• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

 امام حسن عسکری ؑظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ تھے ، قائد ملت علامہ ساجد نقوی

 امام حسن عسکری ؑظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ تھے ، قائد ملت علامہ ساجد نقوی

 امام حسن عسکری ؑظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ تھے ، قائد ملت علامہ ساجد نقوی
 امام نے اپنی مختصرحیات طیبہ میں بھی دین کی آفاقی تعلیمات کی ترویج و اشاعت اور فروغ کے لئے بے پناہ جدوجہد کی، قائد ملت جعفریہ
حضرت امام حسن عسکری ؑ کے عظمت و بزرگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پوری کائنات جس مسیحا کی منتظر ہے وہ انہی کے فرزند صالح حضرت امام مہدی ؑ ہیں
راولپنڈی/ اسلا م آباد4نومبر 2022 ء ( جعفریہ پریس پاکستان  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گیارہویں امام حضرت حسن عسکری ؑکے یوم ولادت(تاریخی روایات کے مطابق8 ربیع الثانی اور پاکستانی شہرت کے مطابق10 ربیع الثانی) پر اپنے پیغام میں کہا کہ امام نے نہایت کٹھن اور نامساعد حالات میں اپنے والد گرامی حضرت امام علی نقی ؑکی شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالا۔امام حسن عسکری ؑ کااول دن سے واسطہ اپنے آباءواجداد کی طرح اس وقت کے ظالم‘ جابر‘ غاصب اور عیار حکمران طبقات سے تھا اور آپ کی مثال اس دور میں ایسی ہی تھی جس طرح ظلم و استبداد کی سیاہ آندھیوں میں ایک روشن چراغ کی ہوتی ہے۔آپ نے علوم اوردعاو مناجات کے ذریعہ عوام کو مستفید کیا۔ گویا سنت و سیرت رسول اکرم اور امیر المومنین حضرت علی ؑ سمیت اپنے اجداد سے ودیعت ہونے والے علوم مرتبے‘ منزلت‘ روحانیت اور عمل کے ذریعے اپنے وقت کے عام انسان‘ عام مسلمان اور حکمران کو رشد و ہدایت فراہم کی جس کے اثرات ان کے دور میںان کے معاشرے اور ماحول میں واضح انداز میں مرتب ہوئے اور لوگوں کی کثیر تعداد راہ حق اور سچائی کی طرف متوجہ ہوئی۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسن عسکری ؑ نے اپنی مختصرحیات طیبہ میں بھی دین کی آفاقی تعلیمات کی ترویج و اشاعت اور فروغ کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور اس راستے میں اس وقت کے حکمرانوں کے ظلم و ستم اور قید و بند کی صعوبتیں تک برداشت کرتے ہوئے اپنے مخلصین کے ذریعہ پیغام حق و صداقت عوام تک پہنچایا۔انہوں نے مزید کہا کہ امام حسن عسکری ؑ نے بھی ہمیشہ اپنے اجداد کی طرح دینی تعلیمات کی حفاظت اور پاسداری میں اپنی زندگی کے گرانقدرلمحات کو صرف کیا اورحق و صداقت کی حمایت جاری رکھی اگرچہ حق و صداقت کی حمایت اور عوام کی خدمت اس دور کے حکمرانوںکے لئے کبھی قابل برداشت نہیں رہی ۔ دور حاضر بھی اسی قسم کی مشکلات اور مسائل کا مرقع بن چکا ہے اور ہر انسان ایک مسیحا کے انتظار میں ہے یہی فکر، سوچ اور انتظارہی دراصل نظریہ مہدویت کی متقاضی ہے چنانچہ حضرت امام حسن عسکری ؑ کے عظمت و بزرگی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پوری کائنات جس مسیحا کی منتظر ہے وہ انہی کے فرزند صالح حضرت امام مہدی ؑ ہیں۔قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دور حاضر میں دنیائے انسانیت کو بالعموم اور عالم اسلام کو بالخصوص جن بحرانوں اور چیلنجز کا سامنا ہے اور انسانی معاشرے جس گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں ان میں انسانوں کو ہدایت اور روحانیت کی ترویج ضرورت ہے جو انہیں حضرت امام حسن عسکری ؑ کی سیرت کا مطالعہ کرکے اور اس پر عمل کرکے حاصل ہوسکتی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم انکی پاکیزہ سیرت پر عمل کرکے انسانیت کو مسائل سے نجات دلائیں اوراسلام کا عادلانہ نظام رائج کرکے عدل و انصاف سے مزین معاشرے تشکیل دیں اور اپنا انفرادی و اجتماعی کردار ادا کریں۔