سانحہ ڈیرہ اسماعیل خان ملی وحدت پارہ پارہ جعفریہ پریس ڈی – آئی خان میں ایڈووکیٹ شاہد شیرازی کی شہادت کے بعد ڈی – آئی خان میں مختلف جگہوں پر احتجاج کیا گیا احتجاج میں حکومت سے مطالبات کے سسلے میں ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دی گی جس میں شہید شاہد شیرازی کے والد مشتاق حسن شیرازی بھی شامل تھے اور اِن مزکرات کے لئے سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں تمام شیعہ تنظیموں کی نمائندگی شامل تھی انتظامیہ نے مزاکرات کئے اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے ایک ماہ کا وقت طلب کیا لیکن مذاکراتی کمیٹی کی طرف سے تسلیم نہیں کیا گیا اور بلآخر دس سے پندرہ روز کے وعدے پر میت کو دفنانے پر آمادگی ظاہر کی گئی _ مزاکرات کے وقت بھی ایک گروہ کے افراد نے انتظامیہ کے ساتھ بہت نا زیبا رویہ اپنایا لیکن سب سے بدترین اور افسوس ناک صورت حال اُس وقت پیدا ہوئی جب سینئر ایڈووکیٹ مستان زیدی اور مقتول کے والد نے مذاکرات کی تفصیل دھرنے پر بیٹھے افراد کو بتائی اور ساتھ ہی اعلان کیا کہ اب شیعہ علماء کونسل کے علامہ رمضان توقیر خطاب اور اعلان کریں گے _ جیسے ہی علامہ رمضان توقیر صاحب نے اعلان کیا کہ دھرنا ختم کیا جاۓ اور انتظامیہ کی طرف سے دس سے پندرہ روز میں قاتلوں کی گرفتاری کا وعدہ کیا جا چکا ہے اُسی وقت اسی گروہ نے اپنی وہی سابقہ روش اختیار کی جو کراچی میں شہید حسن ترابی کے ساتھ کئی بار کی گئی ، شور شرابہ شروع کیا گیا اور اس گروہ کے عھدیدرہوں کی جانب سے جھوٹے اور نا منظور کے نعرے لگانا شروع کر دیے ، نہ صرف عمامے کی بے حرمتی کی گئی بلکہ تاریخ میں شیعہ قوم کا بدترین کردار لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا _ واضح رہے کے ایک شدت پسند گروہ مسلسل ملت جعفریہ پاکستان کو شدت پسند قوم کے طور پر متعارف کروانے کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس عمل کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ہے _ شیعہ علماء کونسل اور پوری قوم اس گروہ سے اعلان برأت اور اظہار بے زاری کرتی ہے _

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here