• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام دوسری عالمی اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد،قائد ملت جعفریہ پاکستان کی خصوصی شرکت اور خطاب

  جعفریہ پریس – منگل کے روز اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام دوسری عالمی اتحاد امت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کونسل کی نمائندہ جماعتوں کے وفود کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان سے بھی مندوبین نے شرکت کی۔ ایرانی وفد میں آقائے سید مہدی علیزادہ موسوی اور حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمود وزیری شریک تھے۔  کانفرنس میں ملک و بیرون ملک کے مختلف مسالک کے جید علمائے کرام، یونیورسٹیز کے پروفیسرز و دیگر نے خطاب کئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ کچھ لوگ اپنے پیٹ کی خاطر امت میں افتراق ڈالتے ہیں، ہمیں تفرقہ پرستوں سے برات کا اظہار کرنا ہوگا، ہر مسلک میں ایسے افراد موجود ہیں جو دوسرے مسالک کی توہین و تکفیر کرتے ہیں، اگر دینی جماعتیں اکٹھی ہوجائیں تو نظام مصطفٰی ؐ کا سورج ضرور طلوع ہوگا۔
عالمی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نمایندہ ولی فقیہ قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ امت مسلمہ خصوصاً پاکستان کو بےشمار مسائل کا سامنا ہے، جس کا حل صرف اتحاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ  ان حالات میں ملک کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے مگر افسوس اس ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی اور تفرقہ پرستوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ہے تاکہ اتحاد کا کردار ادا نہ ہوسکے، ہمیں تمام مسالک و مذاہب کے مقدسات کا احترام کرنا ہوگا اور اس پلیٹ فارم کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔
اسلامی تحریک پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرقہ واریت جیسے زہریلے پروپیگنڈے کے باعث امت مسلمہ کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔ کم خواندہ اور ناخواندہ لوگ قوم کو آپس میں لڑانے کے درپے ہیں، قرآن پاک آخری آسمانی کتاب ہے، جس پر پوری امت متفق و متحد ہے، اس معاملے پر افتراق کی بات نہ کی جائے۔ شیعہ علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ عارف واحدی نےکہا کہ خارجی قوتیں اس ملک میں امن نہیں چاہتیں آج فلسطین، بحرین، افغانستان اور شام میں مسلمانوں کی عزت اور جان محفوظ نہیں۔ علامہ عارف واحدی نےکہا کہ ہماری خواہش تھی کہ اس عالمی کانفرنس میں ایران اور سعودی عرب سے وفود شرکت کریں تاکہ ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاسکے، مشترکہ کوششوں سے ایران و سعودی عرب کے اختلافات ختم نہ بھی ہوں تو کم ضرور ہوجائینگے-
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب میں فاصلے استعمار کے مفاد میں ہیں، عالم اسلام کو اکٹھا ہونا ہوگا، ملک میں مسلح ہی نہیں معاشی دہشت گردی بھی ہو رہی ہے، پانچ فیصد افراد نے تمام ملکی وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے، دنیا میں سرمایہ دارانہ، جاگیردارانہ نظام ناکام ہوچکا ہے، اب اللہ کے نظام کے نفاذ کی باری ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کو اپنی اپنی پراکسی وارز ختم کر دینا چاہئیں اور اتحاد کیلئے کام کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ  ہمیں یکم سے 10 محرم الحرام تک عشرہ وحدت منانا چاہیے پھر فرقہ واریت جڑ سے اکھڑ جائیگی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ کیا ہم ملی یکجہتی کونسل کے متفقہ ضابطہ اخلاق پر عمل پیرا ہیں؟ اب تک ملی یکجہتی کونسل نے کیا کردار ادا کیا؟، سالانہ رپورٹ پیش ہونا چاہیے تھی اور بتایا جائے کہ کونسے معاملات وجہ تصادم بنتے ہیں۔
پیرعبدالشکور نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 1995ء میں بنائے گئے ضابطہ اخلاق پر تمام اکابرین امت متحد ہیں، ملی یکجہتی کونسل نے ہر کڑے وقت میں کردار ادا کیا، رپورٹس کی بات نہ کی جائے، ہمارے اجتماعات اور کانفرنسیں اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیائے کفر آج متحد ہے، افسوس امت مسلمہ بکھری بکھری ہے، صرف اتحاد سے ہی کفریہ طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، ایک سازش کے تحت ایران، سعودی عرب، پاکستان اور خلیجی ممالک میں فرقہ واریت کو ہوا دی جا رہی ہے، ہمیں اس امریکی و استعماری سازش کو ناکام بنانا ہوگا، ہمیں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی بجائے اپنی تجارتی منڈیاں اور اپنی اقوام متحدہ بنانا ہوگی، کسی بھی فرقے پر حملہ اسلام پر حملہ ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ مکتب تشیع سے ہمارا اختلاف فروعی نہیں بلکہ اصولی ہے، ہم قرآن مجید کی تحریف قائل نہیں ہیں جبکہ شیعہ حضرات قرآن مجید کی تحریف کے قائل ہیں۔ مکتب تشیع کی کتب میں روایات ملتی ہیں کہ قرآن پاک میں تحریف کی گئی ہے، اس حوالے سے اہل تشیع اپنا نکتہ نظر واضح کریں، یہی چیز ہے جو تکفیری نعروں کا باعث بنتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مکتب تشیع بتائے کہ عزادری کی حیثیت کیا ہے، کیا ان کے نزدیک یہ واجبات دینیہ میں شمار ہوتی ہے ،انہوں نے کہا کہ جب تک ہم کھل کر بات نہیں کرینگے تو مسائل حل نہیں ہونگے، ہمارے درمیان بحث علمی ہونی چاہیے۔
مفتی تقی عثمانی کی متنازعہ گفتگو پر اہل تشیع کے تمام علماء نے اپنی تقاریر میں اس موضوع کو اٹھایا اور دو ٹوک موقف اپنایا، ملی یکجہتی کونسل کے رہنما ثاقب اکبر نے مفتی محمد تقی عثمانی کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اجداد اور باپ دادا اسی قرآن کے قائل تھے، پوری دنیا میں اہل تشیع اسی قرآن مجید کو پڑھتے ہیں اور قبول کرتے ہیں جو حضرت عثمان (ر) کے دور میں جمع کیا گیا، بغیر کسی تحقیقات کے ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جس میں کوئی حقیقت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم تقی عثمانی صاحب کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ آئیں اور ثابت کریں کہ اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں، کسی ایک روایت کو پکڑ کر رائے قائم کرنا درست عمل نہیں ہے، ہمارے تمام علماء کرام نے ایسی روایات کو قبول نہیں کیا ہے، اگر روایات پر ہی رائے قائم کرنی ہے تو خود اہل سنت کی کتب میں کئی ایسی روایت موجود ہیں جن میں تحریف قرآن کا ذکر ملتا ہے۔
وفاق المدارس الشیعہ کے نائب صدر علامہ سید نیاز حسین نقوی نے کہا کہ شام اور بحرین میں شیعوں کے ساتھ جبکہ مصر میں اہل سنت کو نشانہ بنایا گیا لیکن افسوس اس ظلم و زیادتی پر احتجاج نہ کیا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ مصر میں اخوان کی حکومت کو گرانے کے لئے کس نے پیسہ دیا، ہم ان طاقتوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی تقی عثمانی کے بیان پر انتہائی افسوس ہوا۔ اہل تشیع کے ہاں وہی قرآن ہے جو اہل سنت کے پاس ہے۔ ہر روز پاکستان کے گلی کوچوں میں جلوس نکالے جاتے ہیں لیکن سال میں ایک دن نواسہ رسول (ص) کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے نکالے جانے والے جلوس کے خلاف بات کرنا انتہائی قابل مذمت ہے، ایسی باتوں سے جذبہ وحدت ماند پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔
جماعتِ اسلامی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اُمتِ مسلمہ پوری انسانیت کے لیے تیار کی گئی ہے۔ آج 65 لاکھ سے زیادہ افواج اور دنیا کے ایک بہت بڑے حصے کے مالک ہونے کے باوجود مسلمان دنیا بھر میں غیروں کی سازشوں کا شکار ہیں اور ہر طرف مسلمانوں ہی کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہے۔  ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ مسلمانانِ پاکستان اپنا ایک لائحہ عمل ترتیب دیں، جس کے تحت سب سے پہلے ملی یکجہتی کونسل کو متحرک و فعال بنایا جائے کیونکہ اس کونسل کا ماضی شاندار ہے۔ دوسرے مرحلے میں ملک کے اندر نفاذِ شریعت کے حوالے سے تمام مسالک کے متفقہ بائیس نکات کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ نیز اسلامی ممالک کے اندر جاری مہمات کا قلع قمع کیا جائے۔ اور آخر میں یہ کہ اتحادِ اُمت کے پیش نظر ”شانِ صحابہؓ “ اور ”شانِ اہلبیت کانفرنسیں منعقد کی جائیں۔
ملی یکجہتی کونسل نے مسلم اقوام متحدہ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے پانچ نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اتحاد امت سے ہر سازش ناکام بنائی جاسکتی ہے، اغیار کو باور کرایا جائے کہ اسلام پیغام رحمت ہے، عالم اسلام خصوصاً پاکستان سے تکفیریت کے خاتمے کیلئے مذہبی جماعتوں، اسلامی تحریکوں، علماء و مشائخ عظام کو کردار ادا کرنا ہوگا، تمام مسالک کے اکابرین، مقدسات کا احترام لازم اور ایسی تقاریر و تحاریر سے گریز کیا جائے جو وجہ انتشار بنیں، فلسطین و کشمیر امت کے بڑے مسائل، افغانستان، عراق اور شام میں عالمی استعماری قوتیں کارفرما، مصر و بنگلہ دیش کی عوام ظلم و تشدد کا شکار جبکہ پاکستان، ایران، سعودی عرب، بحرین اور ترکی بیرونی سازشوں کی زد میں ہیں، برما کے مسلمانوں کی نسل کشی پر عالم اسلام رنجیدہ و پریشان ہے، یو این او، یورپی یونین کی طرز پر مسلمان ممالک اپنے خود مختار ادارے بنائیں، عظمت انبیاء کا تحفظ ہو، استعماری قوتوں کے پروردہ باغیان ختم نبوت کے خلاف موثر لائحہ عمل مرتب کرکے ان کے ناپاک عزائم اور سازشوں کو ناکام بنا دیا جائے اور زوال پذیر مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں عالمگیر اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے عالم اسلام، اسلامی ممالک اور صاحبان ایمان میں نشاۃ ثانیہ کی عوامی تحریکوں کو صحیح خطوط پر گامزن کرنے کی ذمہ داری ادا کی جائے، ملک کے تمام مسالک، مدارس دینیہ، علماء و مشائخ و پیران عظام ملی یکجہتی کونسل پر یکجا ہیں، ہم قرآن و صاحب قرآن کے احکامات کی پابندی، انصاف و اتحاد اور برداشت و ہم آہنگی کو فروغ دینگے۔