• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

بِنائے لااِلٰہ اَست حُسینؑ پروفیسر مظہر حسین ہاشمی


تاریخ کی وہ زندہ ء جاوید شخصیت جس نے باطل کے شبستانوں کوڈھاکرحق کی شمع روشن کی، تاریخِ انسانی کاوہ باب جسے قیامت تک مسلسل پڑھا جاتا رہے گا، وہ عظیم مسلک جسے اپناکرہراہلِ فکرونظر خوشی محسوس کرتاہے، وہ درخشندہ سیرت جس کی اِتباع اِنسانیت کا مجددشرف ہے، اُسے تاریخِ انسانی امام حسین ؑ کہتی ہے۔آپؑ ہادی ءِ کائنات،ناشرِاخلاقیات ودستورِنجاتِ خداکے برگزیدہ نبی حضرت محمد ؐ کے نواسے، امامِ اَوّلین،ناصرِدِین اورآیہء مبین مولا علی ؑ کے فرزند، مرکزِعصمت وطہارت، خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاکے لختِ جگر اوراَمنِ عالم کے داعی وعلمبردارحضرت امام حسن ؑ کے چھوٹے بھائی ہیں۔آپ ؑ کمالِ معرفتِ خداوندی کے حامل ،معراجِ کمالِ بندگی پر فائز، رسالت آشنا،اَمن پرور، اِنسانیت نواز،دین پناہ اورمحافظِ قران وشریعت تھے۔آپؑ حسب ونسب میں دُنیاکے تمام انسانوں پر فوقیت رکھتے تھے۔نسلی اعتبارسے حضرت ابراہیم ؑ وحضرت اسمعیل ؑ کے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو ساری دنیامیں شرافت اورعظمت کا منبع ومینارہے۔آپ ؑ بنی ہاشم کے گھرانے میں 8جنوری 626ء کومدینہ شہر میں پیداہوئے جوعرب کاشریف ترین قبیلہ اور ممتازخاندان تھا۔ آپ ؑ کی پرورش میں خانوادہء رسالت اورآپ ؑ کے پاک وپاکیزہ ماحول کوبڑادخل ہے۔آپ ؑ نے تعلیم وتربیت اپنے ناناسے پائی جو اُس عہد اورہرزمانے کے سب سے بڑے معلم اورسیرت ساز مانے گئے ہیں۔آپ ؑ نے اُس ماں کی آغوش میں آنکھ کھولی جوشرافتِ اِنسانی کاپیکر تھیں ۔آپؑ کوحریتِ اِنسانی کے علمبردارمولاعلی ؑ نے تعلیماتِ الٰہیہ اورصفاتِ حسنہ سے بہرہ وَرکیا۔آپ ؑ اپنے بھائی امام حسن ؑ کے قوتِ بازو رہے جنہوں نے تاج وتخت سے منہ موڑ کرمصائب وآلام کوگلے لگالیالیکن حق کے دامن کواپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
یہ بات سوفیصد دُرست اورسچ ہے کہ سیرتِ اِنسانی ، تاریخ کے دھارے کارُخ موڑ دیتی ہے۔سیرتِ حسین ؑ ایک ایسے ہمہ گیر انقلاب کا نام اورایک ایسا ابدی پیغام ہے جوحیاتِ اِنسانی کواوّل تاآخرخداپرستی کی بنیادپر اُستوارکرتا ہے۔آپ ؑ کی سیرت ایک ایسااُسوہءِ حسنہ ہے جوتمام نوعِ انسانی، تمام مذاہب اورتمام فرقوں کیلئے یکساں طورپرمشعلِ راہ ہے۔آپ ؑ کی سیرت تاجدارِ نبوت کی سیرت کی آئینہ دارہے۔امام حسین ؑ اوراِسلام کے درمیان اَٹوٹ رشتہ ہے۔ امام حسین ؑ خداکی سرزمین پر خداکے دین کوسربلند دیکھناچاہتے تھے۔تاریخِ اِنسانی کے اوراق پر اِس حیرت انگیز اِنسان کی عظیم سیرت اوربلندوبالاشخصیت کے نقوش اِتنے گہرے نظرآتے ہیں کہ اِبتدائے آفرینش سے تاحال،تاریخ کی قدآورشخصیات جن کودُنیاہیروزمیں شمارکرتی ہے ،امام حسین ؑ کی سیرت و کردار کے مقابلہ میں وہ کوتاہ قامت نظرآتی ہیں۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ امام حسین ؑ نے زمانے کے ساتھ چلنے کی کوشش نہیں کی بلکہ تاریخ کارُخ اپنی طرف موڑدیا۔امام حسین ؑ تاریخ کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ امام حسین ؑ اپنی سیرت ،اپنے کرداراوراپنے عمل کی وجہ سے تاریخ سازیاMaker of History ہیں۔
عصرِحاضر میں یزید پلید کے منقبت گزاروں نے امام حسین ؑ کی عظمت کوکم کرنے اوراُن کی سیرت کوچھپانے کی بہت کوشش کی لیکن اُن کی سعی ء لاحاصل اُن کے آباؤاَجدادکی طرح ناکام رہی۔اب اپنے بیگانے سب امام حسین ؑ کی شخصیت وہستی کوسلام پیش کررہے ہیں۔تاریخِ انسانی کے بے مثال ہیروکیلئے دُنیاکی مذہبی ،سیاسی اورادبی شخصیات کچھ اِس طرح سے معترف ہوئی ہیں۔مہاتما گاندھی کاقول ہے کہ اسلام کایہ پھلناپھولنا،ولی ء خداحسین ابن علی ؑ کی قربانی کانتیجہ ہے۔امام حسین ؑ کی تعریف میں جواہر لعل نہروبھی کہتے ہیں کہ امامِ حسین ؑ کی قربانی ،صراطِ مستقیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اورانگلش کے نامورادیب اورمورخ سرولیم مورنے یوں تعریف کی کہ سانحہ ءِ کربلانے تاریخِ محمدؐ میں اِسلام کواِنسانی ذہنوں میں زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اور ناموراورمشہورانگلش سکالراورمورخ ایڈوڈ گبن امام حسین ؑ کی مظلومانہ تاریخ پڑھتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے اورتاریخ میں لکھ گئے کہ حسین ؑ کی مظلومانہ شہادت نے آنکھوں میں آنسواوردِلوں میں ہمدردی پیداکردی۔ایک عیسائی سکالرتھامس کارلائل نے یہ بات کہہ کرحسین ؑ اوراُن کے رُفقاء— خداکے سچے پیروکار تھے۔اُنہوں نے یزیدِ وقت کوجھوٹاثابت کردیااورچارلس ڈکنزکہتے ہیں اگرحسین ؑ اپنی دُنیاوی خواہشات کی تکمیل کیلئے لڑرہے تھے توپھر مَیں نہیں سمجھ پاتاکہ اُن کی بہن،بیوی اوربچے اُن کے ساتھ کیوں چلے؟پس مجھے یہی معلوم ہوتاہے کہ وہ صرف اورصرف اِسلام کی خاطر قربان ہوئے۔جوش ملیح آبادی نے مندرجہ بالاشخصیات کوابھی ناکافی سمجھتے ہوئے کہاتھاکہ اِنسان کوبیدارتوہولینے دو—ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؑ اورعلامہ اقبال بھی اس شعرمیں تسلیم کرتے ہیں کہ رمزِ قرآن ازحسین ؑ آموختیم — زآتشِ اوشعلہ ہااندوختیم یعنی ہم نے قرآن کے رمزکوحسین ؑ سے سیکھاہے اوراِس کی گرمی سے حرارتِ اِیمانی حاصل کی ہے۔
عہدِیزیدیت میں خداکی پرستش کی بجائے مفادات کی پرستش ہورہی تھی ۔خودغرض اورطالع آزماؤں کاایک بہت بڑاطبقہ اِسلام کے مقابلہ میں ملوکیت کاحلقہ بگوش بناہواتھا۔طاقتور،کمزورپردِل کھول کرمظالم ڈھارہاتھا۔اِنسانیت کی اَعلیٰ واَرفع اَقدارتباہ ہوکررہ گئی تھیں۔
علامہ اِقبال نے اِس خلافت نما ملوکیت کوکچھ ایسے بیان کیاکہ چوں خلافت رشتہ ازقرآں گسیخت —حرّیت رازہراندرکام ریخت یعنی جب خلافت نے اپنارشتہ قرآن سے توڑ لیا(توگویا)حریت وآزادی کے حلق میں (غلامی)کازہرانڈیل دیا۔
یہ توثابت ہے کہ امام حسین ؑ نے امامت کی عظمت کواُجاگرکرنے ،قوم کے شیرازہ کویکجاکرنے ،شریعت کی بالادستی، تحفظ اِنسانیت ،اَخلاقی اقدارکی بحالی اورمظلوموں کی دادرسی کیلئے کربلاکے تپتے صحرامیں اِسلام کوملوکیت کی مسموم ہوااور دھوپ سے بچانے کیلئے 10 اکتوبر 680ء کواپنی اور اپنے رُفقاء کی جانیں قربان کردیں۔اِمام حسین ؑ کی یہ قربانی تخت وتاج کے اِستحقاق کیلئے نہ تھی بلکہ ایک اعلیٰ نصبُ العین کیلئے تھی۔امام حسین ؑ ، یزید پلیدکواحکامِ خداورسولؐ کاباغی سمجھتے تھے۔آپ ؑ نے جسے ناحق سمجھااُسے بطورحق قبول نہ کیا۔اپنے والدِ گرامی حضرت علی ؑ کی سنت پر چلتے ہوئے بیعت کے طلبگاروں کو\’نہیں\’ کہہ دیا۔علامہ اقبال نے اِس بات کویوں بیان کیاہے ؂تیغِ لاچوں ازمیاں بیروں کشید— اَزرگِ اربابِ باطل خوں کشید یعنی جب اُنہوں نے \’لا\’کی تلوارمیان سے نکالی توباطل پرکاربندلوگوں کی رگوں سے خون نچوڑلیا۔کیونکہ علامہ اقبال کایہ عقیدہ اورنظریہ تھاکہ موسیٰ ؑ وفرعون وشبیر ؑ ویزید — ایں دوقوت ازحیات آیدپدید یعنی موسی ٰ ؑ وفرعون اورشبیر ؑ ویزید، حق وباطل کی دوایسی قوتیں ہیں جوابتداء سے متواترچلی آرہی ہیں۔چونکہ امام حسین ؑ توخودحق اورباطل کامعیاراورپہچان ہیں اس لئے علامہ اِقبال تمام مسلمانوں کونصیحت کرتے ہیں کہ ماسوی اللہ رامسلماں بندہ ءِ نیست–پیشِ فرعونے سرش افگندہ نیست یعنی مسلمان غیراللہ کابندہ نہیں بن سکتااورکسی فرعونِ وقت کے آگے اُس کاسرنہیں جھک سکتا۔
تاریخ شاہدہے کہ شہادتِ حسین ؑ کے بعدفکرونظرکامعیاربدل گیا۔زندگی کی غایت اوروَجدان کی اساس بدل گئی۔حیاتِ اِنسانی کے انداز اور خیروشر کے معیاربدل گئے۔علامہ اقبال آگے کہتے ہیں کہ خونِ اوتفسیرِ این اسرارکرد—ملتِ خوابیدہ رابیدارکرد یعنی اُن کے خون نے اُن رازوں کوکھول کربیان کردیااوراُنہوں نے سوئی ہوئی قوم کوبیدارکردیا۔آج امام حسین ؑ کانام اِنسانیت کی علامت اوراَمن کامظہر بن گیاہے۔دُنیاکی باشعورقومیں امام حسین ؑ کی سیرت وکرداراورعزم وہمّت کوسراہ رہی ہیں اوراُن کے نصبُ العین کواپنارہی ہیں۔
آج معاشرتی مسائل ،رنگ ونسل،علاقائیت وطبقہ واریت، عریانی وفحاشی اورظلم وبربریت کی شکل میں ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔اخلاقی اَقدارکے زوال نے ہم سے اورہماری نسل سے ہماری شاندارروایات کوچھین لیاہے۔ہمیں معرفتِ خداوندی ،شریعتِ محمدیؐ کی سربلندی، اخلاقی اَقدارکی بحالی ، دُنیاپردِین کی حکمرانی ، اِنسانیت کی برتری،نفس کی پاکیزگی،جذبہ ءِ حُریّت کی بیداری، دُنیامیں اَمن وآشتی ،مظلوموں کی دادرَسی، مستضعفین کی مدد اور اِستعماری طاقتوں کے خاتمہ کیلئے سیرتِ حسین ؑ کومکمل طورپراپناناچاہئے اورحسین ؑ شناسی کورواج دیناچاہیے۔کیونکہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے بقول

شاہ اَست حسین ؑ بادشاہ اَست حسین ؑ دیں اَست حسین ؑ دیں پناہ اَست حسین ؑ 
سردادنہ داد دَست دردَست ِ یزید حقّاکہ بِنائے لااِلٰہ اَست حسین ؑ