• حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس
  • ملک کا امن شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے میں مضمر ہے، علامہ شبیرمیثمی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا ویڈیو لنک اجلاس اہم فیصلہ جات

تازه خبریں

جن لوگوں کے ہاتھوں پر بے گناہ لوگوں کا خون ہے حکمرانوں نے انہیں پابند سلال کی بجائے کھلی چھوٹ اور شیلٹر فراہم کردیا ہے

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ جمہوریت کے چمپئن ہونے کے دعویداروں کی طرف سے تحفظ پاکستان بل جیسا متنازعہ بل آنا تعجب خیز ہے جومکمل جمہوریت کی نفی ہے، اصل تحفظ حکومت آرڈیننس کی ضرورت ہے جن کے پاس اقتدار ہے اختیار نہیں، اجازت کے بغیر ایک قدم تک نہیں بڑھاسکتے، مذکورہ بل بھی اسی کا شاخسانہ ہے، طاقت کا مرکز کہیں اور ہے، معلوم نہیں بے اختیار حکومت مذاکراتی عمل کیسے کررہی ہے کسی ایماء و اجازت کے بغیر یہ بھی ممکن نہیں،معاملات واضح اور عیاں ہونے کے باوجود آئے روز مبہم بیانات اس کی واضح دلیل ہیں، قاتلوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحفظ پاکستان بل کی اپوزیشن کے شدید تحفظات کے باوجود کثرت رائے سے قومی اسمبلی منظور کئے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ جمہوریت کے چمپئن ہونے کے دعویداروں کی طرف سے مذکورہ متنازعہ بل آنا تعجب خیز ہے جو ایک جانب جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں مگر ایسے بل لاکر یکسر جمہوریت کی نفی کررہے ہیں ۔ اصل میں تحفظ حکومت آرڈیننس کی فی الفور ضرورت ہے کیونکہ حکومت کے پاس اقتدار تو ہے اختیار نہیں طاقت کا مرکز کہیں اور ہے جن کی مرضی و منشاء کے بغیر حکمران ایک قدم نہیں بڑھا سکتے۔ مذکورہ بل بھی اسی کا شاخسانہ معلوم ہوتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اختیارات سے عاری حکمران معلوم نہیں مذاکرات کیسے کررہے ہیں یقیناً یہ بھی کسی ڈکٹیشن کا ہی نتیجہ ہے لیکن یہ واضح نہیں کیاگیا کہ ان کی حدود وقیود کیا ہیں۔ صورتحال واضح اور عیاں ہونے کے باوجود طرفین کے مبہم بیانات آرہے ہیں ۔ نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے ان مذاکرات کے مقاصد حدود وقیود اور اہدااف کیا ہیں؟ اچانک دوسرے فریق نے دو اہم مغوی شخصیات سے لاعلمی کا اظہار کردیاہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ جن لوگوں کے ہاتھوں پر بے گناہ لوگوں کا خون ہے حکمرانو ں نے انہیں پابند سلال کی بجائے کھلی چھوٹ اور شیلٹر فراہم کردیاہے۔ تکفیری گروہ کو بڑھاوا دیا رہاہے جلسے کروا کر تکفیریت کو پرموٹ کیا جارہاہے بتایا جائے یہ کس اشارے پر کیا جارہاہے ۔ ہم اس ملک کو کس جانب دھکیل رہے ہیں۔ اگر جمہوری راستوں سے ہٹ کر اقدام کئے جاتے رہے تو اس کے بھیانک اثرات مرتب ہونگے۔ ملک میں پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں مگر افسوس ان پر عملدرآمد نہیں کرایا جاتا اگر آئین و قانون کی عملداری ہوتی تو آج ملک اس گھمبیر صورتحال کا شکار نہ ہوتا ۔