• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

ملتان میں منعقدہ تحفظ مدارس دینیہ کنونشن میں طے شدہ غیر ضروری مسائل کو چھیڑا گیا ہیں وفاق المدارس الشیعہ

جعفریہ پریس – وفاق المدارس الشیعہ کی ملک بھر کے بزرگ علماء پر مشتمل ’’مجلس اعلٰی‘‘ و مرکزی کابینہ کے آج جامعہ المنتظر میں منعقدہ اجلاس میں یوم پاکستان کو تحفظ پاکستان کی تجدید قرار دیا گیا۔ آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں جامعہ الکوثر اسلام آباد کے سربراہ علامہ شیخ محسن علی نجفی، قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی . جامعہ المنتظر کے مہتمم اعلٰی علامہ سید نیاز حسین نقوی، وفاق المدارس الشیعہ کے جنرل سیکرٹری علامہ محمد افضل حیدری، کراچی سے علامہ علی ناصر مہدوی، علامہ سید فیاض حسین نقوی، میر پور خاص سے مولانا محسن مہدوی، کوئٹہ سے مولانا جمعہ اسدی، ڈیرہ اسماعیل خان سے علامہ محمد رمضان توقیر و دیگر علماء نے شرکت کی۔اجلاس میں حکومت کی نیشنل سکیورٹی پالیسی میں مدارس سے متعلق بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ گذشتہ دنوں ملتان میں منعقدہ تحفظ مدارس دینیہ کنونشن کے اعلامیہ میں ذکر شدہ بعض مسائل کو غیر ضروری اور طے شدہ قرار دیا گیا۔ مجلس اعلٰی نے قرار دیا کہ مذہبی رسومات وغیرہ کا مذکورہ کنونشن کے اہداف سے کوئی ربط نہیں اور نہ ہی یہ مدارس کے فورم کے مسائل ہیں۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں، اس ضمن کئی قوانین موجود ہیں، جن پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ فرقہ وارنہ مسائل ہوں یا دہشتگردی، اصل ضرورت قانون پر عمل درآمد کی ہے۔ ملک میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ قانون موجود ہے مگر عمل نہیں ہو رہا۔ مذہبی رسومات کو محدود کرنے کا مطالبہ اسلامی، ملکی و سماجی راویات کے منافی اور ناقابل قبول ہے۔ اجلاس میں دہشتگردی کے تازہ سانحات کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔