قائد اعظم کا پاکستان بنانے کیلئے جمہوری قوتوں کو مثبت کر دار ادا کر نا ہوگا ،علامہ ساجد نقوی
اسلامی تحریک پاکستان کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں تمام سیاسی امور پر باریک بینی سے غور کیا گیااورفیصلوں کی توثیق کی گئی
اسلامی تحریک پاکستان قومی و صوبائی سطح پر ملک بھر میں انتخابی حلقوں کا جائزہ لے کر مخلص اور مضبوط امید وارسامنے لائے گی
راولپنڈی /اسلام آباد22اگست 2016 ءاسلامی تحریک پاکستان کی سینٹرل کمیٹی کا دو روزہ اجلاس اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت جامعہ زینبیہ راولپنڈی میں اختتام پذیر ہوا ، اجلاس میں تمام سیاسی امور پر باریک بینی سے غور کیا گیااور سیاسی سیل کے گذشتہ روز کے اجلاس کے تمام فیصلوں کی توثیق کی گئی۔اجلاس میں اسلامی تحریک پاکستان کی مرکزی سیاسی سیل کے نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی سمیت پنجاب ،سندھ ،بلوچستان ،خیبر پختونخواہ ،گلگت بلتستان ،کشمیر کے مرکزی سیاسی سیل کے ممبران موجود تھے ۔ اسلامی تحریک پاکستان کی سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میںیہ طے کیا گیا کہ آئندہ انتخاب 2018ء میں بھرپور طریقے حصہ لیا جائیگا۔ صوبوں میں بھی مرکز سے ہم آہنگی کے ساتھ سیاسی عمل کو تیز کیا جائے گا۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ہم بلا امتیاز عوامی خدمت پر یقین رکھتے ہیں ،اور کراچی سے لے کر خیبر اور گلگت بلتستان تک مثبت انداز میں عملی طورپر سیاسی میدان میں موجود ہیں جس کی بڑی مثال یہ ہے کہ ماضی میں کے پی کے میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں بھی شریک تھے اس سے قبل پی ڈی اے کی حکومت کا بھی حصہ رہے اور اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے بعد دوسری بڑی پارلیمانی جماعت ہے اور ہم مثبت انداز میں آئین کے عین مطابق گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے تحفظ اور عوام کی فلاح و ترقی کیلے کوشاں ہیں ۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ مثبت سیاسی جماعتوں کے ساتھ روابط بڑھانے سمیت اسلامی تحریک پاکستان قومی و صوبائی سطح پر ملک بھر میں انتخابی حلقوں کا جائزہ لے کر مخلص اور مضبوط امید وارسامنے لائے گی اور اس سلسلہ میں مرکزی سیاسی سیل نے کام شروع کر دیا ہے ۔ پہلے مرحلہ میں سیاسی عمل کو بڑھاتے ہوئے ووٹرز کا اندراج اور شناختی کارڈ کے اجرا کے لئے یونٹس سطح تک کارکنان کو فعال کیا جائے گا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزیدکہنا تھا کہ ہم ملک میں موجودہ بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کاباریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے باور کرایا کہ اسلامی تحریک پاکستان کسی قسم کی ایسی منفی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بنے گی جس سے ملک میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ پاکستان میں بھرپور مثبت سیاسی کردار ادا کیا اور قائد اعظم کاپاکستان بنانے کیلئے جمہوری قوتوں کو مثبت کر دار ادا کر نا ہو گا۔ہم آئین کی بالا دستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔