• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

محرم الحرام 1436 ھ کے آغاز پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1436 کے آغاز پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ نواسہ رسول اکرم ؐ ‘ محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام پوری امت کے امام اور پیشوا ہیں اور انکی ہمہ جہت اور عہدہ امامت جیسی ذمہ داری پر فائز شخصیت یقیناًاپنا فریضہ سمجھتاتھی کہ جب وہ دیکھیں کہ قرآنی احکامات کا تمسخر اڑایا جارہا ہو۔ اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالا جارہا ہو‘ شریعت محمدی کی جگہ ملوکیت نافذ کی جارہی ہو اور دین اسلام کا حلیہ بگاڑنے کی مہم جاری ہو تو اسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا عظیم الہی او ر قرآنی فریضہ انجام دینا چاہیے اور اس فریضے کی بجاآوری امام عالی مقام کے سفر‘ جدوجہد اور شہادت کا سبب اور مرکز و محور تھی۔یہی وجہ ہے کہ واقعہ کربلا سے الہام اور استفادہ کرنے کا سلسلہ 61 ہجری سے آج تک جاری ہے اور دنیا بھر میں آزادی و حریت پر مبنی تحریکیں حسینیت سے درس حاصل کرکے ظلم و تجاوز کے خلاف برسرپیکار ہیں کربلا کی مرہون منت نظر آتی ہیں
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ چونکہ عزاداری سید الشہداء ؑ و جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے اس لئے ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی‘ قانونی‘ مذہبی اور شہری حق ہے جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ محرم الحرام کسی جنگ، خوف یا بدامنی کا پیغام بن کر نہیں آ رہا ہے بلکہ ایام عزاء مسلمانوں کے درمیان دین محمدیؐ اور اہلبیت محمد ؐ کی محبت وعقیدت میں اضافے اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک حسین موقع کے طور پر آتا ہے لہذا سرکاری سطح پر محرم الحرام کو خوف کی علامت اور انتشار کا باعث قرار دینا محرم کے تقدس کی نفی کرتا ہے اس صورت حال کا خاتمہ کرنا ریاست‘ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے ریاست اور حکومت کے ذمہ داران پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایام عزا میں مصنوعی خوف و ہراس پھیلانے‘ مراسم عزاداری میں رکاوٹیں ڈالنے‘ کرفیو اور سنگینوں کے سائے تلے عزاداری منعقد کرنے جیسے اقدامات سے گریز کیا جائے بلکہ ریاستی مشینری کو دہشت گردی اور شرپسندوں کی سرکوبی کرنے اور امن و امان کے قیام کے لئے استعمال کیا جائے ۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ ایام محرم الحرام کے دوران تمام مسالک کے علماء ‘ خطباء ‘ مقررین‘ ذاکرین ‘ رہنماؤں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ عوام کو اتحاد بین المسلمین‘ وحدت امت اور امن و امان کی طرف متوجہ کریں اور ایک دوسرے کے عقائد و نظریات کا احترام کرنے کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ تحمل‘ برداشت اور تعاون کا ماحول پیدا کریں‘ دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں سے لاتعلقی کا اعلان کریں‘ دہشت گردوں ‘ فرقہ پرستوں‘ مذہبی جنونیوں اور شرپسندوں کے عزائم خاک میں ملانے کے لئے وحدت کو فروغ دیں۔ حکومت کے مثبت اقدامات میں تعاون کریں۔ امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں میں اپنا بہترین کردار ادا کریں تاکہ محرم الحرام بخیر و خوبی اور امن و آشتی کے ساتھ گزرے اور مستقبل میں بھی مکمل طور پر اتحاد و وحدت کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذاوراسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔