• حساس نوعیت کے فیصلے پر سپریم کورٹ مزیدوضاحت جاری کرے ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ شبیر میثمی کی زیر صدارت یوم القد س کے انعقاد بارے مشاورتی اجلاس منعقد
  • برسی شہدائے سیہون شریف کا چھٹا اجتماع ہزاروں افراد شریک
  • اعلامیہ اسلامی تحریک پاکستان برائے عام انتخابات 2024
  • ھیئت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان کی جانب سے مجلس ترحیم
  • اسلامی تحریک پاکستان کے سیاسی سیل کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا
  • مولانا امداد گھلو شیعہ علماء کونسل پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر منتخب
  • اسلامی تحریک پاکستان کے زیر اہتمام فلسطین و کشمیر کانفرنس
  • ملک کا امن شرپسندوں اور دہشتگردوں کے خاتمے میں مضمر ہے، علامہ شبیرمیثمی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا ویڈیو لنک اجلاس اہم فیصلہ جات

تازه خبریں

حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والوں سے پوچھا جائے کہ سانحہ گوجرانوالہ کو کیا نام دیں گے،عبد الله رضا

  جعفریہ پریس – پاکستان اس وقت لہو لہو ہے ۔ طالبان اپنی مرضی کی کاروائی کر رہے ہیں۔ اور حکومت خاموش تماشائی بنے دیکھ رہی ہے۔آئے روز حکومتی ارکان بیان دے دیتے ہیں کہ پاکستان کا امن تباہ کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ کسی کے ہاتھ بلیک میل نہیں ہوں گے۔لیکن کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پوری حکومت ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کی ،سانحہ گوجرانوالہ کے ذمہ داران کو کون سزا دے گا۔
ان خیالات کا اظہار جے ایس او پاکستان کے مرکزی نائب صدر عبد الله رضا نے اپنے ایک بیان میں کیا – انہوں نے مزید کہا کہ حکیم اللہ محسود کو شہید کہنے والوں سے پوچھا جائے کہ سانحہ گوجرانوالہ کو کیا نام دیں گے اور یہاں جو ناحق خون بہا ہے یہ کس کے ذمے ہو گا۔ کیا اس کے ذمہ داران کو سزا ہو گی یا چیف جسٹس آف پاکستان پہلے کی طرح اس سانحہ کے ذمہ داران کو بھی باعزت بری کر دیں گے۔
عبد الله رضا نے کہا کہ اس سانحہ سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا ہو گی اور کسی بھی جگہ سیکیورٹی اداروں پراعتبار نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جے ایس او کے نوجوان اپنے جلوس اور مجالس کی سیکیورٹی کو فول پروف بنائیں اور کسی قسم کی مشکوک حرکت کا فوراً نوٹس لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار حالات سے فوراً نمٹا جا سکے۔ جے ایس او پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سانحہ گوجرانوالہ کے ذمہ داران کو فوری طور پر بے نقاب کر کے ان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔۔