تازه خبریں

اپوزیشن لیڈر کا انتخاب _ حقائق نامہ (سید محسن رضا نقوی

اپوزیشن لیڈر کا انتخاب _ حقائق نامہ (سید محسن رضا نقوی )
گلگت بلتستان الیکشن میں ایک شیعہ گروہ کی پالیسی کی وجہ سے جو نقصان ھوا وہ تو سب کے سامنے ہے لیکن مجلس وحدت اپنی وہی پالیسی جاری رکھے ہوے ہے ، جیسا کہ آپ کو پتا ہے کہ الیکشن کے بعد حکومت سازی اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا مرحلہ ھوتا ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی میں یہ مراحلہ مکمل ھو چکا ھے،وہ کیسے ھوا اس پر بات کرنے سے پہلے پارٹی پوزیشن واضع کر دوں۔
مسلم لیگ نواز: 22 سیٹیں لے کر پہلے
اسلامی تحریک: 4 سیٹیں لے کر دوسرے
مجلس وحدت: 3 سیٹیں لے کر تیسرے
پیپلز پارٹی: 1 سیٹ،جمیت علماء اسلام (ف) اور تحریک انصاف بھی 1 سیٹ لے کرتینوں جماعتیں چوتھے نمبر پر رہیں جب کہ
ایک آزاد امیدوار بھی ھےـ
اب آتے ہیں حکومت واپوزیشن سازی کی طرف __
مسلم لیگ نواز کے علاوہ باقی تمام جماعتوں نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا اس لئیے اسمبلی میں بھاری اکثرت کیوجہ سے اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر،اور وزیر اعلی کے عہدوں پر مسلم لیگ نواز کا حق بنتا تھا لیکن اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن لڑنے فیصلہ کیا،جس کے مطابق تحریک انصاف کے جہانزیب اسپیکراور مجلس وحدت کے امتیاز کاچوڈپٹی اسپیکر کا الیکشن لڑیں گے، لیکن عین انتخاب کے وقت دونوں امیدوارں نے متحدہ اپوزیشن کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم لیگ نواز کے امیدوارں کے حق میں کاغذات واپس لے لئے جس سے مسلم لیگ نواز کے امیدوارں بلامقابلہ منتخب ھو گئے۔
یہاں ان لوگوں سے سوال ھے کہ جو جھوٹ بول بول کر کہتے تھے تم مسلم لیگ نواز کے اتحادی ھو، سوال یہ کہ تمھارا امیدوار مسلم لیگ نواز کے حق میں دستبردارکیوں ھوا؟؟؟
وزیر اعلی بھی مسلم لیگ نواز کا منتخب ھو گیا۔
اب اگلا مرحلہ اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا تھا، اپوزیشن جماعتوں میں سے اسلامی تحریک سب سے بڑی جماعت تھی اسلئیے اخلاقی طور پراپوزیشن لیڈر پر اسلامی تحریک کا حق تھا اور تمام اپوزیشن جماعتوں کوچاہیے تھا کہ وہ اپوزیشن لیڈر کےلئیے اسلامی تحریک کوسپورٹ کرتیں۔
اب یہاں پہ وحدت وحدت کا نعرہ لگانے والوں نے کیا خوب وحدت مظاہرہ کیا ، اسلامی تحریک کو اپوزیشن لیڈرکےلئے کم از کم 6 ووٹوں کی ضرورت تھی جس کے لئیے پیپلز پارٹی کے عمران ندیم نے حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ اگر آپ ایک اور ووٹ کا بندوبست کر لیں تو میرا ووٹ آپ کا اسلامی تحریک نے جمیت علماء اسلام (ف) سےبات کی انہوں نے بھی حمایت کا یقین دلایا،اس طرح 6 ووٹ پورے ھو گئے مزید اسلامی تحریک نے تحریک انصاف سے ووٹ مانگا جس پر جہانگرترین نےحمایت کا یقین دلایا اس طرح سلامی تحریک کے 7 ووٹ ھو گئے،اور اسلامی تحریک کا اپوزیشن لیڈر بنانا یقینی تھا۔
اب یہ بات وحدت کا نعرہ لگانے والوں کے لئیے ناقابل ہضم تھی تو انہوں نے اپنی گیم شروع کر دی سب سے پہلے تحریک انصاف سے اپنے اچھے تعلقٓات کا فائدہ اٹھاتے ھوئے تحریک انصاف کو اسلامی تحریک کی حمایت نہ کرنے پر راضی کیا اور کہا کہ ان کے امیدوار کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنایا جاۓ گا جب وہ راضی ھو گے تو پھر آزاد امیدوار ناجی کو پیسے کی آفرکی اور حمایت مانگی جس پر وہ راضی ھو گیا۔اس طرح مجلس وحدت کے پس کل 5 ووٹ ھو گے پھر پیپلز پارٹی کے عمران ندیم سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے پہلےانکار کر دیا اور کہا میں اسلامی تحریک کو حمایت کا یقین دلا چکا ھوں،اس انکار کے بعد انہوں نے عمران ندیم کو بھی لیڈر آف دی اپوزیشن بنانے کا جھانسا دیا اور یہاں تک کہا کہ تحریک اسلامی کو بھی ساتھ لے آؤ اس نے اسلامی تحریک سے رابطہ کیا تو اسکو جواب دیا گیا کہ لیڈر آف دی اپوزیشن کا فیصلہ پارلیمانی بورڈ کرے گی اسکو یقین تھا کہ مجلس وحدت اسی کو لیڈر بناۓ گی اس لئے اس نے تحریک اسلامی سے کہا اگر آپ مجھے نہیں بنا سکتے تو میں مجلس والوں کا ساتھ دوں گا کیوں کہ وہ مجھے لیڈر بنانے پر تیار ہیں اس کے بعد مجلس نے جمیت علماء اسلام(ف) کے شاہ بیگ سے رابطہ کیا اور حمایت مانگی لیکن انکار ھوا ، کیوں کہ اسلامی تحریک کا راستہ لازمی روکنا تھا اس کے لئے جمیت علماء اسلام(ف) کے شاہ بیگ سے کہا گیا کہ چلو اگر ہمیں ووٹ نہیں دیتے تو پھر آپ کو ھم ٦ ووٹ دیتے ھیں آپ بن جائیں اپوزیشن لیڈرجس پر شاہ بیگ لالچ میں آکر راضی ھو گیا،جب مولانا فضل الرحمن نے شاہ بیگ سے رابطہ کیا تو اس کہا کہ مجلس وحدت مجھے سپورٹ کر رہی ھےاسلئیے اسلامی تحریک کو ووٹ نیں دوں گا مولانا فضل الرحمن کے اصرار کےباوجود شاہ بیگ نے صاف انکارکر دیا۔
پھر مجلس وحدت کو فضل الرحمن کے بندے کے لئیے تحریک انصاف کو راضی کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ عمران خان کے مولانا فضل الرحمن سے جو اختلاف انکی وجہ سے تحریک انصاف کا فضل الرحمن کے بندے کو ووٹ ناممکن تھا لیکن مجلس وحدت نے بڑی مشکل سے راضی کیا،کیونکہ اسلامی تحریک کا راستہ بھی تو روکنا تھا۔
آخر کر ١ سیٹ ٤ امیدوار قراندازی کی گیی خدا نے ساری چال مجلس وحدت کے سر دے ماری
مکرو و مکر الله
اس طرح وہ مجلس وحدت جو فضل الرحمن کو شیعہ دشمن کہتے نہیں تھکتی تھی آج اسلامی تحریک کی دشمنی میں اپنے ووٹوں سے اسکے بندے کواپوزیشن لیڈ ر بنوا دیا۔
اب ذرا جائزہ لیں اپوزیشن ارکان میں سے کتنے شیعہ،کتنے بریلوی اور کتنے دیوبندی تھے۔
شیعہ ارکان : 8
بریلوی ارکان : 2
دیوبندیارکان : 1
اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ مجلس وحدت نے ملت کے دردکس قدر رکھتے ھوئے8 شیعہ ارکان کے ھوتے ھوئےبھی اکلوتے دیوبندی رکن کو اپوزیشن لیڈر بنوا دیا۔
70 فی صد شیعہ علاقےمیں وزیر اعلی،ڈپٹی سپیکر،اپوزیشن لیڈر دیوبندی ۔
جب کہ صرف اسپیکر اسمبلی فدا ناشاد شیعہ ہیں جو کہ اسلامی تحریک کیوجہ سے کٓامیاب ھوئے اگر اسلامی تحریک فدا ناشادکی حمایت نہ کرتی تووہ ہار جاتےاور ان کی جگہ بھی آج ایک غیر شیعہ میر غضنفر ٓسپیکر ھوتے۔
اب قوم خود ہی مجلس وحدت کے خالی وحدتی نعروں اوراسلامی تحریک کی قومی فلاحی پالیسی کا جائزہ لے لے