شہید عارف الحسینی اتحادبین المسلمین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے علمبردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائینگے

شہید عارف الحسینی اتحادبین المسلمین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے علمبردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائینگے،  علامہ سید ساجد علی نقوی

اعلامیہ وحدت سے ملی یکجہتی کونسل و ایم ایم اے تک کا سفرشہید قائدومرحوم قائدین کے خوابوں کی تعبیر ہے، قائد ملت جعفریہ
جمو ں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر بھارتی گھناﺅنے اقدام کی کوئی اہمیت نہیں، طاقت و جبر کے زور پر کسی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا، کشمیر صورتحال پر تبصرہ
 اسلام آباد4 اگست 2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ شہید علامہ عارف حسین الحسینی اتحاد بین المسلمین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے علمبردار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائینگے، اعلامیہ وحدت سے لے کر ملی یکجہتی کونسل و ایم ایم ا ے تک کا ہماراسفر شہید قائد ومرحوم قائدین کے خوابوں کی تعبیر ہے ، جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت پر بھارتی گھناﺅنے اقدام کی کوئی اہمیت نہیں ، طاقت و جبر کے زور پر کسی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے علامہ عارف حسین الحسینی کی33 ویں برسی کی مناسبت سے اپنے پیغام میں شہید قائدکو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ملکی تاریخ کے کٹھن ترین دور میں اُنہوں نے جہاں عوام کو اُن کے حقوق کا شعور دیا وہیں ہرطبقہ کو اتحاد و وحدت اور ہم آہنگی کا درس دیا اور عملی طور پر اتحاد بین المسلمین کے لیے خدمات انجام دے کر پاکستان کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونے کی بھرپور کو شش وجدوجہدکی۔ہم پاکستان میںعوام کو درپیش مسائل کے لیے حل اوراتحاد بین المسلمین کے عملی فروغ کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔اتحاد و وحدت کے فروغ اور جدوجہد میں اعلامیہ وحدت‘ نفاذ شریعت سفارشات‘ ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل جیسے فورمز درحقیقت وہ سنگ میل ہیں جو شہید قائداورمرحوم قائدین کے خوابوں کی تعبیرہیں ۔وہ اپنی زندگی میں ایسے اقدامات کے لیے کو شاں رہے اور عوام کو باہمی وحدت کے لیے عملی جدوجہد کا درس دیتے رہے۔ آج یقینا اُن کی روح شادمان ہوگی۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ شہید قائدؒ نے پاکستان کی اساس اور بنیاد یعنی اسلام اور جمہوریت کے نفاذ کے لئے روشن رہنمائی فراہم کی۔ انہوںؒ نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے ایک واضح راستے کا تعین کیا اور اسی راستے کو مدنظر رکھ کر جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ اگر موجودہ دور میں اس راستے پر چل کر ان اہداف کے حصول کے لئے جدوجہد کی جائے اور شہید قائد کی طرح اعلی فکر اور بلند کردار کے ساتھ آگے بڑھاجائے تو ہم یہ اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور عالم اسلام میں منفرد کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شہید قائد کی شخصیت کا روشن فکری کے ساتھ مطالعہ کیاجائے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل کے حل ،فرقہ واریت کے خاتمے‘ طبقاتی تقسیم ‘بد عنوانی اورمعاشرتی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کوجاری رکھاجائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور دفعہ 35 اے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جمو ں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ہونے پر اسے کشمیریوں کے بنیادی، آئینی اور بین الاقوامی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہاکہ طاقت اور جبر کے زور پر کسی قوم کو دبایا نہیں جاسکتا۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیرکی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی ،جس کا مقصد غیرکشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بساکر مسلم اکثریت کو ختم کرناہے مگر بھارت اس میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، ان کاکہنا تھاکہ اقوام متحدہ جیسا طاقت ور ادارہ اس پر خاموش اور او آئی سی مصلحتوں کا شکار ہے ۔ انہوںنے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ بابائے قوم حضرت محمد علی جناح ؒ کے موقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق ان کی امنگوں کے مطابق دلانے کےلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔