جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے اسلام آباد سبزی منڈی /فروٹ منڈی میں ہونے والے بم دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرکے دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا جاتا اس وقت تک ملک میں قیام امن و استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا، ملک میں ہر شخص عدم تحفظ کا شکار ہے کوئی بھی شہری ملک میں ہونے دہشت گردی سے محفوط نہیں ہے ۔ریاستی ادارے تا حا ل عوام کی حفاظت کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہے۔ دہشت گرد سرعام دندناتے پھر رہے ہیں،سزائے موت کو معطل کردیاگیاہے ، معاشرے میں سزا و جزا کا عمل رائج کرنے سے ہی امن قائم ہوگا، بے یار ومددگار مسافروں سمیت کسی کی جان محفوظ نہیں ہے۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ پورے ملک میں امن وامان کی مجموعی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک جانب مذاکرات کئے جارہے ہیں مگر دوسری جانب شرپسند دندناتے پھر رہے ہیں وہ جسے چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں اس ملک کے معصوم شہریوں کو نشانہ بنا ڈالتے ہیں اور بم دھماکے کردیتے ہیں۔ انہو ں نے مزیدکہاکہ شرپسند و دہشت گرد ملک میں افراتفری پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی کامیابی چاہتے ہیں جب تک حکومت قتل عام کرنیوالے خونی درندوں کو کیفر کردار تک پہنچا کر نشان عبرت نہیں بناتی اس وقت تک امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اگر ملک میں امن قائم کرنا چاہتی ہے تو فی الفور قصاص کے قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ اتحاد و وحدت کیلئے اپنی توانائیاں صرف کی ہیں اور آئندہ بھی اس پر کاربند رہیں گے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کی ترقی کا راز اتحاد میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہاکہ بارہا مرتبہ مطالبہ کیاگیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں مگر صرف طفل تسلیوں اور بلند و بانگ دعوؤں کا سہارا لے کر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا رہا افسوس کہ آج تک اتنے بڑے سانحات رونما ہوئے ہیں مگر قوم کو ان حقائق سے آگاہ نہیں کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں علماء، ڈاکٹرز، انجینئرز، ججز،وکلاء، صحافی، اقلیتی برادری اور بے یارو مددگار مسافروں سمیت کسی کی جان محفوظ نہیں ہے مساجد و امام بارگاہوں سے لے کر اعلیٰ سرکاری اداروں تک کو دہشت گردی کی کارروائیوں سے تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ ملک میں آئین و قانون کی عملداری کو ختم کردیاگیاہے، آئے روز قوانین بنائے جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد ہوتا نظر نہیں آتا۔ اگر معاشرے میں سزا و جزا کے عمل کو رائج کیا جاتا تو آج کافی حد تک مسائل حل ہوچکے ہوتے مگر افسوس اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایاگیا۔
انہوں نے کہاکہ جب تک دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینک نہیں دیا ، اس کے سرپرستوں کو بے نقاب کرکے عوام کو حقائق سے آگاہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک میں امن و استحکام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔علامہ سید ساجدعلی نقوی نے اسلام آبا د بم دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے معصوم شہریوں کے لواحقین سے دلی افسوس کا اظہار اور زخمیوں کے لئے دعائے صحت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here