تازه خبریں

ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ،لیکن جمہوری ادارے آج بھی کمزور اور بے اختیار ہیں ، قائدملت جعفریہ پاکستان

ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ،لیکن جمہوری ادارے آج بھی کمزور اور بے اختیار ہیں ، قائدملت جعفریہ پاکستان
ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ،لیکن جمہوری ادارے آج بھی کمزور اور بے اختیار ہیں ، ساجد نقوی
عوام کا جمہوری اداروں پر اعتماد بحال کرنے کےلئے بے لاگ احتساب کا عمل شروع کرنا ہوگا ،قائد ملت جعفریہ پاکستان اسلام آباد07اگست 2016ء
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ایوان بالا کے 44 سال مکمل ہونے پر سینیٹ آف پاکستان کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کےلئے پارلیمان کو با اختیار بنانا ہوگا، ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے لیکن جمہوری ادارے اور حکومتیں آج بھی کمزور اور بے اختیار ہیں،صرف الفاظ تک پارلیمان کی بالادستی قائم ہے ، ملک و قوم کے مستقبل کے فیصلے صحیح معنوں میں پارلیمان کو جرات مندانہ انداز میں کرنے چاہئیں، بے لاگ اور بلا امتیاز احتساب کےلئے اقدامات وقت کی ضرورت ۔
ان خیالات کا اظہارانہوںنے سینیٹ آف پاکستان کے چوالیسویں یوم تاسیس پر اپنے تہنیتی پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے اس موقع پر خصوصی اجلاس بلانے پر ایوان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے اقدامات سے پارلیمان کی اہمیت اجاگر ہوگی ، ان کا مزید کہنا تھا کہ سینیٹ نے جس طرح پبلک پٹیشن سننے کے حوالے سے اقدام اٹھایا وہ بھی لائق تحسین ہے اور عوام میں پارلیمان کا اعتماد ایسے اقدامات سے بحال ہونے میں بھی یہ اقدام معاون ثابت ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آئین بالادستی اور قانون کی حکمرانی ہے، افسوس آج تک اس حوالے سے عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے، شہری آزادیوں پر نت نئے طریقو ںسے پابندی عائد کردی جاتی ہے، ماضی میں بھی مارشل لاﺅں، صدارتی حکم ناموں اور بعض اوقات نظریہ ضرورت کے تحت ایسے اقدامات اٹھائے جاتے جارہے جس سے جمہوری، شہری اور بنیادی آزادیاں سلب ہوتی رہیں لیکن چند دلکش نعروںکے سوا کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا، بڑے بڑے واقعات، سانحات رونما ہوئے، ایوان میں متفقہ قراردادیں بھی منظور ہوئیں، سفارشات بھی تیار کی گئیں ، اہم رپورٹس ٹیبل ہوئیں لیکن افسوس کے ساتھ ان قراردادوں پر عملدرآمد 10 فیصد بھی نہیں ہوا نہ ہی عوام کو حقائق سے آگاہ کیاگیا ۔
انہوںنے کہاکہ پارلیمان عوام کا منتخب ادارہ ہے، عوام کی توقعات بھی اسی سے منتخب ادارے سے وابستہ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان کو صحیح معنوں میں بالادست اور با اختیار بنانے کےلئے تمام سنجیدہ قوتوں کو اکٹھا ہونا ہوگا اور ملک و قوم کو درپیش مسائل اور بحرانوں بارے حقائق سے بھی آگاہ کرنا ہوگا ،افسوس ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ لوگوں کو حقائق کا علم تک نہیں ہوتا یا انتہائی اہم تمام معاملات کو عوام سے مخفی رکھا جاتا ہے، امید ہے اب سنجیدہ قوتیں اس جانب متوجہ ہونگی کیونکہ ملک کا مستقبل جمہوریت اور جمہوری اداروں سے وابستہ ہے، جمہوریت کی مضبوطی کےلئے اب خود احتسابی کا عمل شروع کرنا ہوگا تاکہ اس جانب اٹھنے والے سوالات کا موثر جواب بھی دیا جا سکے۔