• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

ملک کی داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ کافی عرصے سے معطل سزائے موت کے قانون پرفوری عمل درآمد اورملک کے دیگرحصوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے

 جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پرعلی آباد ہزارہ ٹائون کوئٹہ اور کوہاٹ میں دہشت گردانہ دھماکوں اور حالیہ سیلاب کی ہولناکیوں کے باعث عید الاضحی انتہائی سادگی سے منائی گئی۔ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سیالکوٹ ورکنگ بائونڈری اورلائن آف کنٹرول پرمسلسل بھارتی جارحیت افسوسناک ہے۔ کھلم کھلا جارحیت بین الاقوامی سفارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے ملکی خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی ‘  8  اکتوبر کے زلزلے کو9 سال بیت گئے مگر متاثرین بحالی کا کام مکمل نہ ہوسکا’ سفیرامام حسین  حضرت مسلم بن عقیل  کے کمسن فرزندان کی شہادت درحقیقت لازوال قربانی’ جانثاری اور نظریے و ہدف سے گہری وابستگی کی علامت ہے’   سانحہ کوہاٹ اور کوئٹہ کو ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا نشان ہے۔ ملک کی داخلی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ایک تو گذشتہ کافی عرصے سے معطل شدہ سزائے موت کے قانون پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے  اور دوسرا ملک کے دیگر حصوں میں بھی دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کیا جائے۔
مختلف علاقوں سے آئے علمائے کرام’ عمائدین قوم اور اکابرین ملت سے گفتگو کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ ہزارہ ٹاؤن چاروں اطراف سے ایف سی بلوچستان کے حصار میں تھا، علاقے میں اتنی بھاری سکیورٹی ہونے کے باوجود دہشتگردی کے اس واقعے کا رونما ہونا، ریاستی اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔اگر پچھلے سانحات کی تحقیقات کرکے رپورٹ کو منظر عام لایا جاتا اور خونی دہشتگردوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا آج ملک بھی میں اس قسم کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑتا لیکن افسوس سے دیکھ رہے ہیں کہ انتظامیہ دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی بجائے دباؤ میں آکر قاتلوں کو رہا کر کے مقتولین پر ہی ہاتھ ڈال رہی ہے جو کہ سراسر ظلم اور زیادتی اورنا انصافی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا کہ ملک کے عوام شدید عدم تحفظ کے احساس سے دوچار ہیں اور ریاستی اداروں سے یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر ارض پاک کو کیوں معصوم اور بے گناہ انسانوں کی قربان گاہ بنادیا گیا ۔اگر قصاص کے قرآنی قانون اور اصول پر عمل پیرا ہوکر اعلی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے قاتلوں اور دہشت گردوں کی سزائوں پرعمل درآمد ہوتا اور وہ تختہ دار پر لٹکائے جاتے تو ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملتی ۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس کا ہم سختی سے نوٹس لے رہے ہیں کہ سزائے موت کیوں نہیں دی جارہی ، ٹارگٹ کلنگ مسلسل جاری ہے لوگ مارے جارہے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے ؟۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف کاروائی کرکے ان کا خاتمہ کیا جانا چاہیے،آخرمیں قائد ملت جعفریہ نے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتے ہوئے ورثا اور لواحقین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔