• قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ
  • اسلامی تحریک پاکستان کا اعلی سطحی وفد گلگت بلتستان کے دورے پر اسکردو پہنچے گا
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ۸ شوال یوم جنت البقیع کے عنوان سے منائے گی

تازه خبریں

کورونا وائرس

امریکہ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد تیس لاکھ کے قریب

امریکہ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد تیس لاکھ کے قریب

ورلڈو میٹر کے مطابق کورونا وائرس کے مقابلے میں صدر ٹرمپ کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد انتیس لاکھ پینتس ہزار سات سو ستر ہے جبکہ ایک لاکھ بتیس ہزار سے زائد لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

پچھلے چوبیس گھنٹے کے دوران ریاست فلوریڈا، ٹیکساس اور کیلیفورنیا کورونا کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ امریکہ میں سر فہرست رہیں۔ قبل ازیں امریکی مرکز برائے متعدی امراض کے سربراہ انتھونی فوچی نے کورونا کی صورتحال کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں روزانہ چالیس ہزار سے زائد لوگ کورونا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کورونا کے مریضوں میں اضافے کی رفتار ایک لاکھ افراد یومیہ تک پہنچ جائے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔

انتھونی فوچی نے امریکہ میں کورونا کے آغاز کے بعد پیش گوئی کی تھی کہ یہ وائرس ایک لاکھ امریکیوں کی قربانی لے گا اور بیس لاکھ لوگ اس میں مبتلا ہوں گے۔ اگرچہ اس وقت ان کی اس پیشگوئی پر منفی ردعمل ظاہر کیا گیا تھا لیکن موجودہ صورتحال، اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوگئی ہے۔ امریکہ کورونا وائرس کے مریضوں اور اموات کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے اور صورتحال میں بہتری کے فوری آثار دکھائی نہیں دے رہے ۔