• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی کا پیغام

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کا پیغام

امام زین العابدین علیہ السلام کے یوم شہادت پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی کا پیغام

 امام سجاد ؑ واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں ‘واقعہ کربلا کے حقائق سے لوگوں کو آگاہ کیا ، اور انتہائی سنگین حالات میں ادعیہ و تبلیغ کے ذریعے عالم انسانیت کے لئے صبر واستقامت کی بنیادیں فراہم کیں(علامہ ساجد نقوی)
راولپنڈی/ اسلام آباد24 اگست 2022 ء( جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے25 محرم الحرام امام چہارم امام زین العابدین ؑ کے یوم شہادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امام سجاد ؑ واقعہ کربلاکے عینی شاہد ہیں آپ ؑ نے واقعہ کربلا کے حقائق کو بیان فرمایا اور اپنی ادعیہ و تبلیغ کے ذریعے دنیا کو اصل حقیقتوں سے آگاہ کیااور صبر و استقامت کی بنیادیں فراہم کیں۔جس سے اس پروپیگنڈے کے اثرات رفع ہوئے جو شکوک و شبہات کے ذریعے عوام کے اندر پھیلائے گئے تھے اپنے کردار وعمل کے ذریعے یزیدیت کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے خدوخال کو جس طرح واضح کیا یہ انداز باطل قوتوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی ہرقوت کے لئے رہنما حیثیت رکھتا ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ سید الساجدین ؑ نے ولادت سے لے کر کربلا اور کربلا سے لے کر آخری سانس تک انتہائی کٹھن اور سنگین حالات کو برداشت کرکے عالم انسانیت کے لئے صبر واستقامت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں جن سے ہر دور کا انسان استفادہ کررہا ہے اور حق پر قائم رہتے ہوئے مرنے کا حوصلہ پارہا ہے۔ امام زین العابدین ؑ نے زہد وتقوی اور روحانیت کے جو راستے متعین کئے اور ذہن و قلوب کو جلا بخشنے ، باطن میں روشنی پیدا کرنے، نفس امارہ کو شکست دینے اور خدا کے ساتھ لو لگانے کے لئے دعاﺅں کا جو ذخیرہ امت کو فراہم کیا ہے دور حاضر میں مادیت سے گھری انسانی زندگی میں اس سے استفادہ کیا جائے تو دنیوی و اخروی نجات کا سامان فراہم ہو سکتا ہے۔ اپنی مناجات میںامام زین العابدین فرماتے ” خدا کی بارگاہ میں دو قطروں کے علاوہ اور کوئی محبوب نہیں ایک راہ خدا میں گرنے والا شہید کے خون کا قطرہ اور دوسرارات کی تاریکی میں خوف و تقرب الہی کے لئے گرنے والا آنسو کا قطرہ“۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام چہارم ؑ کو یہ امتیازی خصوصیت حاصل تھی کہ انہوں نے دعاﺅں اور مناجات کے ذریعے انسان کو اپنے خالق سے براہ راست مربوط و مخاطب ہونے کا گر سکھایا اور عبادات کے ذریعے اپنے نفس پر کنٹرول کرنے کی رسم ڈالی۔ فقط یہی نہیں بلکہ آپ ؑ کی مناجات اور دعاﺅں میں دین مبین کی اساس ، توحید کا تصور، رسالت و امامت کا مرتبہ، انسانی مشکلات کا حل، انفرادی و اجتماعی مسائل کی نشاندہی ، ان کے حل کے لیے جدوجہد اور اپنی خامیوں اور غلطیوں کا ازالہ کرنے کا طریقہ موجود ہے۔ آج اگر ہم ” صحیفہ کاملہ “ کی شکل میں ان مناجات کے ذریعے اپنی زندگیوں میں انقلاب برپا کریں تو ہمیں نہ صرف اپنے نفس پر کنٹرول ہوگا بلکہ ہم انسانوں کے دلوں پر حکمرانی کے راز سے آشنا ہو جائیں گے اور صبر و حکمت کے ذریعے دنیا کو مسائل و مشکلات سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کر سکیں گے۔قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ دور حاضرکی یزیدی قوتیں عالم اسلام کی دینی ، علمی، ثقافتی، تہذیبی روایات اورآزادی و استقلال کو ختم کرنے اور وسائل کو تباہ کرنے کے درپے ہیں لہذا اس کٹھن دور اور سنگین مرحلے میں امام سجاد ؑ کے عطا کردہ اصول اور اساسی نقوش سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئے روپ میں آنے والی یزیدیت کو بے نقاب کیا جائے اور امت مسلمہ کی محرومیوں کو اجاگر کرکے لوگوں کے اندر شعور و بیداری پیدا کی جائے۔