ایک انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ محمد ظریف نے کہا ہے کہ شام، عراق اور پاکستان میں حالیہ دنوں میں فرقہ وارانہ فساد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، کچھ عرب ممالک خوف پھیلانے کے ذمہ دار ہیں جبکہ بعض لوگ تنگ نظری کے باعث نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم دنیا میں سنی شیعہ تنازعہ نہ صرف ہم سب کیلئے بلکہ مجموعی طور پر پورے عالمی تحفظ کیلئے خطرہ ہے اور اس کی مخالفت میں تمام فریقوں کو اختلافات بھلا کر متحد کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق پر امریکی حملے کے بعد فرقہ وارانہ فسادات میں تیزی آئی، شام میں تنازع فرقہ وارانہ بنیادوں پر شروع نہیں ہوا تھا لیکن اب یہ فرقہ وارانہ رخ اختیار کر گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here