• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

فرانسیسی جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی ایک دل آزار اقدام ہے، قائد ملّت جعفریہ پاکستان

جعفریہ  پریس –  قائد ملّت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے فرانس کے ایک جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلم دنیا کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کو گستاخانہ اور جہالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کا مقصد کسی مذہب کی توہین ہرگز نہیں ہے، ہم ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید اور پرُزور مذمت کرتے ہیں۔
قائد ملّت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ فرانسیسی جریدے شاغلے ایبدو کی جانب سے حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی ایک دل آزار اقدام ہے، جس سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ بعض ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کی بجائے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے ذمہ داروں کی حمایت نامناسب اور درست اقدام نہیں ہے، نیز بین الاقوامی قوانین بھی اس کی اجازت نہیں دیتے۔ اس عمل سے دنیا میں قیام امن کو نقصان ہوگا، لہذٰا ایسے اقدامات سے اجتناب لازم ہے۔
حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آخر میں کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر او آئی سی کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک کو متحد کرکے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کیلئے مستقل بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کرنا ہونگے۔