• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

جعفریہ یوتھ کے جوان امیرالمومنین علیہ السلام کی پالیسیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں عادلانہ حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں،علامہ سید محمد تقی نقوی

جعفریہ پریس – شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء اور شعبہ تبلیغات کے چیئرمین علامہ سید محمد تقی نقوی نے کہا ہے کہ دور حاضر کا نوجوان جن چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اس میں اپنا کردار نبھانا بہت بڑی خدمت ہے۔ ایک نوجوان کا دور حاضر کی چکا چوند روشنیوں اور گناہ آلود معاشروں میں زندہ رہنا بھی ایک کارنامے سے کم نہیں اور پھر ان حالات میں دین اور ملت کے لیے خدمات انجام دینا اس بھی زیادہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ جعفریہ یوتھ کے جوانوں سے ہمیں یہی توقع ہے کہ ایسے نازک اور حساس دور میں جہاں اپنے ذاتی کردار کو محفوظ رکھیں گے وہاں اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
اسلام آباد میں جعفریہ یوتھ کے مرکزی دفتر اور میڈیا سیل کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر تربیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے علامہ سید محمد تقی نقوی نے کہا کہ وسائل کی کمی اور مسائل کی زیادتی نے قومی فعالیت کو آج نہیں بلکہ صدیوں سے متاثر کیا ہوا ہے۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا دور اس کی واضح مثال ہے جب وسائل کی قلت اور مسائل کی زیادتی نے دینِ حق اور اسلامی حکومت کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں اور نئے نئے فتنوں نے سر اٹھایا لیکن امیرالمومنین ؑ نے جس حکمت اور صبر سے مقابلہ کیا وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماء نے مزید کہا کہ پاکستان میں شدت پسندی، سیاسی عدم استحکام اور معاشرتی بے راہ روی نے اس قدر قبضہ کیا ہوا ہے کہ پاکستان کا ہر طبقہ اس کے تسلط میں ہے، یہ تسلط صرف اور صرف نوجوانوں کی فعالیت سے ختم ہو سکتا ہے۔ اس خدمت میں جعفریہ یوتھ کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہیئے اور قلیل وسائل کے باوجود اپنی توانائیوں کو مجتمع کرکے پاکستانی معاشرے بالخصوص ملت جعفریہ کے مسائل حل کرنے اور اسے مستحکم کرنے کے لیے خدمات پیش کرنی چاہیئیں اورامیرالمومنین علیہ السلام کی پالیسیوں سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں عادلانہ حکومت کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی اخونزادہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی جماعت، تنظیم، ادارے اور شعبے کی فعالیت کا بنیادی مرکز اس کا دفتر ہوتا ہے، جہاں سے اس ادارے یا شعبے کی فعالیت اور سرگرمیوں کی نشرو اشاعت ہوتی ہے اور کارکنان سے براہ راست رابطے اور باہمی تبادلہ خیال کا موقع نصیب ہوتا ہے، جس سے مجموعی طور پر جماعت میں تحرک پیدا ہوتا ہے اور نظریئے کو تقویت ملتی ہے۔ جعفریہ یوتھ اس لحاظ سے مبارکباد کی مستحق ہے جس نے بہت کم عرصے میں فعالیت کرکے اپنا دفتر بھی قائم کرلیا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس دفتر کے ذریعے جہاں جعفریہ یوتھ کی سرگرمیاں دنیا کے ہر نوجوان تک پہنچیں گی وہاں قائد ملت جعفریہ اور شیعہ علماء کونسل کی پالیسیوں اور فعالیت کو بھی عوام الناس تک پہنچانے کے لیے قومی قیادت اور قومی جماعت کا دست و بازو بنیں گے۔ افتتاحی تقریب میں جعفریہ یوتھ کے مرکزی ناظم اعلٰی سید اظہار بخاری، ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی، سید علی اطہر نقوی، سید محمد رضا عابدی، سید مغیث عالم، سید تصور کاظمی، سجاد ملک، سید جعفر نقوی، اسد عباس، سید توصیف نقوی، سید عزادار حسین کاظمی، ڈاکٹر ثقلین اعوان، سید حمزہ نقوی، سید علی حسین موسوی، عمران حسین، فرحت حسین اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔