا کہ قوم میں کتنا دم ہے، پاکستان میں شیطنت کی سیاست ہے، الہی سیاست کرنے کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اب راستہ کیا کس طرح سیاسی میدان میں مقابلہ کیا جائے، اس حوالے سے اہم شخصیات کا ایک قومی کنونش بلایا جائے اور اس میں طے کیا جائے کسطرح ہم سیاسی راستے سے اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ بہت ساری آراء ہیں ایک یہ ہے کہ جو بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں ان سے معاہدے کئے جائیں اور شیعہ اکثریتی علاقوں میں ان سے اتحاد کیا جائے۔ 
فرض کریں بھکر میں مسلم لیگ ن اسے ٹکٹ دے گی جسے ہم چاہیں گے۔ اسی طرح کوٹ ڈی جی سندھ میں ہماری سیٹ نکل سکتی ہے، لیکن ایسا سیاست سے ہی ممکن ہو گا۔ میری معلومات کے مطابق پورے ملک میں ہماری اٹھارہ سے بیس سیٹیں ہیں۔ اگر ایک شخص بھی اسمبلی میں چلا جاتا ہے تو وہ پیغام دے سکتا ہے، جسکی مثالیں موجود ہیں۔ ایم این اے ناصر علی شاہ، سینیٹر علامہ عباس کمیلی۔ پارلیمان میں اس وقت ہماری خاصی تعداد ہے، لیکن ان کی اپنی مشکلات ہیں، وہ اپنی پارٹی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ لیکن جس فارمولے کی میں نے بات کی، اس کے مطابق اگر سیاست ہو تو فائدہ ہو سکتا ہے۔ 

س:ہم دیکھتے ہیں کہ پیر حیدر علی شاہ جو ہنگو سے 80 فیصد شیعہ ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا، تو کیا اس طرح دوسروں کی سپورٹ کر کے ہم مطلوبہ تتائج حاصل کر سکیں گے۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی:ان سے باقاعدہ معاہدہ ہو تو ایسا نہیں ہو گا۔ مسلم لیگ ق کے دور میں ہم نے ایک مشیر عامر عابدی کو اس سیاست کے تحت تعینات کروایا، جنہوں نے چار سال تک کام کیا۔ تو یہ حل ہے اس معاملے کا، اگر آپ مستقل نمائندے کھڑے کریں گے تو پاکستان میں تین چار سیٹیں ہی نکل سکیں گی۔ جن میں کوئٹہ ،بھکر، گلگت بلتستان وغیرہ شامل ہیں۔ 

س:کافی تعداد میں بے گناہ مومینن قید و بند کی صعوبتوں کو جھیل رہے ہیں۔ ان اسراء امامیہ کے حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی: جی اس سلسلے میں کام ہوا ہے۔ زرداری سے دو ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔ ان مسائل پر بات ہوئی ہے، لیکن ان مسائل کے سلسلے میں بات جاتی ہے ایک ایسے ادارے کی طرف جو صدر کے اختیار سے بھی باہر ہے، اس سے کوئی بات نہیں کر سکتا، اس کے اپنے ارادے ہیں، اس کے اپنے منصوبے ہیں۔
ہمیں اگر قید سے رہا کریں گے تو ہم کیا کر بیٹھیں گے، گھر جا کر بیٹھ جائیں گے۔ لیکن ادھر سے جب چھوڑیں گے تو ان کو فائدہ ہو گا وہ ایسے کام کریں گے جو دنیا چاہتی ہے۔ جو اسرائیل و امریکہ چاہتے ہیں، ایک شخص کی آزادی کے بعد پورے ملک میں فساد شروع ہو چکا ہے، کراچی کا پہلی محرم کا واقعہ اور سکھر کا واقعہ، خیرپور میں بھی ایک واقعہ رونما ہوا ہے، جھنگ اور اس کے علاوہ حسن کالونی کراچی میں شام غریباں کی مجلس نہیں کرنے دے رہے تھے۔ ہم اہنے اسرا کے معاملے میں قانون کے خلاف نہیں جانا چاہتے، ہم کہتے ہیں ان کے کیس چلاؤ، ان کے کیس تک نہیں چلا رہے۔

س:کراچی میں کئی دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے، کیا آج تک اس سلسلے میں کسی مجرم کو سزا ہوئی ہے۔؟
مولانا سید شہنشاہ نقوی:گل حسن ایک ماسٹر مائنڈ تھا اسکو سزا ہوئی ہے، بعد ازاں سپریم کورٹ میں انہوں نے اپیل کر دی ہے اور ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ عاشورا کے دھماکے میں وہ لوگ تھے جو عدالت سے بھاگ گئے تھے، ان کی اطلاع ہے کہ وہ یکم محرم کے واقعے کے بعد پولیس کی حراست میں ہیں۔

 

Comments  

 
0 #12 ALI HUSSAIN GILL 2013-02-05 20:45
ALLAH TALLA QAID E MUHTRAM KI UMR DRAZ FARMAY AAMEEN
Quote
 
 
+4 #11 MUSTAFA.MOSAVI 2012-05-22 19:47
SALAM,QUAID KA FARMAN PAR JAN BHI QURBAN HA
Quote
 
 
+6 #10 m.hassan motahari ma 2012-05-17 06:35
خدا وند کریم فحق محمد و آل محمد قائد محترم کا سایہ ھمیشہ ھمارے لئے قائم و دائم رکھے۔۔۔۔۔
اس میں کوئی شک نہیں ھمارے لئے قائد محترم سید حسن نصراللہ ہیں۔۔۔
لبیک یا قائد محتر۔۔۔
http://talutaurooj.blogfa.com/
Quote
 
 
+5 #9 shabbir balti 2012-03-29 08:07
Sajid quied k alan pr jan b qurban hn Allah wahid sajjid Quied
Quote
 
 
+9 #8 abbas 2012-03-28 11:24
Allah Ulama ka saayea Qaom k saron pe qayem dayem farmaye
Quote
 
 
+11 #7 AHMED ALI 2012-02-05 14:20
ULMA HE AMBIYA K WARIS HEIN
SALAM ALAMA SYED SHAHENSHA HUSSAIN NAQVI
HUM SAB QUAID E MOHTRAM K SIPAHI HEIN
Quote
 
 
+14 #6 syed shahabal 2012-01-14 09:13
slam ber qaide mohtram :jo jhan paid hota he use wheean k halat k mutabiq hi sochna parta he ,is lye aese sochna k kash wo whan paida hote to aesa hota ,ye bate qaide k pakistani halat k samne unki shakhsiat ka graph girane k mutaradif hn
Quote
 
 
+14 #5 Naeem Ahmad gilgit 2012-01-10 18:26
allah salamat rakhay hamare qaid mohtram ko aur isi trah hamari qom ki rehnomai krta rahey
ameen


jis qom ka nara ali wali
us qom ka qaid sajid ali
 
Quote
 
 
+21 #4 rubab 2011-12-28 16:33
Its so good to read the interviews of such Alim may Allah bless them always amin..
Quote
 
 
+23 #3 Agha Waseem 2011-12-25 11:44
Mashallah,
Jis Kom ka nara Ali Wali,
Us Kom ka Qaid Sajid Ali,
Quote
 

Add comment