جعفریہ پریس – مسیحی ہم وطنوں پرحملہ انسانیت پر حملہ ہے ہم دہشت گردی کی ہر شکل اور ہر واردات کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ بات ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر، سینئرنائب صدر حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی، سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ اور ڈپٹی سیکریٹری جنرل ثاقب اکبر نے ایک مشترکہ بیان میں کہی۔ انھوں نے لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں مسیحی عبادت گزاروں پر ہونے والے حملے کو بہیمانہ جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بے گناہ انسان پر حملہ اسلام اور قانون کے روسے جائز نہیں ہے۔ کونسل کے قائدین کا کہنا تھا کہ ان حملہ آوروں اور ان کی روش کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان میں شامل تمام جماعتیں اپنے مسیحی ہم وطنو ں کے غم میں شریک ہیں۔ قائدین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مذاہب کے عبادت خانوں اور بے گناہ شہریوں پرہونے والے حملوں کے مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میں لائے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے کے بعد ہونے والے شدت پسندانہ اقدامات خصوصا دو مشتبہ افراد کو زندہ جلائے جانے کا واقعہ بھی انتہائی المناک ہے نیز ملکی املاک کو نقصان پہنچانا بھی غیر قانونی اور قابل مذمت ہے۔ ملک کے شہریوں کو قانون ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے ۔ اگر فیصلے اسی انداز سے عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیے جائیں تو ملک میں انارکی اور بدامنی کو رواج ملے گا۔ قائدین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا علاج دہشت گردی نہیں بلکہ قانون کی عملداری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here