قومی سلامتی و خارجہ پالیسی لازم و ملزوم، ملکی مفاد اور قومی پالیسی کو مقدم رکھا جائے، قائد ملت علامہ ساجد نقوی 
قومی سلامتی و خارجہ پالیسی لازم و ملزوم، ملکی مفاد اور قومی پالیسی کو مقدم رکھا جائے، قائد ملت علامہ ساجد نقوی 

قومی سلامتی و خارجہ پالیسی لازم و ملزوم، ملکی مفاد اور قومی پالیسی کو مقدم رکھا جائے، قائد ملت علامہ ساجد نقوی 

اسرائیلی طیارہ کی مبینہ لینڈنگ ”ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینکنے “ کے مترادف ، عمل کا رد عمل دیکھاگیا، حکومتی

خارجہ پالیسی فی الوقت ابہام کا شکار، حساس معاملات پر سنجیدگی دکھائی جائے، قائد ملت جعفریہ پاکستان 

 راولپنڈی /اسلام آباد29 اکتوبر2018 (جعفریہ پریس  ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں مبینہ اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد ، اپوزیشن کا رد عمل اور حکومتی وضاحتیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ بات کہیں سے چلائی گئی جو چل گئی البتہ اسرائیلی طیارہ کی مبینہ لینڈنگ کی خبر ”ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینکنے“کے مترادف ہے ، جس سے مطلوبہ ارتعاش پیدا ہو گیامزید برآں عرب اسرائیل روابط سے توجہ ا یک حد تک ہٹا دی گئی۔قومی سلامتی پالیسی اور خارجہ پالیسی لازم و ملزوم ہیں ، ملکی مفاد اور قومی پالیسی کو مقدم رکھا جائے، حالیہ خارجہ پالیسی ابہام کا شکار ہے، حساس معاملات پر سنجیدگی دکھائی جائے، باریک و حساس معاملات پر غیر سنجیدگی کا خمیازہ عوام اور معاشرہ سالوں بھگتتا ہے ۔ 

    ان خیالات کااظہار انہوں نے اسرائیلی طیارے کی مبینہ لینڈنگ کی خبروں پر حکومت و اپوزیشن کے آنیوالے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ مبینہ اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد، دس گھنٹے یہاں رکنے یا نہ رکنے بارے اپوزیشن کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا تو حکومت کی جانب سے بھی وضاحت آگئی کہ اس طرح کا کوئی طیارہ پاکستان میں آیا ہی نہیں محض پراپیگنڈہ کیاگیا ، صدر مملکت کی جانب سے بھی وضاحت کی گئی کہ پاکستان اسرائیل کوتسلیم نہیں کررہا،یہ تمام عوامل اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ بات کہیں سے چلائی گئی اور بات زور شور سے چل گئی البتہ بات بننے کی بجائے دوسرا رخ اختیار کرگئی ، یہ اس محاورے کے مترادف ہے جیسے ”ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکرپھینکنا“ کہ دیکھا جائے عمل کا رد عمل کیا ہوتاہے ۔
    علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ حالیہ چند دن میں موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کسی حد تک سامنے آرہی ہیں جن میں ابھی تک ابہام پایا جاتاہے، ایک طرف امداد لی جارہی ہے دوسری طرف ایک تصفیہ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دیا جارہاہے، ایک طرف تعلقات میں برابری کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف کسی مخصوص جانب جھکاﺅ بھی نظر آتاہے ، وزیراعظم اوروزیر خارجہ کے بیانات میں بھی موافقت کی بجائے تضاد ہے اوپر سے مشرقی و مغربی سرحدوں کے ساتھ خطے میں اہم تبدیلیاں رونماہورہی ہیں ،بدلتے عالمی منظر نامہ میں ہمیں بھی اپنی واضح ترجیحات کا تعین کر نا ہوگا کیونکہ قومی سلامتی پالیسی اور خارجہ پالیسی دونوں آپس میں جڑی ہیں تمام فیصلے ملکی اور عوامی مفاد کو ہر معاملے پر مقدم رکھ کر کرنا ہونگے، یہ ایسے باریک اورحساس معاملات ہوتے ہیں کہ ذرا سا جھول یا کوتاہی ایسے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں جس کا خمیازہ پھر عوام اور معاشرے کو سالوں بھگتنا پڑتاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here