• تعلیم یافتہ نسل ، ملک و قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، علامہ ڈاکٹر شبیرحسن میثمی
  • کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت

تازه خبریں

سفر عشق جاری ہے ۔۔۔۔۔۔ ندیم عباس

سفر عشق جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

ندیم عباس

 

نمل یونیورسٹی اسلام

مظلوم کی عظمت کے چرچے ہیں دنیا بھر سے عشاق  کے قافلے سوئے کربلا رواں دواں ہیں وہ جسے دس محرم کو بے یارومدد گار سمجھ کت شہید کر دیا گیا تھا جس کے قافلے کو لوٹ لیا گیا تھا جس  کےخاندان کو اسیر کر لیا گیا تھا جس کے لاشے کو بے گوروکفن چھوڑ دیا گیا  تھا جس  کےسر مبارک کو تن سے جدا کر لیا گیا تھا کر بلا کی ریت جس کا کفن ٹھہری تھی جس کی لاش پر خاندان پیغمبر کو رونے سے روکا گیا تھا

آج مشرق مغرب سے قافلے سوئے کربلا روانہ ہیں  عشق کی آگ ہے جو دلوں میں لگی ہے جو کربلائے جا رہے ہیں  وہ منزل وصال کو پہنچیں گے کروڑوں انسان ہیں جو اپنے گھروں میں ہیں جب کربلا کےمناظر کو دیکھتے ہیں تو عشق کی گرمی کو محسوس کرتے ہیں خود کو اسی ہجوم میں پاتے ہیں

کربلا عشاق کا کعبہ ہے ظلم کے خلاف اعلان جنگ ہے ظالموں کے لیے پیغام موت ہے کربلا الہی پیغام کی بقا کی ضامن ہے کربلا قرآن کی عظمتوں کا نشاں ہے کربلا  کا سردار وہ عاشق قرآن تھا کہ سر کٹ گیا تھا مگر نیزے کی نوک پر بھی تلاوت جاری تھی دنیا بھر میں بھی  جب جہاں بھی مظلوم ظالم کے خلاف قیام  کرتا ہے اس سے اپنے حقوق چھینے کی بات کرتا ہے تو کربلا اس  کے لیے مشعل راہ ہے اور نشان منزل  کی حیثیت  رکھتی ہے

کربلا ہمیشہ زندہ رہنے کے لیے شہید ہو جانے کی تحریک ہے کربلا انسانی اقدار کی سربلندی کی تحریک ہے کربلا صرف روایت نہیں  روایتیں ختم ہو جاتی ہیں کربلا وہ وعدہ الھی ہے کہ تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا حسینؑ نے کربلا کی تپتی ریت  پرزخموں سے چور چور بدن کے ساتھ اپنا سر خالق کائنات کی بارگاہ میں جھکا کر کہا تھا سبحان ربی الاعلی اب پروردگار اپنا وعدہ پوا فرما رہا ہے حسینیتؑ  کا عروج اس  اعلان کا نتیجہ جو سیدہ زینب ؑ نے یزید کے دربار میں کیا تھا کہ اے ہمارے آزاد کردہ غلاموں کی اولاد تو ہمارا ذکر ختم نہ کر سکے گا وہ آواز جس نے یزید کے دربار کو ہلا دیا تھا علیؑ کی شیر دل بیٹی کربلا کی شیر دل خاتون کی یہ آواز آج پورے عالم گونج رہی ہے

کربلا روایت نہیں ہے کربلاتو انقلاب کی تحریک ہے یہ کسی خاص طبقے کی تحریک نہیں  اس میں سیاہ فام غلام بھی ہیں حبیب ابن مظاہر جیسے بزرگ صحابی بھی ہیں اس   میں حر جیسے توبہ کرنے والے بھی ہیں عباسؑ  و علی اکبرؑ جیسے جوان بھی ہیں  اس میں علی اصغر ؑ سے شیر خوار بھی ہیں اور کوئی بھی تحریک خواتین کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتی ہے جس طرح ام المؤمنین ؑ حضرت خدیجہؑ  ناصرۃ اسلام تھیں اسی طرح ان کی نواسی سیدہ زینب ؑ   ناصرۃ حسینؑ و حسینت ہیں بقائے اسلام کی اس تحریک کی محافظ ہیں دس محرم کی شام کو شروع ہونے والی کربلا کی سالار ہیں بقول علامہ اقبال

حدیثعشقدوباباستکربلاودمشق                                                                                                                                                                       یکےحُسينؑرقمکردودیگرےزينبؑ

یزیدیت کو میدان کارزار میں شکست حسینؑ دی اور اس شکست کا اعلان کبھی کوفہ کے بازاروں اور کبھی شام کے درباروں سیدۃ زینبؑ نے کیا ان کے خطبات کو پڑھ کر مؤرخ ورطہ حیرت میں چلا جاتا ہے کہ اس طرح تو آقا اپنے غلاموں سے بات کرتا ہے اس طرح تو فاتح مفتوح سے بات کرتا ہے جس طرح  حضرت امیر کی لہجے میں حضرت زینب ؑ نے خطاب کیا

کربلا پاکیزہ رشتوں کی امین ہے  یہاں اسلام نے رشتوں کو جو عظمت عطا کی ہے وہ اپنے عروج پر نظر آتی ہے  بہن اور بھائی کی محبت دیکھنی ہو تو امام حسینؑ اور سیدہ زینب ؑ کی محبت دیکھیں بھائی بھائی  کی محبت کا ملاحظہ کرناہو تو  علمدار وفا سے سالار قافلہ عشق کی محبت دیکھیں  ہمشکل پیغمبر علی اکبرؑ اور عبادت گزاروں کے سید و سردار کی محبت کو ملاحظہ کریں باپ بیٹی کی محبت دیکھنا ہو تو سوئے کربلا سیدہ سکینہؑ اور سیدنا امام حسینؑ کی محبت دیکھیں اگر غلام اور آقا کا تعلق دیکھنا ہو تو کربلا کے جون اور  سردار کربلا  کو دیکھیں  اگر صحابہ اور مولا کے تعلق کو دیکھنا ہو تو کربلا آو ایسے ساتھی کائینات میں کہیں نہیں ملیں گے دشمن کے نرغے میں میں گھرا ہوا  مولا چراغ بجھا دے جنت کی ضمانت دے اور کہے چلے جاو یہ میری جان کے دشمن ہیں اور ساتھی ایسے ہوں تلوار گردن پر رکھ کر کہیں نوا سہ پیغمبر حکم دیں یہ تلواریں گردنوں پر چل جائیں  اور کوئی کہے یہ تو ایک زندگی ہے اور اگر خدا ایک ہزار زندگیاں دے اور ہر بار آپ کی محبت میں قتل کیا جاوں میری لاش کو جلایا جائے  جلی راکھ ہوا میں اڈا دی جائے  اس کے بعد بھی میں آپ پر ہی جان قربان کروں گا

انسانی رشتوں کی معراج کا نام کربلا ہے  کربلا   ہمیشہ زندہ  رہنے کے لیے شہید ہونے کا نام ہے کربلا  انسانیت کی عظیم درسگاہ کا نام ہے کربلا دائمی بقا کے لیے حکم مولا پر فنا ہونے کا نام ہے کربلا خاندان پیغمبر کی عظمتوں کی امین ہے کربلا عشاق کی منزل ہے کربلا اسلام حقیقی کی ابدی بقا کی مسلسل تحریک ہے کربلا عقیدتوں کا مرکز ہے کربلا اہل محبت کا مرکز ہے کربلا وہ چشمہ فیض ہے جس  سے ہر انسان فیضیاب ہوتا ہے

آج بھی عشاق کے قافلوں کا رخ اسی سمت ہے خوش نصیب ہیں جو آج وہاں ہوں گے برہنہ سر برہنہ پا سیاہ  پوش لبیک یا حسیںؑ لبیک یا حسینؑ کی صدائیں دیتے ہوئے  انشاءاللہ ہم سے سیاہ کار بھی ایک دن  پاکیزہ جذبات پاکیزہ خیالات کے لوگوں کے ساتھ یہی صدا لگاتے ہوئے سوئے کربلارواں دواں ہوں گے ۔۔۔۔۔۔