تازه خبریں

شیعیان پاکستان کا تاریخ ساز دن تحریر: امداد علی گھلو

قوموں کی تاریخ میں بہت سے ایسے ایام آتے ہیں جو آگے جا کر تاریخ کا تعین کرتے ہیں ایسا ہی ایک دن۴ستمبر۱۹۸۸ء تھا کہ جب پشاور میں شیعہ قومی پلیٹ فارم کا مرکزی اجلاس جاری تھا۔ اس وقت کسی کو علم بھی نہ تھا کہ اجلاس اس قدر تاریخ ساز ثابت ہو گا کہ اس اجلاس میں منتخب ہونے والا قائد اپنی قوم کے مفادات کے لئے دن رات کام کرے گا اور گلگت و بولان تک سفر کرنے کی وجہ سے اس کے پاؤں متورّم ہو جائیں گے ؛ کسی بھی مرحلے پر وہ سودے بازی نہیں کرے گا؛وہ فرقہ واریت پھیلانے والی قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکے گا؛ وہ تشیع پاکستان کی پہچان اور اس کی بقا کا ضامن ہوگا؛ وہ فقط قائد ملت جعفریہ نہیں قائد ملت اسلامیہ ہوگا؛ وہ مقبول نہیں بلکہ معقول فیصلے کرے گا؛ ایک حد سے زیادہ وہ “عوامی جذبات” کا پابند نہیں ہوگا کیونکہ اس نے لیڈ ہونا نہیں لیڈ کرنا ہوگا؛اس کی زندگی میں اعلیٰ مقاصد، خوبصورت منزل اور شاندار مرکزی خیال ہو گا؛ اس کا اپنی کوششوں کے کامیاب ہونے پر اعتماد تو پہاڑوں سے بھی مضبوط تر اور صحراؤں سے بھی وسیع تر ہوگا؛ وہ صاحب کردار،پختہ ارادہ، برداشت کاپیکر، انتظامی صلاحیتوں کا حامل، ویژن سے بھرپور ہوگا؛ بکنا، جھکنا، تھکنا، ہارنا اور اصولوں پر سمجھوتہ کرنا جیسے الفاظ اس کی ڈکشنری میں نہیں ہوں گے؛اس کا شیعیان پاکستان کی تاریخ میں ناقابل انکار اور انتہائی درخشاں کردار ہوگا؛تمام تر سازشوں کے باوجودموصوف کا ارادہ مداخلت پسند طاقتوں کی کوششوں پر غالب رہے گا ؛ تحفظ عزاداری کے لئے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ ہوگا؛ وہ اتحاد بین المسلمین کا بانی ہوگا؛ اتحاد بین المسلمین کے بعد اس کی منزل اتحاد بین الادیان ہوگی؛ وہ سفیرامن اور وطن کا پاسبان ہوگا؛ اس کا ماٹو عدل علیؑ کا قیام ہوگا۔
اس دن کے اجلاس میں الٰہی محرک اوراخلاص کی بدولت ہی پاکستان کے بزرگ وجیدعلما سے حسینیؒ ثانی حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کا انتخاب ہوا؛ اسی وجہ سے ۴ستمبر کی تاریخ شیعیان پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ کےلئے ثبت ہوگئی۔ سفیرامن، سفیرنور کی جلوت وخلوت کے ساتهی اور ان کے معتمد ترین شخصیت تهے.
موصوف اعلیٰ پایہ ٔ کے ایک عظیم مفکرودانشور ، انصاف پسندی کا نظریہ رکھنے والے، اخلاقیات ، سماجیا ت اور اتحاد بین المسلمین کا عملی درس دینے والے ایسے باوقار لیڈر ثابت ہوئے ہیں جن کا قد اور مرتبے کی بلندی کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس ملک سے مخلص ، صاحبِ بصیرت، باشعور اور حق و باطل کے فرق کوسمجھنے والے انصاف پسند ہوں۔ آج ۴ستمبر۱۹۸۸ء کو ہر سال کی طرح اس سال بھی پرعزم ارادوں اور اس امید کے ساتھ یاد کیا جا رہا ہے کہ حق پرستی کا یہ کارواں بزرگان کی رہنمائی میں نوجوان نسل کی ہمرکابی کے ساتھ آنے والے دنوں میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہے گا۔ نوجوان نسل، خصوصاً طلبہ کسی بھی قوم کا سرمایہ افتخار سمجھے جاتے ہیں کیونکہ وہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان طلبہ کے ہاتھ میں قلم وکتاب دے کر ان کی صحیح رہنمائی کی جائے تو اس ملک و قوم کی تقدیر کو بدلنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
قائد ملت جعفریہ نے اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو صرف اور صرف اس ملک میں موجود بنیادی حقوق تک سے محروم ومظلوم عوام کے نام کردیا ہے۔۴ستمبر کے اس تاریخی اور انقلابی دن کی مناسبت سے قابلِ عمل پیغام یہی ہے کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے اگر ہم اپنے مستقبل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں، ملت جعفریہ پاکستان کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر مضبوطی اور استحکام کے ساتھ سفر کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، اقوامِ عالم کے سامنے سراٹھاکر فخر سے جینا چاہتے ہیں، سیاست میں بھی اخلاق کو مدّنظر رکھنا چاہتےہیں تو ہمیں اس عظیم اسلامی مفکر کے ساتھ چلنا ہوگاکیونکہ علامہ ساجد نقوی صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ایک سوچ، فکر اور حقیقت پسند معتدل نظریہ کا نام ہے۔ ۴ستمبر کادن شیعیان پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا تاریخ ساز دن ہے جو اگر ایک طرف مظلوموں کے لئے امید صبح نو کا پیغام لاتا ہے تو دوسری طرف نوجوان نسل کے لئے فکرِ نو کا آغاز کرتا ہے اور اپنے حقوق کی جدوجہد کے لئے تصادم نہیں بلکہ فلسفہ ٔ قربانی کی ترغیب فراہم کرتا ہے۔
گئے دن کہ تنہا تھا میں انجمن میں
یہاں اب مرے رازداں اور بھی ہیں