تازه خبریں

اے این پی کے رہنماء ہارون بلور پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں علامہ ساجد علی نقوی

اے این پی کے رہنماء ہارون بلور پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں علامہ ساجد علی نقوی

قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی اے این پی کے رہنماء ہارون بلور پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت ہارون بلور کی شہادت اے این پی سمیت تمام سیاسی قوتوں کیلئے افسوسناک ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کیلئے حکومت کو موثر اقدامات کرنے چاہیے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پشاور اے این پی کے انتخابی مہم کے دوران خودکش بم دھماکے کے نتیجہ میں عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخواہ کے پی 78کے اُمیدوار بیرسٹر ہارون بلور سمیت ایک درجن سے زائد قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار اور مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ سیکورٹی فراہم کرنا قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری تھی اس قسم کے واقعات سے نمٹنے اور انتخابات کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے تدارک کیلئے حکومت کو موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ملک میں صاف شفاف انتخابات کے لئے ضروری ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ملک میں امن و امان کی فضا کو قائم رکھنااورامیدوارں کی حفاظت کو یقینی بنانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ اگر بیرسٹر ہارون بلور کے والد بشیر احمد بلور کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرارواقعی سزادی جاتی تو آج یہ سانحہ رونما نہ ہو تا قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ہم عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کے غم میں برابر شریک ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے اس دہشتگردانہ واقعہ کے پس پردہ محرکات اور خود کش حملہ آوروں کا سراغ لگا کر ان کے سہولت کاروں کو عوام کے سامنے لاکر اس واقعہ میں ملوث افراد کو قانون کے شکنجے میں لیکرتختہ دار پر لٹکایا جائے آخر میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے خود کش دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے کیلئے اظہار تعزیت اور زخمیوں کیلئے جلد صحت یابی کی دعا فرمائی ۔

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں پارٹی رہنما اور بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور سمیت 13 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق خودکش حملہ پشاور کے علاقے یکہ توت میں اس وقت ہوا جب ہارون بلور کارنر میٹنگ میں داخل ہوئے اور اسٹیج کی طرف جارہے تھے کہ خودکش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا۔

پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کے اہلخانہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔

’دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی استعمال کیا گیا‘

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے کہا کہ واقعہ 11 بجے کے قریب پیش آیا جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اچھے معیار کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال ذوالفقار علی بابا خیل نے بتایا کہ ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور محفوظ ہیں۔

خیال رہے کہ ہارون بلور بشیر بلور کے بیٹے تھے جو 22 دسمبر 2012 کو ایک خودکش حملے کے دوران شہید ہوگئے تھے۔