• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

اگر حکومت نے یہ راستہ محفوظ نہ بنایا نہ ہی ائر لائنز کے کرایہ کو سستا کیا تو ہم ایسا احتجاج کریں گے کہ حکمرانوں کے لیے اپنے محلات سے باہر آنا مشکل ہوجائے گا

جعفریہ پریس – آج  سانحہ تفتان میں دہشت گردی کے خلاف ایک ہنگامی اجلاس جامعۃ الزھراء سدھوپورہ میں ہوا جس میں صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب مولانا مظہر عباس علوی نے کہا کہ حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں فیل ہوچکی ہے ہر طرف دہشت گردوں کا راج ہے پورے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ایک عرصہ سے کوئٹہ سے تفتان کے راستے میں دہشت گردی سے زائرین کونشانہ بنایا جا رہا ہے یہ حکومت کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آئے روز زائرین دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں ۔مزید یہ کہ وزیر داخلہ صاحب بجائے اس کے کہ زائرین کی حفاظت کا کوئی بندوبست کریں اہل تشیع اور زائرین سے یہ راستے کا استعمال ترک کرنے کا کہہ رہے ہیں اور اج اسمبلی میں کہا ہے کہ اہل تشیع حکومت کے ساتھ بیٹھیں تاکہ ہم ان کو بتائیں کہ یہ راستہ چھوڑ دیں حکومت زائرین کی حفاظت نہیں کر سکتی اس بیان پر صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب مولانا مظہر عباس علویؔ نے کہا پھر ان نااہل لوگوں کو حکومت چھوڑ دینی چاہیے یہ لوگ حکومت سے الگ ہو جائیں اگر مذکرات کی ضرورت پیش آئی تو ہم بیٹھ کر حکومت کا تجاویز دیں گے کہ اس راستے کو محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب مولانا مظہر عباس علویؔ نے کہا کہ لاکھوں زائرین اس راستہ پر سفر کرتے ہیں جو بائی جہاز کا کرایہ برداشت نہیں کر سکتے۔اگر حکومت راستے کو محفوظ نہیں بنا سکتی تو میری تجویز یہ ہے کہ کوئٹہ ، کراچی ، لاہور ، پشاور ، ملتان ، اور اسلام آباد سے PIA کی فلایٹس مشہد کیلئے شروع کی جائیں جس پر گورنمنٹ زائرین کو سبسڈی دے تاکہ وہ زیارات کا سفر مناسب کرایہ ادا کر کے کر سکیں ،ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ ہم شیعہ قوم کو دعوت دیں کہ کوئٹہ سے تفتان تک اس راستے کو محفوظ بنانے کا خود بندوبست کریں ۔ اگر حکومت نے یہ راستہ محفوظ نہ بنایا نہ ہی ائر لائنز کے کرایہ کو سستا کیا تو ہم ایسا احتجاج کریں گے کہ حکمرانوں کے لیے اپنے محلات سے باہر آنا مشکل ہوجائے گا