• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

جنیواء معاہدہ خوش آئند ہے معاہدے سے خطہ میں امن قائم ہوگا قائد ملت جعفریہ

جعفریہ پریس  اسلام آباد28 نومبر2013ء ( )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے جنیواء معاہدہ کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہاہے کہ امن واستحکام مذاکرات کے ذریعے قائم ہوسکتاہے، معاہدے سے خطہ میں امن قائم ہوگا، پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدہ کو بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر توانائی بحران کا خاتمہ کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے حالیہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونیوالے جنیواء معاہدہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ جنیواء معاہدہ نہ صرف خوش آئند اقدام ہے بلکہ اس معاہدے سے خطے میں امن قائم ہوگا اور طویل عرصے سے جاری جمود کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ دور جنگ وجدل کا نہیں بلکہ مذاکرات کا ہے اور ٹیبل ٹاکس کے ذریعے مسائل کو حل کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس معاہدے کے بعد خطہ میں جو کشیدگی یا تشویش پائی جاتی تھی اس کے اثرات بھی کسی حد تک کم ہوجائینگے۔ علامہ ساجد علی نقوی نے پاک ایران گیس پائپ لائن کے حوالے سے کہاکہ پاکستان اس وقت توانائی بحران کا شکار ہے جبکہ دونوں ممالک میں طے پانے والا معاہدہ نہ صرف غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے بلکہ پاکستان کو اس وقت توانائی کے متبادل ذرائع کی ضرورت ہے اس لئے اس معاہدہ کو حتمی شکل دی جائے تاکہ ملک میں توانائی کا بحران ختم ہوکر خوشحالی کا دور آسکے اور عوام کی بجلی کی لوڈشیڈنگ اور گیس لوڈ مینجمنٹ سے جان چھوٹ سکے۔