• علامہ شبیر حسن میثمی کی اسپیکر قومی اسمبلی
    راجہ پرویز اشرف سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات
  •  متنازعہ فوجداری ترمیمی بل کو یکسر مستردکرتے ہیں ، شیعہ علماءکونسل پاکستان
  • متنازعہ ترمیمی بل: علماء و ذاکرین مشاورتی اجلاس کل کراچی میں منعقد ہوگا
  • مقدس کتاب قرآن مجید کی بے حرمتی ی شدید مذمت کرتے ہیں سید راشد حسین نقوی
  • بزرگ علمائے تشیع نے متنازعہ ترمیمی ایکٹ کو مسترد کردیا اعلامیہ جاری
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان ضلع ملتان کا ورکر کنونشن منعقد ہوا جس میں مولانا اعجاز حسین بھشتی ضلی صدر ملتان منتخب ہوئے
  • شیعہ علماء کونسل کی زیر نگرانی متنازعہ بل کے سلسلے میں مختلف جماعتوں کا اجلاس
  • علامہ اسد اقبال زیدی کا ضلع دادو کادورہ اسلامی تحریک کے کارکنان سے ملاقات
  • توہین کے متنازعہ بل کو مسترد کرتے ہیں علامہ رمضان توقیر
  • قومی اسمبلی میں متنازعہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہیں جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

تازه خبریں

ملت جعفریہ پاکستان فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 2021ءمسترد کرتی ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان

ملت جعفریہ پاکستان فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 2021ءمسترد کرتی ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان

ملت جعفریہ پاکستان فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 2021ءمسترد کرتی ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان
جب تک توہین اور دیگر عناوین کی تعریف، حدود و قیود کو مشخص اورواضح نہیں کیا جاتا کسی قسم کی قانون سازی مزید نفرت کو فروغ دے گی، ترجمان
ایسی کوئی بھی قانون سازی قبول نہیں جو معاشرے میں بدامنی، انتشار، تفریق اور تقسیم کا موجب بنے،فوجداری ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہر نوع کی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں
اسلام آباد /راولپنڈی18 جنوری 2023ء(جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے ترجمان نے کہاہے کہ ملت جعفریہ پاکستان فوجداری ترمیمی بل 2021ءکے ذریعے 298 اے میں قومی اسمبلی سے ہونے والی ترمیم کو مسترد کرتی ہے۔توہین اور دیگر عناوین کی تعریف،اس کی حدود و قیود کو مشخص اور واضح کئے بغیر کسی قسم کی قانون سازی یکطرفہ اورمتصبانہ سوچ کو عوام پر مسلط کرنے کے مترادف ہے ۔قومی اسمبلی میں پاس کیے گئے متنازعہ بل پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ ترمیم ملکی داخلی سلامتی کےلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی اور ایسی کوئی بھی قانون سازی معاشرے میں بدامنی، انتشار، تفریق اور تقسیم کا موجب بن سکتی ہے۔جس کی کوئی باشعور اور ذمہ دار پاکستانی ہر گز اجازت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اس اہم ترمیم کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیاگیا جو کہ افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ امر ہے تاہم انہوں نے ایوان بالا کے ارکان سے اپیل کی کہ وہ اس متصبانہ ترمیم سے آگاہ رہیں اور معاملے پرسنجیدگی سے غورکرکے اسے منظور نہ ہونے دیں۔ بصورت دیگر اس ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہر نوع کے اقدام کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ترجمان قائد ملت جعفریہ پاکستان نے گزشتہ روز فوجداری ترمیمی بل 2021ءکے ذریعے 298 اے کے قانون میں ترمیم کے بل کی قومی اسمبلی سے منظور ی کو ملک میں امن وامان کی صورتحال سبوتاژ کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی قانون سازی تکفیری انتہاءپسندوں کے ہاتھ میں ایک تیز دھار خنجر اور دھماکہ خیز مواد سونپنے کے مترادف ہوگا کیونکہ ماضی میں اس کا مشاہدہ کیا جاچکاہے کہ گڑھے مردے اکھاڑ کر اور غلیظ مہم اور نفرت انگیزنعروں کے ذریعے نہ صرف فرقہ واریت کا بازار گرم کیا گیا بلکہ نفرت کا ایسا لاوہ پکایا گیا جس نے ملک میں دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اورکشت و خون کا بازار گرم کیاجسے ٹھنڈا کرنے میں حکمران آج تک ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہاکہ اس مسود ہ بل پر چند افرادسے دستخط لیئے اورایسا متنازعہ،متعصبانہ اور منفی عمل و اقدام اٹھایاگیا جس کے نتائج معاشرے پر انتہائی مضر ثابت ہونگے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری قیادت کئی عشروں سے متفقہ قانون سازی کےساتھ ساتھ معاشرے میں مذہبی سیاسی ہم آہنگی اور یکجہتی کے حوالے سے نہ صرف اپنا کلیدی کردا ادا کرتی آئی ہے بلکہ ہمیشہ ایسی متنازعہ قانون سازی سے قوم کو بچانے کے لیے حکمرانوں کو متوجہ کرتی رہی ہے تاکہ معاشرے میں تقسیم اورنفرت کو پنپنے کا موقع ملے نہ ہی فتو¶ں اور تکفیر کے لیے راہ ہموارہواورداخلی امن سلامتی قائم رہے۔ترجمان نے آخر میں چیئرمین سینیٹ آف پاکستان اور سینیٹرز (ارکان ایوان بالا)کو بھی متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ یہ داخلی سلامتی کا ایشو ہے اورحساس ترین معاملہ ہے امید ہے اس پر آنکھیں بند کرکے منظوری یا دستخط نہیں کئے جائینگے بلکہ ایسے مسودہ کو مسترد کر کے ملک و قوم کو مزید انتشار، تقسیم اور نفرت میں مبتلا کرنے سے بچایا جائے گا۔