• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

قائد اعظم کے افکار و تعلیمات پر عمل پیرا ہوکرہم اپنے مستقبل کو محفوظ بناسکتے ہیں‘ قائد ملت علامہ ساجد نقوی

 بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی کا نتیجہ کہ آج بھی ملک پون صدی گزرنے کے باوجود لڑکھڑا رہا ہے

 بابائے قوم کے فرمودات سے روگردانی کا نتیجہ کہ آج بھی ملک پون صدی گزرنے کے باوجود لڑکھڑا رہا ہے، ساجد نقوی
 ملک میں انصاف نہ سیاسی ، معاشی و سماجی استحکام، مسائل سے نظریں چرانے کی بجائے حقیقت کو سمجھتے ہوئے مداوا ضروری
 ارض وطن کی ترقی صرف اور صرف خود انحصاری، داخلی، خارجی اور معاشی لحاظ سے آزاد فیصلوں سے ہی ممکن ہے،قائد ملت جعفریہ
اسلام آباد /راولپنڈی 13 اگست 2022 ء(جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں پون صدی گزرنے کے باوجود آج بھی لڑکھڑا رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ بابائے قوم کے نظریات ، فرمودات اور دستور سے روگردانی ہے، آج ملک میں عدل و انصاف ہے نہ سیاسی و معاشی و سماجی استحکام، اب مسائل سے نظریں چرانے کی بجائے حقیقت کو سمجھتے ہوئے اس کا مداوا ضروری ہے، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے عظیم ماٹو کے ساتھ کیا انصاف کیا ؟پاکستان کا استحکام، ترقی صرف اور صرف خود انحصاری، داخلی، خارجی اور معاشی لحاظ سے آزاد فیصلوں سے ہی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے پاکستان کی 75ویں یوم آزادی پر ملک و قوم کے نام اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ کبھی خیال کیا گیا کہ اس وطن کے حصول کےلئے کتنی قربانیاں دی گئیں، کیسی کسی مشکلوں سے نبرد آزما ہوکر 1947ءمیں منزل حاصل کی گئی مگر پاکستان کے حصول کے بعد جسے دنیا کےلئے نمونہ بننا چاہیے تھا افسوس سب کچھ اس کے برعکس غلط پالیسیوں اور مفادات کے سبب کیاگیا۔ انہوںنے کہاکہ آپس کے جھگڑوں ،فتنوں اور مختلف مسائل کے سبب خون کے دریا بہہ چکے ہیں، لوگوں کے خلاف فتویٰ سازی ہوچکی، غداری کے سرٹیفکیٹس بانٹے جاچکے مگر یہ سب کچھ کرنیوالے عناصر کےخلاف کوئی کارروائی کیا ہوتی ان کو آج تک چھیڑا تک نہیں گیا ۔انہوںنے کہاکہ جس ملک کو دنیا میں آئینی و انتظامی طور پر ایک مثال بننا تھا وہاںآئین وقانون ڈھونڈے سے نہیں ملتا، افسوس اسی سبب یہ تاثر ابھرا کہ ایک نہیں دو پاکستان ایک قائد اعظم کا پاکستان اور ایک موجودہ پاکستان۔ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور متنازعہ انتخابات کے نتیجے میں جو ڈھانچہ بنا وہ اس لائحہ عمل کی بالکل اور یکسر نفی تھا جو بابائے قوم نے ہمیں دیا ، ان کا مزید کہنا تھا کہ نظام عدل کے منصفانہ اور موثر نہ ہونے کے سبب افراتفری نے جنم لے لیا، جس عدلیہ نے آئین کی تشریح مثبت انداز میں کرنا تھی اور توقع تھی کہ وہ ان بگڑتے امور کو سنبھالا دے گی لیکن صورتحال اس کے برعکس رہی۔ جب بابائے قوم کی امنگوں کے مطابق پاکستان پروان نہیں چڑھا پائے تو پھر جو کچھ آج ہورہاہے وہ اس بڑے مقصد سے روگردانی کے سبب ہے ؟پاکستان کے استحکام کےلئے اس حقیقت کو اب سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ترقی تبھی کرے گا جب بابائے قوم کے بنائے گئے ضابطوں کے مطابق ، متفقہ دستور کے مطابق، ایمان، اتحاد اور تنظیم کے ماٹو کےساتھ ہی آگے بڑھے گا ، پون صدی گزر چکی ہے کم از کم اب سنجیدہ انداز میں اور بہتر انداز میں آگے بڑھنے اور اپنی اہمیت دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے اور وہ تبھی ممکن ہوگا جب فیصلے آئین کی بنیاد پر کئے جائینگے ، اسی وقت پاکستان اپنے پاﺅں پر کھڑا ہوگا جب داخلی، خارجی اور معاشی لحاظ سے آزاد فیصلے کئے جائینگے اور صحیح انداز میں ملکی وقومی مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دی جائے گی اورانسانی حقوق،شہری وصحافتی آزادیوں اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائےگا۔