جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ایک منتخب عوامی نمائندے کو ہٹا کر مخصوص سوچ کے حامل ہارے ہوئے شخص کو کامیاب کرایاجارہاہے جوکہ نہ صرف تعجب خیز بلکہ عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کے مترادف ہے جس سے عوام میں شدید تشویش اور ابہام پایا جارہاہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 89 جھنگ 1 میں اچانک تبدیلی پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک سازش کے تحت ملک کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور عام انتخابات میں عوام کے بھرپور اعتماد پر پورا اترنے والے نمائندوں کے مینڈیٹ پر راتوں رات شب خون مارا جارہاہے ،اچانک ایک ایم این اے کو ڈس کوالیفائی کرادیا جاتاہے اور حلقہ 89 جھنگ 1 سے جس طرح ایک ہارے ہوئے مخصوص سوچ رکھنے والے امیدوار کوکامیاب قرار دیاگیاہے جس کی مثال کہیں نہیں ملتی بلکہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج تک ملک و قوم کی بات کی مگر افسوس اب حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ مخالف سوچ رکھنے والوں کیخلاف غلیظ نعرے اور فتوے لگائے جارہے ہیں جبکہ تکفیر کو بڑھاوادینے کے ساتھ ساتھ دہشت گرد تنظیم کے سرغنہ کو آزاد چھوڑ دیاگیاہے، سینکڑوں بے گناہوں کے قتلوں کے اعتراف کرنیوالے قومی مجرموں کو شیلٹر اور تکفیری گروہ کو چور دروازے سے بروز اقتدار کامیاب کرایاجارہاہے ۔ ایک جانب مذاکرات اور دوسری جانب دہشت گردی کی جارہی ہے اس دوغلی پالیسی سے عوام سمیت پاکستان کی داخلی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہونے کا احتمال ہے ۔سینکڑوں دفع پبلک آرڈر کو ڈسٹرب کرنے والے آئین کی شق 62/63 کے زمرے میں آتے ہیں مگر انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور طرح طرح کے حیلے بہانے تراشے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہانسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جن افراد پر بیسیوں مقدمات درج ہوں وہ یقنناًدہشت گرد کہلانے کے زمرے میں آئیں گے اور سینکڑوں افراد کے قاتل جنکی تنظیم کا حصہ ہوں اسے یقینناً دہشت گرد کہا جانا چاہیے، قوم بیرونی پاکستان سے اربوں ڈالر کی ریل پیل اور برآمد ہونے والے شاخسانوں پر مضطرب ہے ،حکمرا نوں کو اب قوم کے اعتراضات کا جواب دینا ہوگا۔قائد ملت جعفریہ نے مزید کہاکہ ہم نے ہمیشہ اتحاد و وحدت کی بات کی مگر کچھ مخصوص عناصر اس فضا کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here