• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

عزاداری امام حسین دنیا کے مظلوموں کی آواز ہے جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں سنت حسینی ادا کی جاتی ہے، علامہ سید عزیز اللہ شاہ

جعفریہ پریس – نصرپور میں قادر شاہ جیلانی پڑ پر محرم الحرام کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کونسل پاکستان ضلع ٹنڈوالہ یار کے صدر علامہ سید عزیز اللہ شاہ نے کہا  ہے کہ عزاداری امام حسین دنیا کے مظلوموں کی آواز ہے جہاں ظلم ہوتا ہے وہاں سنت حسینی ادا کی جاتی ہے جبکہ شہیدان حق کی دنیا میں نواسہ رسول سیدنا حسین ابن علی کا مقام بہت ہی بلند ہے – انہوں نے کہا کہ سیدنا حسین ابن علی کی صدائے حق نے مظلوم انسانیت کو ظالمانہ نظام کے خاتمے اور ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ اور حق نوائی کا بے مثال درس دیا۔
علامہ سید عزیز اللہ شاہ نے کہا  ہے کہ حسینی فکر اور فلسفہ آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔ اگر آج مسلم امہ اس جذبہ و بہادری کا مظاہرہ کرے تو پرچم اسلام سربلند ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کا کھویا ہوا وقار بھی بحال ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسین ؓ نے اسلام کی بقا کیلئے اپنے عزیز واقارب کو بھی قربان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کربلا اللہ تعالیٰ سے عشق کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام کی تعلیمات شرانگیزی کی نہیں بلکہ اخلاق و کردار کی بہتری کی دعوت ہے اور اسی نظریہ کی بقا کے لئے امام حسین اور ان کے رفقا نے اپنی جان و مال کو قربان کیا۔ ہمیں اسی حوصلے کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھنا ہے۔ امام حسین کا ذکر باطل نظام اور نظریہ کے خلاف ایک مکمل نظام ہے کیونکہ نواسہ رسول نے ظلم و جبر کے خلاف ڈٹ جانے کی بات کی اور جرأت و بہادری کی اعلیٰ روایت قائم کی۔