خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے مقبرے کی بے حرمتی کے واقعے کو غلط رنگ دے کر پیش کرنا معنی خیز ہے،ترجمان قائد ملت جعفریہ

خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے مقبرے کی بے حرمتی کے واقعے کو غلط رنگ دے کر پیش کرنا معنی خیز ہے، زاہد علی آخونزادہ
چار ماہ قبل کا واقعہ باغیوں کی ادلب چھوڑتے وقت انتقامی کارروائی تھی جسکی عالم اسلام نے مذمت کی، ترجمان قائد ملت جعفریہ
قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مقابر و مزارات کی بے حرمتی کو اسلامی اقدار کے منافی قرار دیا ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ
راولپنڈی۔ 2 جون 2020 ( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے مقبرے کی بے حرمتی کے واقعے کو بعض عناصر کی جانب سے غلط رنگ دے کر پیش کرنے کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حربے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوسبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ ان کا فوری نوٹس لے کر ایسے عناصر کو سوشل میڈیا پر ان منفی حرکات سے باز رکھے تاکہ ملک کو بدامنی سے بچایا جا سکے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں کہا کہ خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے مقبرے کا واقعہ 29 جنوری 2020 کا ہے جو شام میں باغیوں اور بشارالاسد حکومت کی جھڑپوں کے بعد باغیوں نے ادلب چھوڑتے وقت انتقاماً انجام دیا اور اس واقعے کی پہلے اور اب بھی ملت اسلامیہ کے تمام جید فقہاءنے نہ صرف مذمت کی بلکہ او آئی سی سے اس واقعے کی شفاف، غیر جانبدار قابل قبول تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تاہم اس واقعے کو اب دوبارہ اٹھا کر عوام کے جذبات کو بھڑکانا معنی خیز اور قابل مذمت ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ مشترکات کے داعی ہونے کے ناطے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مقابر و مزارات کی بے حرمتی کو ادیان اور اخلاقیات کی نفی سے تعبیر کرتے ہوئے اس امر کو اسلامی اقدار کے بھی منافی قرار دیا ہے لہذا سوشل میڈیا پر بعض عناصر کی جانب سے کیا جانے والا فرقہ وارانہ پروپیگنڈا وطن عزیز پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کوسبوتاژ کرنے کے مترداف ہے جس کا حکومت کو فوری نوٹس لے کر ان عناصر کو ایسی منفی حرکات سے باز رکھنا چاہیے۔
قائد ملت جعفریہ کے ترجمان زاہد علی آخونزادہ نے اہل اسلام سے اپیل بھی کی کہ وہ اتحاد امت کو مزید فروغ دے کر وطن عزیز پاکستان کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھانے کی ان مذموم کوششوں کو ناکام بنائیں اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here