• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

علی(ع)، قرآن اورماہ مبارک رمضان

قرآن دلوں کی بہار، مریضوں کی شفا، علم و دانش کا سر چشمہ، شناخت خدا  اور معرفتِ پروردگار کے لئے سب سے محکم، مستدل، اور متقن دلیل منبع شناخت اسرار و رموز ِ کردگار مرجعِ فہم و ادراک منشا  پروردگار، وہ  سر چشمہ آب زلال جو زنگ لگے دلوں کو اس طرح صاف کرتا ہے کہ پھر انہیں ملکوت کی سیر کے سوا کچھ اچھا نہیں لگتا۔
گزرگاہِ تاریخ بنی نوع بشر  پر جلتا ہوا وہ چراغ جو انسانی زندگی کے تمام پیچ و خم کو قابلِ دید بنا کر انسان کے ادنیٰ یا اعلیٰ ہونے میں مشعل راہ ہے۔ علم و حکمت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا وہ بحر ذخار کہ غواص علم و دانش جتنا اسکی گہرائی میں اتریں گے اتنا ہی انکا  دامن معرفت کے بیش بہا گوہروں سے بھرتا جائے گا۔
لیکن افسوس ! تہجر کے یخ زدہ پہاڑوں کو پگھلانے کے لئے جو کتاب نازل ہوئی تھی آج وہی کتاب تہجر کا شکار ہے اور آواز دے رہی ہے مجھے کس طرح میرے ماننے والوں نے خود اپنے ہی وجود میں منجمد کر دیا۔ میں تو منجمد شدہ پیکروں کو آوازِ حق کی گرمی سے پگھلا کر اشرف المخلوقات انسان کو کمال کی انتہا پر پہنچانے آئی تھی لیکن آج میرا وجود ہی ایک حرف بن کر رہ گیا ہے۔
علی تاریخ بشریت کی مظلوم ترین شخصیت اتنی بڑی کائنات میں وہ اکیلا انسان جو صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی اکیلا اسی جگہ کھڑا ہے جہاں صدیوں پہلے کھڑا تھا ۔  اس انتظار میں کہ شاید کچھ ایسے افراد مل جائیں جو اسے سمجھ سکیں اور پھر اسکا اکیلا پن دور ہو جائے لیکن زمانہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے وہ اور زیادہ اکیلا ہوتا چلا جا رہا ہے بالکل قرآن کی طرح۔ علی اور قرآن کتنی  یکسانیت ہے دونوں میں؟ سچ کتنی اپنائیت ہے دونوں میں؟ جیسے دونوں کا وجود ایک دوسرے کے لئے ہو دونوں ایک دوسرے کے درد کو سمجھتے ہوں .  یہ بھی کیا عجیب اتفاق ہے امت محمدی کو مالک کی طرف سے دو عظیم عطیے ملے لیکن دونوں مظلوم، دونوں تنہا، دونوں درد کے مارے مگر آپس میں ہماہنگ اس جہت سے کہ دونوں پر ظلم کرنے والے اور کوئی نہیں بلکہ خود اپنے ہی ماننے والے ہیں ۔
جس طرح آج کروڑوں لوگ اپنی زندگی میں صبح و شام قرآن کا ورد کرتے ہیں لیکن نہ انہیں قرآنی معارف کا علم ہے اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ قرآن ان سے کیا چاہتا ہے اسی طرح علی کی ذات بھی ہے ۔ لوگ علی کا تذکرہ کرتے نہیں تھکتے، صبح و شام علی علی کرتے ہیں انکی محفلوں میں علی کا نام ہے، مجلسوں میں علی کا ذکر ہے، تقریبوں میں علی کا چرچا ہے، خلوت کدوں میں علی کے نام کا ورد ہے لیکن انہیں نہیں معلوم کہ یہ شخصیت کن اسرار کی حامل ہے اور خود یہ ذات اپنے چاہنے والوں سے کیا چاہتی ہے انہیں تو اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ جن فضیلتوں کا تذکرہ وہ دن بھر کرتے رہتے ہیں وہ تمام فضیلتیں تو فضائل ِ علی کے سمندر کا ایک قطرہ ہیں اور بس! علی کی ذات تو کچھ اور ہی ہے
آج قرآن کے نام پر نہ جانے کتنی محفلیں ہوتی ہیں نہ جانے کتنی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے نہ جانے دنیا میں کن کن طریقوں سے قرآن کی قرآت کے مختلف اسالیب کا مسابقہ ہوتا ہے، نہ جانے کتنی جگہ قرآن فہمی کے دروس رکھے جاتے ہیں بالکل اسی طرح علی کے نام پر بھی محفلیں سجتی ہیں، بے شمار تقریبیں ہوتی ہیں، لا تعداد سیمینار ہوتے ہیں لیکن صبح و شام نہ قرآن کے ورد کرنے والوں کو قرآن کے مفاہیم کا اندازہ ہے اور نہ ہی اس کے آفاقی پیغامات پر کوئی غور و خوض کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ کر پاتا ہے نہ ہی علی کے نام کو صبح سے شام تک اپنی زبان پر لینے والے افراد یہ جانتے ہیں کہ علی کی شخصیت کیا ہے اور رفتار علوی کسے کہتے ہیں؟
یہ امر بھی قابل حیرت ہے کہ علی کہ نام کو ورد زباں بنانے والے افراد جہاں اس مبارک نام کو اپنی ہر محفل کی زینت بنانا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں وہیں علی پر پڑنے والی مصیبتوں پر روتے بھی ہیں اور خوب خوب روتے ہیں کوئی نہ انکی محبت کو خدشہ دار بنا سکتا ہے اور نہ کوئی انکے عمل میں نقص ڈھونڈ سکتا
ہے واقعی اور حقیقی معنی میں یہ علی سے محبت کرتے ہیں اور علی کو چاہتے ہیں اور اسی لئے علی کا نام آتے ہی خوشیوں کی ایک لہر ان کے وجود میں دوڑ جاتی ہے اور علی کی مصیبتوں کا تذکرہ ہوتے ہی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں لیکن افسوس تو یہاں ہوتا ہے کہ علی کے ان چاہنے والوں اور عاشقوں کو نہیں معلوم کہ خود علی کیوں رو رہے ہیں؟
آج جس ضربت نے سرِ علی کو دو پارہ کر دیا اس پر رونے والے تو بہت مل جائیں گے لیکن وہ زخم زباں جنہوں نے علی کے حساس وجود کو اندر سے کرچی کرچی کر دیا اس پر رونے والا کوئی نہیں ملتا وہ نشتر جو علی کے دل کے آر پار ہو گئے ان پر گریا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہایت درجہ افسوس تو یہ ہے کہ رونا تو در کنار نہ کسی کو علی کے دل میں چبھے نشتر نظر آتے ہیں اور نہ کسی کو علی کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینے والے مصائب دکھتے ہیں۔ کوئی اپنے آپ سے نہیں پوچھتا کہ علی کے اوپر پڑنے والی وہ کونسی مصیبت ہے جو رات کی تاریکی میں علی کو چاہ میں سر ڈال کر رونے پر مجبور کر رہی ہے، آخر وہ کونسا راز ہے جسے علی بنی نوع بشر کی فرد فرد تک پہنچانا چاہتا ہے اور جب اسکی آواز خود اس کے ہی ہونٹوں میں دب کر ٹوٹ جاتی ہے تو نخلستانوں میں بلک بلک کر اپنے معبود کی بارگاہ میں فریاد کرتا ہے :  ربنا ما خلقت ہذا باطلا سبحانک فقناعذاب النار۔۔۔
آئیے ! اس مبارک مہینے میں جہاں ہر طرف برکات کا نزول ہے کچھ ان اساسی اور بنیادی مسائل پر وقت نکال کر غور کرتے ہیں کہ علی کی تنہائی کا راز آخر کیا ہے؟ قرآن آج بھی آخر کیوں تنہا ہے؟ ہم علی اور قرآن کی تنہائی کو دور کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ ہماری اجتماعی زندگی میں قرآن کا کتنا دخل ہے؟ ہم اپنے معاشرے کو کس قدر قرآن کا پابند بنا سکتے ہیں کہیں ہمارا زمانہ وہی زمانہ تو نہیں جس کے لئے علی نے کہا تھا
“و انہ سیاتی علیکم بعدی زمان۔۔۔و لیس عند اھل ذلک الزمان سلعۃ ابور من الکتاب۔۔۔ فقد نبذ الکتاب حملتہ و تناساہ حفظتہ۔۔۔“
“” یاد رکھو میرے بعد تمہارے سامنے وہ زمانہ آنے والا ہے  جب اس زمانے والوں کے نزدیک کتابِ خدا سے زیادہ بے قیمت کوئی متاع نہ ہوگی ۔حاملان کتاب،کتاب کوچھوڑ دیں گے اور حافظان قرآن، قرآن کو بھلا دینگے۔”” ©نہج البلاغہ ۔خطبہ
قرآن کے متعالی مفاہیم کو سمجھنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے اور قرآن کے ساتھ کی جانے والی علی کی خدمات کو بیان کرنے کے لئے اس مبارک مہینے میں کہ جس میں ایک طرف قرآن نازل ہوا تو دوسری طرف محافظ قرآن کے خون سے محراب مسجد رنگین ہو گئی، ہمیں یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہے کہ نہ ہمیں اپنی قلمی کاوشوں پر بھروسہ ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں اٹھائے جانے والے کسی تحریری قدم پر اعتبار ہے .
اس لئے کہ دن رات کی انتھک کوششوں کے بعد بھی اگر کوئی تحریر مالک کی بارگاہ میں مقبول نہیں تو تمام محنت رایگاں ماہ و سال کی خدمت لائق مذمت ہے۔ اگر اس پر رضایت مالک کی مہر ثبت نہ ہو۔ تحریر کر دینا ہمارا کام ہے اس کے اندر اثر پیدا کر دینا مالک کا کام ہے اسی لئے اس مبارک مہینے میں ہم مالک کے حضور دست بدعا ہیں ۔
معبود ! خدمت اسلام کے جذبہ سے سر شار تیرے چند ناچار اور بے بس بندوں نے ایک ادنی ٰ سی کوشش کی ہے تیرے محبوب ترین کلا م اور تیرے پسندیدہ لہجہ کو دنیا کے سامنے آشنا کرانے کی اسے قبول کر لے۔
مالک! ہمیں اپنی کمیوں اور خامیوں کا اعتراف ہے لیکن تیری بے پناہ رحمت کا سہارا ہے اگر ہم سے کوئی خطا ہوئی ہو تو اسے بخش دے ۔ رب کریم ! تو بخشنے والا رحمان و رحیم  پروردگار ہے، اس مبارک مہینے میں ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم زیادہ سے زیاد ہ تیری عبادت میں وقت صرف کرسکیں۔